مستونگ کے اسسٹنٹ کمشنر عطاء المنعم کے مطابق، دھماکا مدینہ مسجد کے قریب الفلاح روڈ پر ہوا جہاں لوگ میلاد النبیؐ کے جلوس میں شرکت کرنے کے لئے مجمع اکھٹا ہورہا تھا۔
دھماکے کے نتیجے میں 45 افراد جاں بحق جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوگئے
پولیس کے مطابق، جاں بحق افراد میں ڈی ایس پی محمد نواز گشکوری بھی شامل ہیں
سکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیوں کی مدد سے زخمیوں کو نواب غوث بخش اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
دھماکے کے بعد، مستونگ کے علاوہ کوئٹہ کے سول اسپتال میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے
تمام طبی اسٹاف ایمرجنسی ڈیوٹی پر طلب کر لیے گئے ہیں
ترجمان سی ٹی ڈی : مستونگ میں ہونے والا دھماکا خودکش تھا
وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیموں کو مستونگ روانہ کردیا گیا ہے
شدید زخمیوں کوکوئٹہ منتقل کیاجا رہا ہے
متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث مستونگ دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد کے بڑھنے کا خدشہ ہے
صوبائی حکومت زخمیوں کے علاج معالجے کے تمام اخراجات برداشت کرےگی
ضرورت پڑی تو شدید زخمیوں کی فوری طبی امداد کے لئے کراچی منتقلی کا انتظام کیاجائے گا
محکمہ صحت کی جانب سے کراچی کے اسپتالوں سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے
جان اچکزئی نے مستونگ دھماکے کے زخمیوں کے لیے خون عطیہ کرنے کی اپیل بھی کی ہے