پاکستان میں اسموگ اور فضائی آلودگی (پی ایم2.5) شہریوں کی صحت کے لیے خطرناک، ٹریفک اور صنعتیں آلودگی بڑھا رہی ہیں۔

ویب نیوزرپورٹ: فرحین العاص
اسلام آباد : کئی سالوں سے ہم سردیوں میں ایک ہی مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں، اور وہ ہے دھواں، دھند اور اسموگ ۔ اس دوران اسپتال مریضوں سے بھر جاتے ہیں، اسکول بند ہو جاتے ہیں اور سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہاں یہ سوال بہت اہم ہے کہ کہ آیا یہ آلودگی ہم خود پیدا کرتے ہیں یا یہ سرحد پار سے آ رہی ہے؟
ماحولیاتی سائنسدان حسان بن سعادت کے مطابق، اسموگ صرف بیرونی مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان میں اسموگ کی سب سے بڑی وجہ ٹریفک ہے ۔ تقریباً 80 فیصد آلودگی ٹرانسپورٹ سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس میں سرحد پار آ لود گی 5 سے 10 فیصد کردار ادا کرتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال اکتوبر سے فروری کے درمیان ایسے موسمی حالات پیدا ہوتے ہیں جن میں آلودگی فضا میں ٹھہر جاتی ہے ۔ اس دوران مشرقی سمت سے آنے والی ہوائیں بھارت سے پاکستان تک دھواں بھی لے کرآتی ہیں ۔ خاص طور پر جب فصلوں کی باقیات کو آگ لگائی جاتی ہے تو اس کا دھواں پاکستان تک پہنچتا ہے اور آلودگی میں اضافہ کرتا ہے ۔ تاہم اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے ۔
ماہر ماحولیات اس بحث میں ہوا کی سمت کو بھی اہم قرار دیتے ہیں۔ ڈائریکٹر سی اے سی اورماہر ماحولیات یاسر حسین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ہوائیں پاکستان سے بھارت کی طرف جاتی ہیں اور کبھی بھارت سے پاکستان کی طرف آتی ہیں ۔
سیٹلائٹ تصاویر اور ایپس میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ہواؤں کا رخ بدلتا رہتا ہے ۔ اس لیے صرف یہ کہنا کہ سارا دھواں بھارت سے آتا ہے، درست نہیں ۔ انہوں نے زور دیا کہ اسموگ پر قابو پانے کے لیے ہمیں اپنا نظام درست کرنے کی ضرورت ہے ۔
پنجاب انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نعمان احمد کے مطابق، تقریباً 30 فیصد آلودگی بھارت سے پاکستان آتی ہے جو اسموگ کا باعث بنتی ہے، اسی طرح پاکستان سے بھی کچھ آلودگی بھارت کی طرف جاتی ہے ۔ بنیادی طور پر آ لودگی کبھی یہاں سے وہاں جاتی ہے اور کبھی بھارت سے پاکستان آ تی ہے ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چونکہ بھارت میں پاور پلانٹس اور صنعتیں زیادہ موجود ہیں اور ان کی آلودگی بھی پاکستان کی فضا پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ جب ہواؤں کا رخ بھارت سے پاکستان کی طرف ہوتا ہے تو ہمارا ایئر کوالٹی انڈیکس تیزی سے خراب ہو جاتا ہے ۔
پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو اور محکمہ موسمیات کی رپورٹس کے مطابق سال 2017 سے 2025 تک آلودگی تقریباً ہر سال خطرناک حد کو چھوتی رہی ہے ۔ اگرچہ 2025 میں کچھ کمی دیکھی گئی، لیکن بڑے شہروں میں فضائی آلودگی اب بھی عالمی معیار سے کہیں زیادہ ہے ۔

پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے مرتب کردہ گزشتہ 10 سالہ ڈیٹا
کے مطابق، پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی
پی ایم2.5 کی سطح مسلسل عالمی ادارہ صحت کے مقرر کردہ
حفاظتی معیارات سے کئی گنا زیادہ رہی ہے ۔
شہروں کے لحاظ سے 10 سالہ جائزہ (2016 تا 2025)
لاہور پنجاب کا آلودہ ترین شہر ہے جہاں فضائی آلودگی کی صورتحال انتہائی تشویشناک رہی ہے ۔ سن 2017 میں آلودگی کی سالانہ اوسط 276.4 ریکارڈ کی گئی، جو حالیہ برسوں میں کم ہو کر 104.6 (2024) تک آئی ہے، لیکن یہ اب بھی انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے ۔
خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور بھی آلودگی کی لپیٹ میں ہے ۔ یہاں سن 2021 میں آلودگی کی بلند ترین سطح 101.3 ریکارڈ کی گئی، جبکہ سن 2024 میں یہ 95.8 رہی ۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں سن 2019 میں آلودگی غیر معمولی طور پر بڑھ کر 128.7 تک جا پہنچی تھی ۔ سن 2024 میں یہاں کی اوسط 54.4 ریکارڈ کی گئی ہے ۔
پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی ساحلی شہر ہونے کے باوجود آلودگی اوسط 44 سے 58 کے درمیان رہی ہے، جو سمندری ہواؤں کے باوجود صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔
اعداد و شمار کا موازنہ
پاکستانی قوانین این ای کیو ایس کے مطابق، ہوا میں پی ایم 2.5 کی سالانہ حد 15 سے 25 ہونی چاہیے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ صرف 5 ہونی چاہیے ۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں یہ سطح مقررہ حد سے 5 سے 20 گنا زیادہ ہے ۔
دس 10 سالہ ڈیٹا کا خلاصہ (پی ایم 2.5 کی سطح)
پاکستان ایئر کوالٹی انیشیٹو کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ ”اَن ویلنگ پاکستانس ائیر پولوشن ‘‘ نے ملک میں فضائی آلودگی کو ایک انسانی بحران اور ”قومی ایمرجنسی“ قرار دیا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق، زہریلی ہوا ایک اوسط پاکستانی کی زندگی میں 3.9 سال کی کمی کر رہی ہے ۔ صحت اور معیشت پراثرات کا جائزہ لیا جائے توفضائی آلودگی پاکستان میں سالانہ تقریباً 2 لاکھ 56 ہزار قبل از وقت اموات کا باعث بن رہی ہے ۔ یہ نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہے بلکہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوارجی ڈی پی کو بھی سالانہ 6.5 سے 9فیصد تک نقصان پہنچا رہی ہے ۔

آلودگی کے بڑے ذرائع کی بات کی جائے تو رپورٹ کے مطابق، ٹرانسپورٹ (گاڑیوں کا دھواں)، صنعتیں، اور کوڑے کرکٹ کو آگ لگانا آلودگی کے بنیادی اسباب ہیں ۔ لاہور میں آلودگی کا 35 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ اور 28 فیصد صنعتوں سے آتا ہے ۔
یہ رپورٹ محکمہ موسمیات کے دھند کے اعداد و شمار کا خلاصہ پیش کرتی ہے۔
حیران کن طور پر فیصل آباد د میں دھند کی شرح تینوں شہروں میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے ۔ دھند کے ایّام میں سن 2024 میں فیصل آباد میں شدید دھند کے 45 دن ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ دہائی میں سب سے زیادہ ہیں ۔
جب کہ جنوری سن 2021 میں شدید دھند کے 20 دن ریکارڈ ہوئے، اور جنوری سن 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 24 دن ہو گئی ۔ دوسری جانب سن 2023 میں ہلکی دھند (آسمان نظر آنے والی) کے ایام کی تعداد 40 تک پہنچ گئی تھی ۔
لاہور میں اسموگ اور دھندکے بڑھتے ہوئے تناسب کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ، شدید دھند میں اضافہ ہوا ہے، جو براہ راست پے ای قیو آئی کے اسموگ ڈیٹا سے مطابقت رکھتا ہے ۔

لاہور میں شدید دھند (اسکائی ناٹ سین) سن سال 2016 میں 13 دن تھی، جو سال 2024 میں بڑھ کر 39 دن ہو گئی ۔ اگر حالیہ رجحان کو دیکھا جائے تو 2022 میں لاہور میں کل 34 دن دھند ریکارڈ کی گئی (11 دن ہلکی اور 23 دن شدید) ۔
اسلام آباد اور پشاور: علاقائی موازنہ
اسلام آباد میں دھند کی شرح دیگر شہروں کے مقابلے میں کم رہی ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، سال 2017 تا 2018 میں شدید دھند کے ایام کی تعداد صفر ریکارڈ کی گئی ۔ تاہم، 2024 میں یہاں بھی 10 دن شدید دھند دیکھی گئی ۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 2024 تمام شہروں کے لیے سب سے زیادہ دھند والا سال ثابت ہوا۔پی اے قیو آئی کرتا ہے کہ جن سالوں میں پی ایم 2.5 کی سطح زیادہ تھی، وہاں ”اسکائی ناٹ سین“ (شدید دھند) کے ایام بھی زیادہ ریکارڈ کیے گئے ۔ فیصل آباد اور لاہور میں دھند کے ایام میں مسلسل اضافہ ماحولیاتی بوجھ کی نشاندہی کرتا ہے ۔
Sky Not Seen محکمہ موسمیات کا ڈیٹا : شدید دھند

اسموگ کی تشکیل
اسموگ دراصل اسموک اور فوگ کا مجموعہ ہے ۔ گاڑیوں، صنعتوں اور بھٹوں کا دھواں جب سردیوں میں تھرمل انورڑن کے باعث فضا میں پھنس جاتا ہے تو زہریلی تہہ بن جاتی ہے ۔ اس کا سب سے خطرناک جزو ہے پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو، یہ باریک ذرات انسانی بال سے تقریباً تین گنا چھوٹے ہوتے ہیں، جو پھیپھڑوں میں جا کر خون میں شامل ہو جاتے ہیں اور دل، دماغ اور سانس کے نظام کو متاثر کرتے ہیں ۔
لاہور جناح اسپتال کے سابق میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد افضل کے مطابق, اسموگ کے دنوں میں سانس، الرجی اور دیگر پھیپھڑوں کی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں دو گنا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اس سے خاص طور پر بچے، بزرگ اور پہلے سے بیمار افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔
ڈاکٹر محمد افضل کے مطابق فضا میں موجود باریک آلودہ ذرات پی ایم 2.5 صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں ۔ ان کی زیادہ مقدار میں موجودگیسے ناک کی الرجی، نزلہ جیسی علامات اور رائنائٹس جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور اوپری و نچلی سانس کی نالی متاثر ہوتی ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ کم آمدنی والے افراد، بچے، بزرگ اور باہر کام کرنے والے مزدور زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ اسموگ کے دوران سانس کے امراض کے مریضوں میں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جبکہ پاکستان کا صحت کا نظام ایسے ماحولیاتی صحت کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ۔
لاہور کی رہائشی ندا عثمان کے مطابق اسموگ ہماری روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اب یہ ہر برس کا مسلہ بن چکا ہے ۔ سال 2024 کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب 2024 میں اسموگ کئی ہفتوں تک برقرار رہی اور ایئر کوالٹی انڈیکس شدید خراب ہوگیا تو اس کے باعث بچے کئی ہفتوں تک اسکول نہیں جاسکے ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسموگ کے دور ا ن آ پ اپنے گلے میں ایک عجیب سے خراش اور آنکھوں میں جلن جبکہ سانس لینے میں دشواری کی شکایات محسوس کرتے ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسموگ صرف انسانوں کو ہی نہیں بلکہ جانوروں کو بھی متاثر کر رہی ہے ۔ لاہور کی ہی رہائشی اور فری لانس جرنلسٹ عْمیما احمد نے بتایا کہ جب بھی اسموگ کا موسم آتا ہے ان کے پالتوجانور (کتے اور بلیاں) الرجی کا شکار ہو جاتے ہیں اور انہیں بار بار اسپتال لے کے جانا پڑتا ہے جو انتہائی تکلیف دہ عمل ہے ۔
انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اسلام آباد کے ترجمان ڈاکٹرضیغم عباس کے مطابق، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سرحدوں پر ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب ضروری ہے ۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ موبائل ڈیٹا کلیکشن سسٹم کے ذریعے سرحدی علاقوں میں آلودگی کی نگرانی بھی کی جا سکتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس ڈیٹا کو موسمیاتی معلومات کے ساتھ ملا کر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آلودگی کس سمت سے آ رہی ہے اور ہواؤں کا رخ کیا ہے تاکہ الزام تراشی نہ کی جاسکے ۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ڈیٹا کی بنیاد پر ہی اس بات کا فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کیا واقعی بھارت سے آنے والی ہوا پاکستان میں آ لودگی کا باعث بنتی ہے؟
ڈاکٹر ضیغم عباس، ترجمان، اسلام آباد انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی و ماہر ماحولیات کے مطابق، بہتر مانیٹرنگ، سخت قوانین، صاف ایندھن اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ ہی دیرپا حل ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں
کراچی میں طوفانی بارش اور شدید آندھی نے ساحلی علاقوں میں تباہی مچادی
انڈس ڈولفن: دریائے سندھ کی نایاب رانی
ماہرین کے مطابق اسموگ اب صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے ممالک اس سے متاثر ہو رہے ہیں ۔ یہ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی صحت، معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ بھی بن چکا ہے ۔
علاقائی سطح پر ممالک کے درمیان ”میل ڈکلریشن آن کنٹرول اینڈ پریوینشن آف ائیر پولوشن “ موجود ہے، جبکہ آئی سی آئی ایم او ڈی کا پلیٹ فارم جنوبی ایشیا میں فضائی آلودگی کے ڈیٹا شیئرنگ اور مشترکہ حکمت عملی پر کام کر رہا ہے ۔یعنی مقامی اقدامات کے ساتھ علاقائی تعاون بھی ضروری ہیں ۔
یاد رہے کہ اسموگ سرحدوں کو نہیں جانتی ۔ اور اب یہ صرف ماحولیاتی مسئلہ بھی نہیں بلکہ یہ ہماری صحت ہمارے بچوں اور ہمارے مستقبل کا سوال ہے ۔


