Site icon RY MEDIA TALKS

کراچی اور سندھ میں کریک ڈاؤن، 71 غیر رجسٹرڈ افغانی باشندے کیمپس منتقل

غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کے انخلاء کے حوالے سے کراچی اور سندھ میں مشترکہ سرچ آپریشن جاری

رپورٹ: روبینہ یاسمین

کراچی: پاکستانی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد یکم نومبر سے رینجرز، پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے کراچی میں مشترکہ طور پر ایکشن شروع کر دیا ہے۔

آج کراچی میں سرچ آپریشن کے دوران متعد افراد کو گنا منڈی، مچھر کالونی، کراچی ضلع غربی، تھانہ اقبال مارکیٹ و دیگر مقامات سے حراست میں لے لیا گیا۔

اب تک 71 غیر قانونی طور پر مقیم افغانی تارکین وطن کو کاغزات کی جانچ پڑتال کے بعد کیمپس منتقل کیا گیا ہے اور ان افراد کو بسوں کے ذریعے چمن بارڈر تک پہنچانے کا عمل بھی جاری ہے ۔

سرچ آپریشن کے بعد کراچی میں رات گئے غیر قانونی افغان باشندے ہولڈنگ پوائنٹس میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

https://rymediatalks.com/wp-content/uploads/2023/11/کراچی-اور-سندھ-میں-کریک-ڈاؤن،-71-غیر-رجسٹرڈ-افغانی-باشندے-کیمپس-منتقل-video.mp4

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کراچی کے

ہولڈنگ پوائنٹس میں غیر قانونی افغان

باشندوں کو خوراک، بستر اور میڈیکل کی

سہولیات مہیا کی گئی ہیں جبکہ نادرا اور

ایف آئی اے کے ویریفیکیش آفس بھی

ہولڈنگ پوائنٹس میں موجود ہیں۔

نادرا اور ایف آئی اے کے اہلکار مسلسل غیر قانونی افراد کی جانچ پڑتال میں مصروف نظر آرہے ہیں۔

واضح رہے کہ صرف شہر کراچی میں غیر قانونی افغان باشندوں کی تعداد سرکاری اعدادو شمار کے مطابق تقریباََدو لاکھ ہے۔ جبکہ حکومت پاکستان کے اعلامیے کے بعد سے اب تک پورے ملک سے تقر یباََ سوا لاکھ افغانی باشندے اپنے اہل و عیال سمیت افغانستان واپس لوٹ چکے ہیں۔

حکومت پاکستان کی ڈیڈ لائن کے اختتام کے بعد غیر قانی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز شروع کر دیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان کے اعلامیے کے مطابق غیر ملکیوں کے اثاثے ضبط کرنے کے کام پر عمل در آمد شروع ہو چکا ہے۔

: یہ بھی پڑھیں

کراچی میں مقیم غیر قانونی افراد کے انخلا کے انتظامات مکمل

افغانیوں کی وطن واپسی کا مسئلہ

https://rymediatalks.com/wp-content/uploads/2023/11/کراچی-اور-سندھ-میں-کریک-ڈاؤن،-71-غیر-رجسٹرڈ-افغانی-باشندے-کیمپس-منتقل۳.mp4

علاوہ ازیں چمن بارڈر تک تمام غیر قانونی افغان باشندوں کو مرحلہ وار پہنچایا جاتا رہے گا اور تمام قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد تارکین وطن کو ان کے آبائی وطن بھیجا جائے گا۔

Exit mobile version