اسرائیل کی جانب سے غزہ پر سفید فاسفورس بموں کی بارش ہو رہی ہے، ہیومن رائٹس واچ
کراچی رپورٹ : روبینہ یاسمین
غزہ اوراسرائیل لبنان سرحدپر دیہی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے ممنوعہ سفید فاسفورس بموں کے حملے کی ہیومن رائٹس واچ نے تصدیق کردی ہے
غیر ملکی خبر ایجنسی کےمطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر سفید فاسفورس بموں کی بارش ہو رہی ہے، ہیومن رائٹس واچ
تاہم اسرائیلی فوجی حکام نے ہیومن رائٹس واچ کے بیان پر ردعمل سے گریز کرتے ہوئے
غزہ پر حملوں کے دوران فاسفورس بم
کے استعمال پرWhite phosphorus(BOMB)
لا علمی کا اظہار کیا
اس سے قبل بھی فلسطین کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ
اسرائیل کی جانب سےشمالی غزہ کے علاقے الکرامہ میں
بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ فاسفورس بم استعمال کیے جارہے ہیں
واضح رہے کہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے یوکرین جنگ میں، یوکرین کی وزارت دفاع کی جانب سے
یوکرین کی روس پر محصور شہر باخموت میں فاسفورس بم(فاسفورس گولہ بارود)استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا
سفید فاسفورس ہتھیاروں پر پابندی نہیں ہے لیکن
شہری علاقوں میں ان کا استعمال جنگی جرم سمجھا جاتا ہے
فاسفورس بم تیزی سے پھیلنے والی آگ بناتے ہیں
جنہیں بجھانا بہت مشکل ہوتا ہے
روس پر اس سے پہلے بھی ان کو استعمال کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے
آئیے اب پہلے یہ جانتے ہیں کہ آخر
سفید فاسفورس کیا ہے اور بطور جنگی ہتھیار (بم) استعمال کے نقصانات کیا ہیں؟
یہ فاسفیٹ چٹانوں سے بنا ایک کیمیکل ہے
ٹھوس شکل میں ہوتا ہے
اس میں ایک مومی ساخت اور لہسن جیسی بدبو ہوتی ہے
یہ سفید یا پیلے رنگ کا ہو سکتا ہے، یا صاف (بے رنگ)
اور کافی غیر مستحکم بھی ہو سکتا ہے
سفید فاسفورس انسانوں کے لیے انتہائی زہریلا ہے
کچھ شکلوں میں، یہ آکسیجن کے ردعمل میں کمرے کے درجہ حرارت سے صرف 10-15 ڈگری پر آگ پکڑتا ہے
مینوفیکچررز، سفید فاسفورس کا استعمال کمپیوٹر چپس، دھاتی مرکبات، کھاد، اندھیرے میں چمکنے والی پینٹ، چوہے کا زہر اور آتش بازی جیسی مصنوعات بنانے کے لیے کرتے ہیں
بعض صنعت کار اور حکومتیں سفید فاسفورس کو فوجی گولہ بارود بشمول ’بم‘ بنانے کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں