April 3, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
مرتضیٰ وہاب: کراچی کے موجودہ میئر، کارکردگی، ترقیاتی منصوبے اور تنقید
Murtaza Wahab Karachi Mayor addressing city issues, water crisis, waste management and infrastructure challenges in Karachi

مرتضیٰ وہاب: کراچی کے موجودہ میئر، کارکردگی، ترقیاتی منصوبے اور تنقید

مرتضیٰ وہاب میئر کراچی کو سانحہ گل پلازہ پر گالیاں دی گئیں، کیا وہ واقعی 3 کروڑ کی آبادی والے شہر کراچی کے مسائل حل کر پائیں گے؟

ویب نیوز رپورٹ: روبینہ یاسمین

کراچی پاکستان کا معاشی دل ہے، مگر طویل عرصے سے یہ شہرِبے مثال بدترین مسائل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ ٹریفک جام، پانی کی قلت، نکاسی آب کا مسئلہ اور کچرے کے ڈھیر اس شہر اور اس کے باسیوں کی پہچان بنتے جا رہے ہیں ۔ اور قدرت کی مہربانی سے اگر کراچی میں بارش ہو جائے توپورا شہر گٹر زون میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب صدیقی نے سن 2023 میں میئر کراچی کا عہدہ سنبھالا اور شہر کو بہتر بنانے کے دعوے کیے ۔ لیکن اُن کی کارکردگی اور منصوبوں پر مختلف آراء سامنے آئیں ۔ پہلے ان کے بارے میں جانتے ہیں ۔

مرتضیٰ وہاب کون ہیں؟

مرتضیٰ وہاب ایک پاکستانی سیاست دان اور وکیل ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مرتضی وہاب جون سن 2023 سے کراچی کے میئر کے عہدے پر فائز ہیں۔

مرتضیٰ وہاب کی تعلیم کیا ہے؟

انہوں نے بیچلرآف کامرس کراچی یونیورسٹی سے کیا، ایل ایل بی لندن یونیورسٹی سے، اور بار ایٹ لا لنکنز اِن لندن سے مکمل کیا۔ پیشہ: وکیل، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان

مرتضیٰ وہاب کی سیاسی وابستگی کس جماعت سے ہے؟

وہ پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے رہنما ہیں اور اسی جماعت کی جانب سے میئر کراچی منتخب ہوئے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

پیدائش : 25 دسمبر 1983، کراچی

والدہ : ڈاکٹر فوزیہ وہاب (سابقہ سینئر رہنما، پاکستان پیپلز پارٹی)

سپریم کورٹ آف پاکستان

سیاسی کیریئر

سن 2015 میں وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر قانون مقرر ہوئے ۔

سن 2017 تا سن 2018 سینیٹ آف پاکستان کے رکن رہے ۔

سن 2018 میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس-111 پر الیکشن لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے ۔

اگست سن 2021 تا دسمبر سن 2022 تک ایڈمنسٹریٹر کراچی کے طور پر ذمہ داری سنبھالی ۔

جون سن 2023 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے میئر کراچی منتخب ہوئے ۔

بطور میئر ان کے بڑے منصوبے کون سے ہیں؟

K-IV واٹر سپلائی منصوبہ

سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور کچرا اُٹھانے کا نظام

شہری انفراسٹرکچر کی بہتری (سڑکیں، نالے، پل)

ٹرانسپورٹ سسٹم کی اپ گریڈیشن

کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کے بارے میں، زیادہ تر لوگ اُن کے سیاسی سفر اور میئر شپ سے واقف ہیں، لیکن ان کی زندگی اور کیریئر میں کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جو کم لوگوں کو معلوم ہیں ۔

طرزِ زندگی پر تنقید VIP

کچھ مبصرین نے عوامی فورمز پر تنقید کی ہے کہ مرتضیٰ وہاب اپنے( وی آئی پی) پروٹوکول اور پولیس اسکواڈ کو ظاہر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جیسے یہ ظاہری وقار یا طاقت کا علامتی اظہار ہو، جس پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

Loves flaunting his police escort and his VIP treatment everywhere

خاندانی وراثت کی جھلک

کراچی پریس کلب میں سن 2024 میں ایک نئے لان کو مرتضیٰ وہاب کے والدین وہاب صدیقی اور فوزیہ وہاب کے نام سے منسوب کیا گیا ۔ اس لان کی تعمرات کے لئے انہوں نے اپنی زاتی جمع خرچ سے پراچی پریس کلب کی انتظامیہ کو 30ل لاکھ روپے نقد دئیے ۔ ان کا یہ ایک جذباتی اور ذاتی حوالہ ہے جو ان کی فیملی کے خاندانی وراثت اور اسکے اثرات کو ظاہر کرتا ہے ۔

غیرمتوقع استعفیٰ

سن 2022 میں سندھ ہائیکورٹ نے (کے ایم سی) کے ایک فیصلے کو معطل کیا تو مرتضیٰ وہاب نے جذباتی انداز میں استعفیٰ دے دیا۔ بعد میں صوبائی حکومت نے استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کیا اور وہ دوبارہ اپنے عہدے پر بحال ہو گئے ۔

اختیارات کی تشبیہ

میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے کہا

“You tie my hands and feet, and push me into the ocean — How do I float?” IBA

میرے ہاتھ اور پاؤں باندھ کر مجھے سمندر میں دھکیل دیا جاتا ہے — میں کیسے تیر سکتا ہوں؟

یہ بیان اس بات کا عکاس ہے کہ وہ محدود اختیارات ، اپنی طاقت یا کوششوں کی حد تک شہر کراچی شہر کو سنبھالنے اور اس کے بڑے مسائل حل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں ۔

نعت خوانی میں دلچسپی

مئی سن 2022 میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جس میں مرتضیٰ وہاب نہایت خلوص کے ساتھ نعت شریف پڑھتے دکھائی دیے۔ یہ ایک غیر معمولی مگر دینی و جذباتی پہلو ہے، جو اکثر ان کی عوامی شخصیت سے نکالا نہیں جاتا۔

فوڈ اسٹریٹ منصوبہ ذاتی پسندیدہ خوراک کا تصور؟

انہوں نے بوٹ بیسن میں نئے فوڈ اسٹریٹ کا افتتاح کیا، تاہم اس طرح کے اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عوامی سطح پر “بہترین کھانے کی جگہ” تیار کرنا چاہتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

!!!کیماڑی سی فوڈ اسٹریٹ آپکی منتظر ہے

(Sports) کھیلوں سے دلچسپی

وہ شہر میں اسپورٹس کو بہت اہمیت دیتے ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل کی فٹنس اور اسپورٹس کے حوالے سے ۔ کورنگی کے فٹبال اسٹیڈیم کی مرمت اور اسپورٹس فیلڈز کی ترویج ان کی ترجیحات میں شامل ہے ۔

علاوہ ازیں انہوں نے کراچی کے مختلف اضلاع میں اسپورٹس کمپلیکس بنانے کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے ۔ یاد رہے کہ مرتضیٰ وہاب نے ہاکی میں اپنا بچپن گزارا ہے اور ہاکی کو بہت پسند کرتے ہیں ۔ وہ سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں ۔

(Recreational Places) تفریحی مقامات

کراچی کے سفاری پارک میں شہر کی پہلی زیپ لائن کا افتتاح کیا ۔

شہر کی تاریخی عمارتوں زمینوں کا شوق

انہوں نے ہل پارک کی خوبصورتی اور وہاں شو اور پبلک تقریبات کا آغاز کروانے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شہر کی تاریخ اور قدرتی ماحول سے لگاؤ رکھتے ہیں ۔

مرتضیٰ وہاب چاہتے کیا ہیں؟ (وژن اور ترجیحات)

بطور میئر کراچی: کام اور منصوبے

کراچی کے موجودہ میئر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ ان کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ شہر کو وہ بین الاقوامی معیار کا میٹروپولیٹن شہر بنائیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کراچی کے باسیوں کو وہ سہولیات ملیں جو دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں عام ہیں ۔ اُن کی ترجیحات کو درج ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے ۔ َ

شہری انفراسٹرکچر کی بحالی

ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، برساتی نالوں اور بوسیدہ پلوں کی مرمت اُن کے منصوبوں میں شامل ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ شہری بنیادی ڈھانچے میں واضح بہتری نظر آئے ۔

شہری ٹرانسپورٹ میں بہتری، سڑکوں کی مرمت اور نئی سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے

ان کا وژن یہ ہے کہ کراچی میں جدید پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم ہو، جس کے لیے وہ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آرٹی) اور نئی روٹس کے قیام پر زور دیتے ہیں ۔

کچرا اور نکاسی آب کا مستقل حل

کراچی کو “کچرے کا شہر” کہا جاتا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو بہتر بنایا جائے تاکہ کچرا وقت پر اُٹھے اور شہر صاف ستھرا رہے ۔

اپوزیشن جماعتوں کی اُن پر کیا تنقید ہے؟

اپوزیشن کا الزام ہے کہ میئرکراچی کے اختیارات محدود ہیں اور پاکستان کی صوبائی حکومت ہی اصل کنٹرول رکھتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ بارشوں اور کچرے کے مسائل پر اُنہیں شدید تنقید کا سامنا ہے ۔

پانی کا مسئلہ حل کرنا

مرتضیٰ وہاب کے مطابق شہر کی سب سے بڑی ضرورت صاف پانی کی فراہمی ہے ۔ اس مقصد کے لیے وہ K-IV جیسے بڑے منصوبوں کو مکمل کرانا چاہتے ہیں ۔

برساتی نالوں کی صفائی اور نکاسی آب بہتر بنانے پر زور

پانی اور سیوریج اور واٹر بورڈ پر کنٹرول

مرتضیٰ وہاب بطور چیئرمین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اس ادارے کو شفاف اور عوام دوست بنانے کے خواہاں ہیں ۔

عوامی اعتماد کی بحالی

وہ چاہتے ہیں کہ شہری حکومت پر عوام کا اعتماد بحال ہو اور لوگ بلدیاتی اداروں کو اپنا حقیقی نمائندہ سمجھیں ۔

(KWSB) کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ

چیئرمین کی حیثیت سے پانی کی ترسیل بہتر بنانے کے اقدامات۔

K-IV منصوبے کی تکمیل کے لیے صوبائی حکومت سے قریبی رابطہ۔

صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ ۔

چین کی کمپنیوں اور نجی اداروں کے ساتھ معاہدے کر کے کچرے کی لینڈفل سائٹس تک ترسیل ۔

بجٹ اور فنڈنگ

میئر کراچی کے طور پر سن 2024–25 کے بجٹ میں شہری خدمات کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ۔ سب سے زیادہ بجٹ نکاسی آب اور ویسٹ مینجمنٹ پر رکھا گیا ۔

اپوزیشن اور عوامی تنقید

جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے میئر کے الیکشن کے بعد دھاندلی کا الزام لگایا ۔

اپوزیشن جماعتوں کے مطابق مرتضیٰ وہاب کے پاس شہری حکومت کے محدود اختیارات ہیں جس کی وجہ سے بڑے منصوبوں پر عمل درآمد نہیں ہو پاتا ۔

کراچی کی عوام کی رائے

کیا کراچی کے عوام مرتضیٰ وہاب سے خوش ہیں؟

کراچی پاکستان اک ایک ایسا شہر ہے جس کی آبادی دو کروڑ سے زیادہ ہے ۔ اس شہری کی اپنی توقعات ہیں ۔ اس لیے مرتضیٰ وہاب کے حوالے سےعوام کی رائے بھی مختلف ہے ۔

کراچی کی عوام کی رائے مرتضیٰ وہاب کے کام کے بارے میں ملی جلی ہے۔ کچھ لوگ ان کی کارکردگی کو سراہتے ہیں، جبکہ بہت سے شہریوں کی جانب سے شدید تنقید بھی سامنے آتی ہے ۔

شہر کے کئی علاقوں میں کچرے کے ڈھیر اور صفائی کے ناقص انتظامات ہیں جسکی بنیادہ وجہ کچرا بروقت نہ اٹھانا، کنٹریکٹس اور مینجمنٹ کے مسائل اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کی وجہ سے مئیر کراچی کو مورد الزام ٹہرایا جاتا ہے ۔

Murtaza Wahab Karachi Mayor addressing city issues, water crisis, waste management and infrastructure challenges in Karachi

شہریوں کی جانب سے مون سون بارشوں کے دوران ناقص نکاسی آب ، نالوں کی صفائی میں کمی کی وجہ سے اربن فلڈنگ،اور شہر کی بدترین صورتحال پر شدید تنقید پاکستانی میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ مارمز کی زینت بنتی ہے کیونکہ اسے شہریوں اور اپوزیشن کی جانب سے منصوبہ بندی کی ناکامی کے ساتھ ساتھ بلدیاتی انتظامیہ کی وجہ بھی سمجھی جاتی ہے۔

عوام کی مثبت رائے

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مرتضیٰ وہاب نے شہری مسائل پر توجہ دینے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر نالوں کی صفائی، سڑکوں کی مرمت اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبے میں ۔ نالوں کی صفائی، سڑکوں کی مرمت اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے اقدامات کو کچھ علاقوں میں سراہا گیا ۔

Murtaza Wahab Karachi Mayor addressing city issues, water crisis, waste management and infrastructure challenges in Karachi

عوام کا ایک طبقہ اس بات کو سراہتا ہے کہ وہ ایک تعلیم یافتہ اور نوجوان سیاست دان ہیں جو جدید سوچ رکھتے ہیں ۔ نوجوان سیاست دان سے یہ توقع ہے کہ وہ کراچی کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔

ان کا وژن (پانی، ٹرانسپورٹ اور کچرا اُٹھانے کے نظام کو بہتر بنانا) عوام کو پراُمید کرتا ہے ۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مرتضیٰ وہاب نے کم از کم شہر کے مسائل کو اجاگر کیا اور اُن پر کھل کر بات کی ۔

عوامی تنقید

شہر کراچی کا اردو بولنے والا طبقہ ان کی کارکردگی سے غیر مطمئن اور شدید ناراض ہے ۔ زیادہ تر شہری اب بھی کچرے کے ڈھیر، پانی کی قلت اور نکاسی آب کے مسائل کی وجہ سے مطمئن نہیں ہیں ۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کچرے کے ڈھیر اور پانی کی قلت کے مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں ۔

بارشوں کے دوران سڑکوں پر پانی جمع ہونا , ٹریفک جام کی صورتحال اور بدانتظامی پر اُنہیں شہرشہریوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

کراچی میں بچے کے گٹر مین گر کر جاں بحق ہونے کی خبروں کی گرما گرمی ابھی کم نہ ہوئی تھی کہ گل پلازہ میں لگنے والی فوفناک آگ جس میں سینکڑوں جانیں خاکستر صرف اس لئے ہوگئیں کہ پلازہ میں آگ بجھانے والے آلات اور اس کے استعمال سے ناواقفیت،خارجی راستوں کو بند کردینا، آگ بچھانے والے غیر تربیت یافتہ عملے کا دیر سے پہنچنا اور ایمرجنسی رسپانس میں تاخیر ( لوگوں کوبچانے کے موئژ حکمتِ عملی نہ اپنانا ) سمیت دیگرعوامل کے علاوہ اُسی دن مئیر کراچی کے مری میں تفریح کرنے کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد شہرکراچی میں کہرام مچ گیا ۔

بات یہں ختم نہیں ہوئی گل پلازہ کی اس آگ میں لپٹی بلڈنگ کے وزٹ کے دوران سامنے والی بلڈنگ پر مئیر کراچی مرتضی وہاب کے آنے سے پہلے روشنی کا بھرپور انتظام کیا گیا، سیکیورٹی کو ان کے لئے فل پروف بنایا گیا ۔ بعدازاں اِن کی آمد پر ایک نہ ختم ہونے والا نیا وُبال شروع ہوا ۔

مئیر مرتضی وہاب کو کراچی والوں اپوزیشن اور میڈیا نے آڑے ہاتھوں لیا ، خوب تنقید کی اورگالیاں بھی دیں ۔ میئرسمیت شہری اداروں کو بھی فائر سیفٹی اور ریگولیشنز کی کمزوری ( انتظامی سطح پر) سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مسائل کے گَڑ شہرکراچی کو چلانے کے لئے ٹیکنیکل آدمی کو مئیر ہونا چاہیئے، کیونکہ مرتضی نان ٹیکنیکل ہیں اس لئے شہر کراچی کا پیسہ شہر کی ترقی کے نام پر ایسے منصوبوں میں جھونکا جا رہا ہے جسکا فیلیر سب کے سامنے ہیں اس کی واضح اور حالیہ مثال نیو حب کینال اور شاہراہ بھٹو ہے ۔ ہم اپنا پیسا جو ٹیکس کے نام پر دیتے ہیں اسے برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتے ۔

اپوزیشن اور کچھ شہری یہ بھی کہتے ہیں کہ میئر کراچی کے پاس اختیارات محدود ہیں، وہ پورے شہر کے مئیر نہیں ہیں، اسی لیے وہ وہ بڑے مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں ۔

مجموعی تاثر

عوام کی اکثریت ابھی تک مکمل طور پر مئیر کراچی سے مطمئن نہیں ہے ۔ کراچی کے شہری فوری اور نظر آنے والے نتائج چاہتے ہیں، اس لیے اُن کی توقعات بہت زیادہ ہیں ۔

تاہم، کچھ لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ اگر مرتضیٰ وہاب کو زیادہ اختیارات اور وقت ملے تو وہ بہتری لا سکتے ہیں کیونکہ شہر میں اور صوبے میں ان کی پیپلزپارٹی برسر اقتدار ہے ناکہ متحدہ قومی موومنٹ، مہاجر قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی وغیرہ ۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی کے لیے نئی نہر کا افتتاح

مرتضی وہاب کراچی کے گراؤنڈز میں دلچسپی کیوں لے رہے ہیں؟

وژن اور مستقبل کی حکمت عملی

کراچی کے مسائل ایک ادارے یا ایک شخصیت تک محدود نہیں بلکہ ایک کثیر ادارتی (ملٹی ایجنسی) نظامی مسئلہ ہیں جس میں صوبائی حکومت، بلدیاتی ادارے اور دیگر محکمے شامل ہوتے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ ’’کراچی میرا شہر ہے اور میں اسے ترقی یافتہ بنانا چاہتا ہوں‘‘ ۔ اُن کی ترجیحات میں پانی کی فراہمی، کچرا اُٹھانا، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر سرفہرست ہیں ۔

مرتضیٰ وہاب ایک تعلیم یافتہ وکیل اور سیاست دان ہیں جنہوں نے میئر کراچی کے طور پر چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں ۔ مرتضیٰ وہاب کا وژن یہ ہے کہ کراچی کو ایک ترقی یافتہ، صاف، جدید اور رہنے کے قابل شہر بنایا جائے ۔

اُن کی کوششوں کو سراہا بھی گیا اور تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ۔ شہر کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے اُنہیں نہ صرف سیاسی بلکہ انتظامی مشکلات کا بھی سامنا ہے ۔

اگرچہ انہیں سیاسی اختلافات اور محدود اختیارات جیسے مسائل کا سامنا ہے، لیکن وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ “کام نیت اور استقامت سے کیا جائے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔” اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی مدت میں کراچی کو کس حد تک بہتر بنا پاتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×