°F105 سن 2023 کی شدید گرمی میں ایمیزون کی جھیلوں کا درجہ حرارت
تک پہنچ گیا، جس سے نایاب ڈولفنز کی ہلاکت اور آبی حیات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
ویب نیوز رپورٹ: روبینہ یاسمین
ایمیزون کی جھیلوں میں تاریخی حدت
سن 2023 میں ایمیزون خطے میں آنے والی شدید گرمی اور خشک سالی نے قدرتی ماحول کو شدید متاثر کیا ہے ۔
برازیل میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق، ایمیزون کی کئی جھیلیں اتنی گرم ہوگئیں کہ ان کا درجہ حرارت گرم پانی کے ٹب کی حد سے بھی تجاوز کر گیا ۔
یہ درجہ حرارت بعض جھیلوں میں 41 ڈگری سینٹی گریڈ (105.8°ایف) تک جا پہنچا، جو امریکہ کے سینٹر آف ڈیزیزز کنٹرول(سی ڈی سی) کے مطابق گرم پانی کے ٹب کے لیے محفوظ حد (104°ایف) سے بھی زیادہ ہے ۔
اُبلتی ہوئی جھیلیں اور نایاب ڈولفنز کی ہلاکت
تحقیق کے مطابق، ایمیزون کی دس جھیلوں میں سے نصف میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ گیا۔ جو بڑی جھیلوں کے لیے غیر معمولی ہے ۔
شمال مغربی برازیل کی لیک تیفے سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جہاں پانی کی سطح نہ صرف کم ہوئی بلکہ درجہ حرارت 6 فٹ گہرائی تک بڑھ گیا، جس سے جانداروں کے لیے کوئی محفوظ پناہ باقی نہ رہی ۔
یہ صورتحال نایاب ایمیزون دریا کی ڈولفنز کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی ۔
ستمبر اور اکتوبر2023 کے دوران 200 سے زیادہ ڈولفنز مردہ پائی گئیں ۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے شدید گرمی نے ان کے دماغی افعال متاثر کیے ہوں، جس کی وجہ سے وہ ٹھنڈے پانی کی طرف بر وقت ہجرت نہ کر سکیں ۔
مچھلیاں اور مقامی برادریاں بھی متاثر
صرف ڈولفنز ہی نہیں بلکہ مچھلیوں کی بڑی تعداد بھی شدید درجہ حرارت کی وجہ سے مر گئی ۔
ایک مقامی آبی فارم میں 3,000 مچھلیاںدرجہ حرارت میں اضافے کی بنا پر ہلاک ہوگئیں ۔

خشک سالی اور پانی کی کمی کے باعث دریا کے کنارے
بسنے والی ہزاروں برادریاں خوراک، پینے کے پانی
اور ادویات سے محروم ہوگئی ہیں ۔
ماہرِ آبیات ایان فلیش مین کے مطابق ’’جب آبی نظام متاثر ہوتا ہے تو ایمیزون کی مقامی برادریاں بھی متاثر ہوتی ہیں‘‘۔
گرمی کی وجوہات
سائنس دانوں نے اس غیر معمولی گرمی کے پیچھے کئی عوامل کی نشاندہی کی ہے جیسے کہ
شدید خشک سالی کے باعث جھیلوں کی کم گہرائی
گدلے پانی کی وجہ سے سورج کی روشنی کا زیادہ جذب ہونا
تیز دھوپ اور کم ہوائیں، جنہوں نے بخارات کے عمل اور رات کی ٹھنڈک کو محدود کر دیا
ان عوامل کے مجموعے نے جھیلوں کو ’’اُبلتے ہوئے طاسوں‘‘ میں بدل دیا۔
طویل مدتی تبدیلیاں اور خطرناک رجحان
تحقیق میں 24 ایمیزونی جھیلوں کے سیٹلائٹ ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ پچھلے 30 برسوں میں ان جھیلوں کا اوسط درجہ حرارت ہر دہائی میں 0.6°C (1°ایف) بڑھا ہے۔
یہ واضح اشارہ ہے کہ ایمیزون کی جھیلیں عالمی ماحولیاتی تبدیلی کے طویل مدتی اثرات کا شکار ہو رہی ہیں۔
فلیش مین کے مطابق ’’ایمیزون کی جھیلیں مسلسل گرم ہو رہی ہیں، جو عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے منسلک ہے‘‘۔
نتیجہ: خطرے کی گھنٹی
ایمیزون خطے میں جھیلوں کا یوں گرم ہونا نہ صرف آبی حیات بلکہ انسانی زندگی کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے ۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کلائمیٹ چینج اب کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں، یہ آج کا بحران ہے ۔
اگرعالمی درجہ حرارت کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ایسے ماحولیاتی سانحات مزید عام ہو سکتے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں
دو امریکی سائبر ماہرین خود ہیکرز نکلے، کمپنیوں سے کروڑوں ڈالر بھتہ وصول
نائجیریا کا قدیم ٹیٹو آرٹ: وینیہ کے آرٹسٹ نے صدیوں پرانی شناخت کو زندہ کر دیا
کلیدی نکات
سن 2023 میں ایمیزون کی جھیلوں کا درجہ حرارت 105°ایف تک پہنچ گیا۔
سیکڑوں نایاب ڈولفنز اور ہزاروں مچھلیاں ہلاک ہوئیں ۔
جھیلوں کا رقبہ 75% تک سکڑ گیا ۔
درجہ حرارت میں 30 سال میں فی دہائی 0.6°C کا اضافہ ریکارڈ ہوا ۔
ماہرین نے اسے ’’طویل مدتی گرم ہونے کا عمل‘‘ قرار دیا ۔


