January 14, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
سرخ ٹانگوں والا ٹکور: زمین پر رہنے والا شاہی پرندہ
Red-legged partridge bird standing in natural habitat, population declining due to hunting, agriculture and climate vulnerability

سرخ ٹانگوں والا ٹکور: زمین پر رہنے والا شاہی پرندہ

سرخ ٹانگوں والا ٹکور شکار، زرعی کیمیکلز، اور دیگر پرندوں کے مقابلے کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہے۔

اس کی آبادی میں 40-45 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ویب نیوز رپورٹ: روبینہ یاسمین

(Red‑Legged Partridge)سرخ ٹانگوں والا ٹکور

سرخ ٹانگوں والا ٹکورجسے (الیکٹرسرخ) بھی کہتے ہیں، یورپ کی ایک مقامی تیتر/پرٹریج پرندہ ہے جس کی آبادی گذشتہ ایک دہائی میں ڈرامائی طورپرگھٹ چکی ہے۔

اس پرندے کا تعلق فیشن آڈی خاندان سے ہے، یعنی وہی خاندان جس میں تیتر، سرخاب اورچکور جیسے گیم برڈ شامل ہیں۔

Red-legged partridge bird standing in natural habitat, population declining due to hunting, agriculture and climate vulnerability
سرخ ٹانگوں والی ٹکور ایک قدیم پرندہ ہے، مگر جدید انسانی سرگرمیوں نے اس کی بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

سرخ ٹانگوں والا ٹکورایک قدیم پرندہ، جدید بحران

سرخ ٹانگوں والا ٹکورہزاروں سال سے انسانوں کے ساتھ رہا ہے۔ اس کی باقیات پیلیولیتھک دور کے انسانی ٹھکانوں میں بھی ملتی ہیں، یہ بتاتے ہوئے کہ انسانوں نے اسے شکار کے لیے استعمال کیا ہے۔

یہ پرندہ ریگستانی اور کھلے زرعی میدانوں میں رہنا پسند کرتا ہے، علاوہ ازیں یہ اپنی روشن سرخ ٹانگوں اور چونچ کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔

Red-legged partridge bird standing in natural habitat, population declining due to hunting, agriculture and climate vulnerability

یہ پرندہ ریگستانی اور کھلے زرعی میدانوں میں رہنا پسند کرتا ہے

علاوہ ازیں یہ اپنی روشن سرخ ٹانگوں اور چونچ کی وجہ سے

پہچانا جاتا ہے۔

آبادی اور خطرے کی درجہ بندی

عالمی صورتحال

بین الاقوامی یونین برائے تحفظِ قدرتی وسائل (آئی یو سی این) کے مطابق سرخ ٹانگ والا ٹکورقریب خطرے کی فہرست میں ہے۔

سن2010 سے 2020 کے درمیان اس کی آبادی میں 40–45 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ اندازاً دنیا بھر میں 9.9 سے 13.7 ملین بالغ افراد موجود ہیں۔

جینیاتی تحقیق اور موسمیاتی اثرات

سن2021 میں سویڈن اوراٹلی کے سائنسدانوں کی قیادت میں ایک تحقیقی ٹیم نے سرخ ٹانگوں والی ٹکورکا جینیوم ترتیب دیا۔ اس تحقیق سے کچھ اہم نتائج سامنے آئے جو اس پرندے کی بقا اورموسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوئے۔

کی گئی تحقیق کے مطابق، تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار 140,000

سال قبل کے گرم دور میں اس پرندے کی آبادی میں شدید کمی واقع

ہوئی۔ چناچہ کم آبادی کی وجہ سے سرخ ٹانگوں والا ٹکور کی

جینیاتی تنوع آج تک مکمل طور پربحال نہیں ہوسکی۔

Red-legged partridge bird standing in natural habitat, population declining due to hunting, agriculture and climate vulnerability

تحقیق کے مطابق، یہ کمزور جینیاتی بنیاد اسے موجودہ اورمستقبل کے ماحولیاتی دباؤ کے لیےغیرمستحکم بنا دیتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ دیگر پرندے یا جانور، جیسے ناروال، کم جینیاتی تنوع کے باوجود اپنی آبادی کو بڑھا اور مستحکم رکھ پائے ہیں۔ لیکن سرخ ٹانگوں والے ٹکور کو یہ خوش قسمتی حاصل نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے اس کی ماحولیاتی تبدیلی کے لیے ڈھالنے کی صلاحیت محدود رہ گئی ہے۔

کیوں آبادی کم ہو رہی ہے؟

: سرخ ٹانگوں والا ٹکورکو متعدد انسانی عوامل نقصان پہنچا رہے ہیں، مثلاََ

ضرورت سے زیادہ شکار

زرعی زمینوں پر جدید مشینری کی تباہ کاری

کیڑے مار ادویات (پیسٹی سائڈز) کا زہریلا اثر

کسانوں کا دیہی علاقوں کو چھوڑنا

دیگر قسم کی ٹکور کی پرورش جو مقابلہ کرتی ہے

ان سب عوامل نے اس کی زندگیاں مشکل بنا دی ہیں اوراسے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے لحاظ سے مزید کمزورکردیا ہے۔

Red-legged partridge bird standing in natural habitat, population declining due to hunting, agriculture and climate vulnerability
یہ صرف ایک پرندہ نہیں، بلکہ قدرتی توازن کی علامت ہے جسے ہماری توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں صورتحال : سرخ ٹانگوں والا ٹکور نہیں، مگر چکور/چاکور بطورعام نگاہ آتا ہے

پاکستان میں جو’’پارٹریج‘‘ سب سے مشہور اور کثرت سے دیکھا جاتا ہے وہ چکور ہے ، جسے مقامی زبان میں چاکور/چکور تیتر کہا جاتا ہے۔

یہ پاکستان کا قومی پرندہ بھی ہے، جسے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، بلوچستان، پنجاب جیسے خشک اور پتھریلےعلاقوں میں دیکھا جاتا ہے۔

نوٹ: سرخ‑ٹانگ والی ٹکور(الیکٹرسرخ) پاکستان میں فطری طور پر پائی جانے والی نوع نہیں ہے۔

یہاں چکور(الیکٹرچکور)عام ہے اور لوگوں اسے عام طور پر تیتر/تیتر پرندہ کہہ دیتے ہیں۔

پاکستان میں چوکور کی حقیقی صورتحال

چکور کی آبادی عام طور پر مستحکم ہے اور اسے انسدادی درجہ بندی میں خطرے سے باہر (کم تشویشناک انواع) سمجھا جاتا ہے۔

مگر پاکستان کے کچھ دیگرجنگلی تیتر/ پرٹریج جیسے سی سی تیتربھی یہاں پائے جاتے ہیں، خاص طور پربلوچستان اورخشک علاقوں میں۔

پاکستان کے جنگلی پرندوں پر شکار، رہائش کے نقصان اور موسمی اثرات کے باعث دباؤ بڑھ رہا ہے، جیسے دیگر نایاب پرندوں مثلاً (چیئر فیزنٹ اور ویسٹرن ہارنڈ ٹراگوپن ) پرتحقیق میں بتایا گیا ہے۔

اہم حقائق

FactValue
Global Decline (2010–2020)40–45%
IUCN StatusNear Threatened
Total Mature Population~9.9–13.7M
Pakistan’s National PartridgeChukar/Chakor

یہ بھی پڑھیں

کِسٹریل:دشمنوں کے بارے میں مکمل معلومات کیسے رکھتا ہے؟

گدھے: مذہبی روایت سے موسمیاتی بقا تک

کیا پاکستان کا ڈیلٹا بلیو کاربن کریڈٹ منصوبہ 12 بلین ڈالر کی ماحولیاتی تبدیلی لا پائے گا؟

ہماری ذمہ داری

سرخ ٹانگ والا ٹکورایک قدیم، تاریخی اور ثقافتی اہمیت والا پرندہ ہے جس کی آبادی تیزی سے گھٹ رہی ہے۔ اس کے خلاف لڑائی انسان کی سرگرمیوں سے پیدا ہوئی ہے، اس لیے بہتر قوانین، شکار پر کنٹرول، قدرتی رہائشوں کا تحفظ اورعوامی آگاہی ضروری ہے۔

پاکستان میں جو پرندہ ’’پارٹریج‘‘ کے طور پر سب سے زیادہ مشہور ہے وہ چکور/چاکور ہے، جسے پاکستان کا قومی پرندہ بھی مانا جاتا ہے، لیکن ہمیں تمام جنگلی پرندوں کو بچانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

Red-legged partridge bird standing in natural habitat, population declining due to hunting, agriculture and climate vulnerability
یہ صرف ایک پرندہ نہیں، بلکہ قدرتی توازن کی علامت ہے جسے ہماری توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×