February 4, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
مکلی قبرستان: سندھ کی تاریخ، فنِ تعمیراورعالمی ورثہ خطرے میں
Makli Necropolis in Thatta Sindh showing historic tombs and Islamic architecture, a UNESCO World Heritage Site in Pakistan

مکلی قبرستان: سندھ کی تاریخ، فنِ تعمیراورعالمی ورثہ خطرے میں

مکلی قبرستان میں یونیسکو کے تحفظاتی اصولوں کے برخلاف بعض بحالی کے کاموں میں

اصل تاریخی فرش کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹرغلام مصطفی، ماہرِ آثارِ قدیمہ

تحریر: ماریہ اسماعیل

Makli Necropolis in Thatta Sindh showing historic tombs and Islamic architecture, a UNESCO World Heritage Site in Pakistan

پاکستان کے صوبہ سندھ کی سرزمین پرواقع مکلی کا قبرستان محض قبروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ برصغیر کی سیاسی، مذہبی، ثقافتی اور فنی تاریخ کی ایک زندہ دستاویز ہے، جو صدیوں پرمحیط کہانیوں کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے ۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر، ٹھٹہ شہر کے قریب واقع یہ قبرستان لگ بھگ 10 مربع کلومیٹررقبے پر پھیلا ہوا ہے اور دنیا کا سب سے بڑا قبرستان سمجھا جاتا ہے ۔

یہاں اندازاً پانچ لاکھ سے دس لاکھ افراد مدفون ہیں ۔

غیرمعمولی تاریخی اورثقافتی اہمیت کے باعث، یونیسکو نے 1981ء میں مکلی کو عالمی ورثہ قرار دیا۔

مکلی قبرسان: تاریخی پس منظر

روایات کے مطابق مکلی کا نام ’’مائی مکلی‘‘ نامی ایک خاتون سے منسوب ہے، جن کی قبر ایک مسجد کے محرابی حصے کے نیچے واقع بتائی جاتی ہے، تاہم اس روایت کی تاریخی تصدیق نہیں ہو سکی ۔

تاریخی ماہرین کے مطابق مکلی کا آغاز چودھویں صدی میں ہوا، جب مشہورصوفی بزرگ شیخ حماد جمالي کی آمد کے بعد اس پہاڑی کو تقدس حاصل ہوا اور یہ علاقہ تدفین کے لیے مخصوص ہوتا چلا گیا ۔

سما، ارغون، ترخان اور مغل ادوار میں مکلی صرف حکمرانوں نے ہی نہیں بلکہ علما، صوفیا، سپہ سالاروں، شاعروں اور معزز شہریوں کی آخری آرام گاہ بنا ۔

یوں مکلی ایک ایسا ’’شہرِ خاموشاں‘‘ بن گیا جو سندھ کی مکمل سیاسی اور سماجی تاریخ کی نمائندگی کرتا ہے ۔

مکلی قبرسان: نمایاں مقابر اور فنِ تعمیر

مکلی میں مرزا عیسیٰ خان ترخان دوم کا مقبرہ بھی موجود ہے، جو مرزا عیسیٰ خان اول کے پوتے تھے ۔

وہ دہلی کی مغل دربار میں چار ہزاری کے منصب پر فائز رہے اور بعد ازاں 1627ء میں سندھ کے گورنر مقرر ہوئے ۔

ان کا مقبرہ پیلے پتھر سے تعمیر کیا گیا ہے، جس پرایک عظیم الشان گنبد قائم ہے ۔

محرابوں پر قرآنی آیات کی نفیس خطاطی کی گئی ہے، جو فن کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

جبکہ جام نظام الدین (جام نندو) جام نظام الدین، سما خاندان کے آخری عظیم حکمران سمجھے جاتے ہیں، جنہیں عوام محبت سے ’’جام نندو‘‘ کہتے تھے۔

ان کا دورِ حکومت 1460ء سے 1508ء تک رہا ۔ان کا مقبرہ 1509ء میں مکمل ہوا اور یہ سما طرزِ تعمیر کا ایک شاندار نمونہ ہے۔

یہ مقبرہ بغیر چھت کے تعمیر کیا گیا، جو اسے منفرد بناتا ہے ۔

ماہرین کے مطابق اس کی ہر سمت کی لمبائی اوراونچائی 37 فٹ ہے، جبکہ اندرونی و بیرونی نقش و نگار ایک دوسرے سے بالکل مختلف مگر انتہائی دلکش ہیں ۔

ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹرغلام مصطفیٰ شر کے مطابق، مکلی کا فنِ تعمیر برصغیر میں اپنی مثال آپ ہے ۔ یہاں اسلامی، مقامی سندھی، فارسی اور مغل طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے ۔

ان کے بقول، تراشے ہوئے پتھر، نفیس خطاطی، جیومیٹریائی نقش و نگار اورنباتاتی نمونے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ مقبرے صرف قبریں نہیں بلکہ مکمل فنی شاہکار ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ مکلی میں موجود 64 بڑے تاریخی مقابر مختلف ادوار کی فکری سوچ اور جمالیاتی ذوق کی عکاسی کرتے ہیں ۔

مکلی قبرستان کے تحفظ پرسوالات

Makli Necropolis in Thatta Sindh showing historic tombs and Islamic architecture, a UNESCO World Heritage Site in Pakistan

ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹرغلام مصطفیٰ شر کے مطابق، یونیسکو کے تحفظاتی

اصولوں کے برخلاف بعض بحالی کے کاموں میں اصل تاریخی فرش کو

نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جس سے قیمتی شواہد ضائع ہو سکتے ہیں ۔

یہ عمل تاریخی ورثے کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے ۔

مکلی قبرسان: یاسمین لاری اور بحالی کا کام

پاکستان کی پہلی خاتون آرکیٹیکٹ یاسمین لاری نے مکلی قبرستان میں کئی تاریخی عمارتوں کی بحالی پر کام کیا، جن میں ایک مسجد، جان بابا (مرزا عیسیٰ خان ترخان کے والد) کا مقبرہ اورسلطان ابراہیم کا مقبرہ شامل ہیں ۔

یاسمین لاری کے مطابق، تاریخی یادگاروں کی بحالی ایک طویل

مہنگا اورانتہائی احتیاط طلب عمل ہے ۔ سلطان ابراہیم کے مقبرے پر

پچیس 25 ملین روپے کی لاگت سے تین سال میں کام مکمل کیا گیا ۔

Makli Necropolis in Thatta Sindh showing historic tombs and Islamic architecture, a UNESCO World Heritage Site in Pakistan

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں ماہرٹائل کاریگر نہ ہونے کے باعث خود بھٹیاں قائم کی گئیں، مٹی تیار کی گئی اورخواتین کواس فن کی تربیت دی گئی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر بحالی کا کام ٹھیکیداروں کے سپرد کر دیا جائے تو وہ عمارت کو ’’نیا‘‘ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے تاریخی اصل متاثر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی لیے اس شعبے میں واضح قوانین اورماہرین کی نگرانی ناگزیر ہے ۔

یاسمین لاری کے مطابق 2010ء میں مکلی کو ’’خطرے سے دوچارعالمی ورثہ‘‘ کی فہرست میں اس وقت شامل کیا گیا، جب سیلاب متاثرین نے یہاں عارضی رہائش اختیار کر لی تھی، جس پر عالمی سطح پر شدید اعتراضات سامنے آئے ۔

مکلی قبرسان میں موجودہ مسائل

آرکیالوجیکل انجینیئرمحکمہ ثقافت، سیاحت و نوادرات سرفرازکے مطابق سال 2025 میں مکلی آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی کل تعداد پانچ ہزار ہے، تاہم یہاں موجود قبروں کی کل تعداد بتانا مشکل ہے۔

انہوں نے مزید کیا کہا ان کی بھیجی گئی آڈیو میں سنیں

آرکیالوجیکل انجینیئرحکمہ ثقافت، سیاحت و نوادرات سرفراز

سیاحت کے ماہرسلیم قریشی کے مطابق، اگر یہاں باقاعدہ گائیڈ سسٹم، انفارمیشن سینٹر اورڈیجیٹل ٹکٹنگ متعارف کروائی جائے تو مکلی عالمی سطح کا بڑا سیاحتی مرکز بن سکتا ہے ۔

ماہرین کے مطابق مکلی کو اس وقت سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن میں تاریخی عمارتوں کا تیزرفتارزوال، موسمیاتی تبدیلی، غیرمتوقع بارشیں اورسیلاب شامل ہیں، جو قدیم بنیادوں کو کمزورکر رہے ہیں ۔

سلیم قریشی کہتے ہیں کہ پینے کے پانی، صفائی، سیکیورٹی، رہنمائی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔

مکلی قبرسان، مستقبل کی راہ

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مکلی قبرستان کے تحفظ کے لیے فوری طور پرسائنسی بنیادوں پراقدامات، مقامی آبادی کی شمولیت اورمستقل نگرانی ناگزیر ہے ۔

سفارش کی گئی ہے کہ بحالی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اپنائی جائے، ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کی جائے اور سیاحت کو مقامی معیشت سے جوڑا جائے تاکہ مقامی لوگوں کو روزگار اور تحفظ میں شریک کیا جا سکے ۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ میں سزائے موت کا نیا ریکارڈ اور بڑھتا رجحان دنیا کو کیا بتارہا ہے؟

گدھے: مذہبی روایت سے موسمیاتی بقا تک

مکلی قبرسان، سندھ کی شناخت، تاریخ کی امانت


مکلی سندھ کا فخر ہے ۔ یہ قبرستان صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی امید بھی ہے۔

اگر بروقت توجہ، سنجیدہ حکمتِ عملی اور مناسب سرمایہ کاری کی جائے تو مکلی نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کا عالمی سطح پر روشن چہرہ بن سکتا ہے ۔

یہ مقام سندھ کی شناخت، تاریخ کی امانت اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک خاموش مگر بولتا ہوا سبق ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×