سسٹین ایبل ٹورازم فورم 2026 کا مقصد سیاحت کو پائیدار ترقی، ثقافتی ورثے کے تحفظ
ماحول کی حفاظت اور معاشی خوشحالی کا مؤثر ذریعہ بنانا ہے ۔
ویب نیوز رپورٹ: روبینہ یاسمین
کراچی: وزارتِ تجارت اور بورڈ آف انویسٹمنٹ، حکومتِ پاکستان کی سرپرستی میں اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی سی سی ڈی) کے زیرِ اہتمام سسٹین ایبل ٹورازم فورم اینڈ ایکسپو 2026 (ایس ٹی ایف 2026) کا دو روزہ انعقاد 21 اور 22 جنوری کو پی سی ہوٹل کراچی میں منعقد ہوئی۔
فورم کا عنوان ’’کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے لیے سیاحت کی تشکیلِ نو‘‘ رکھا گیا تھا ۔ اس ایونٹ میں ملک و بیرونِ ملک سے پائیدار سیاحت، سرمایہ کاری، اسلامی معیشت اور پالیسی سازی سے وابستہ نمایاں شخصیات نے شرکت کی ۔
اس فورم کا مقصد سیاحت کو پائیدارترقی، ثقافتی ورثے کے تحفظ، ماحولیاتی ذمہ داری اور جامع معاشی خوشحالی کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پرفروغ دینا تھا ۔
البرکہ بینک پاکستان اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے اسٹریٹجک پارٹنرز کے طور پر، اسلامی تعاون یوتھ فورم (آئی سی وائی ایف) نے یوتھ پارٹنر جبکہ ایئر بلیو نے ایئرلائن پارٹنر کے طور پر ایونٹ میں شرکت کی ۔
فورم کے دوران کلیدی خطابات، پینل مباحثے، ورکشاپس، سمپوزیمز اور سرمایہ کاروں کے لیے پچ سیشنز منعقد کیے گئے، جن میں اخلاقی سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل جدت اور پبلک پرائیویٹ شراکت داریوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔
افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ کے سیکریٹری جنرل یوسف حسن خلاوی نے کہا کہ پائیدار اور منصفانہ سیاحتی شعبے کی تعمیر کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی ڈی اس فورم کو مستقبل میں ایک سالانہ عالمی سمٹ کی شکل دینے کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا ۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے سیاحت کو عالمی اور ملکی سطح پر روزگار، سرمایہ کاری اور ثقافتی ہم آہنگی کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاحت پائیدار معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے ۔
اس موقع پر وفاقی وزیرِ سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان مختلف تہذیبوں، ثقافتوں، تاریخی مقامات اور قدرتی حسن سے مالا مال ملک ہے، جہاں سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔
ان کے مطابق سیاحتی شعبے میں مزید سرمایہ کاری سے قومی معیشت کو نمایاں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
گورنرسندھ کے مشیر طارق مصطفیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پائیدار سیاحت اب ایک تصور نہیں بلکہ عالمی معیشت کا ایک مضبوط ستون بن چکی ہے، جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ثقافتی روابط بڑھانے اور ماحولیاتی تحفظ میں معاون ثابت ہو رہی ہے ۔



فورم کے دورانسسٹین ایبل ٹورازم ایگزیبیشن کا بھی افتتاح کیا گیا، جس میں پائیدار سیاحت سے متعلق قابلِ عمل منصوبے، سرمایہ کاری کے ماڈلز اور بین القطاعی شراکت داریوں کو پیش کیا گیا ۔
یہ بھی پڑھیں
دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس 2026
مکلی قبرستان: سندھ کی تاریخ، فنِ تعمیراورعالمی ورثہ خطرے میں
البرکہ بینک پاکستان کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عاطف حنیف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار سیاحت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آج کی سیاحت آنے والی نسلوں کے وسائل پر اثر انداز نہ ہو اور ماحول کو محفوظ حالت میں چھوڑے۔اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیر طفیل نے کہا کہ نجی شعبہ پائیدار سیاحت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ طویل المدتی وژن اور ذمہ دار سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے۔
منتظمین کے مطابق ایس ٹی ایف 2026 ایک عمل پر مبنی بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد سرمایہ کاری کے قابل سیاحتی منصوبوں کو فروغ دینا، سرحد پار تعاون کو وسعت دینا اور ایسے ماڈلز متعارف کرانا ہے جو ماحولیاتی تحفظ، ثقافتی شناخت اور معاشی استحکام کو یکجا کریں ۔


