خیبر پختونخوا شکار سیزن 2025-26، 15 فروری سے ضلع باجوڑ کے کلوزڈ ایریاز میں کھیلا جائیگا روزانہ کی بنیاد پر بیگ لمٹ بھی مقرر کی گئی ہے۔
ویب نیوز رپورٹ: روبینہ یاسمین
خیبر پختونخوا حکومت نے خیبر پختونخوا شکار سیزن 2025-26 کے باضابطہ آغاز کا اعلان کردیا ہے ۔ چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف کے آفس آرڈر نمبر166 مورخہ 4 فروری 2026 کے مطابق، صوبے میں شکار سیزن 15 فروری 2026 سے شروع ہو کر 15 مارچ 2026 تک جاری رہے گا ۔
خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد نہ صرف شکار کی سرگرمیوں کو منظم کرنا ہے بلکہ جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا بھی ہے ۔
شکار کے دن اوراجازت شدہ شیڈول
محکمہ وائلڈ لائف خیبر پختونخوا کے جاری کردہ قواعد کے مطابق، شکار پورے ہفتے کی بجائے محدود دنوں میں کیا جا سکے گا ۔
شکار صرف ہفتہ اوراتوار کو اجازت شدہ ہوگا ۔
باقی دنوں میں شکار مکمل طور پر ممنوع ہوگا ۔
مزکورہ اقدام غیر ضروری شکار کو روکنے اور جنگلی پرندوں کی آبادی کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے ۔
شکار کے لیے لائسنس لازمی
خیبر پختونخوا شکار سیزن 2025-26 کے دوران ہر شکاری کے لیے باقاعدہ شوٹنگ لائسنس رکھنا ضروری ہوگا ۔
واضح رہے کہ شکار کی لائسنس فیس: 5,000 پانچ ہزار روپے ہے ۔
محکمہ وائلڈ لائف خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ بغیرلائسنس شکار کرنے والے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی ۔
محکمہ حکام کا کہنا ہے کہ لائسنسنگ سسٹم شفافیت پیدا کرتا ہے اورغیر قانونی شکار کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے ۔
بیگ لمٹ اور دیگر اہم پابندیاں
شکار کو پائیدار بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر بیگ لمٹ مقرر کی گئی ہے ۔
ایک دن میں زیادہ سے زیادہ پانچ پرندوں کا شکار کیا جا سکے گا ۔
مقررہ حد سے تجاوز کی صورت میں قانونی کارروائی ہوگی ۔
الیکٹرانک آلات کے ذریعے شکار مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات پرندوں کی نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں ۔
ضلع باجوڑ میں کلوزڈ ایریاز کا اعلان
محکمہ وائلڈ لائف نے ضلع باجوڑ کے چند حساس علاقوں کو مکمل طور پر شکار کے لیے بند (کلوزڈ ایریاز) قرار دیا ہے، جن میں شامل ہیں
راغگان ڈیم
تلی ڈیم
ان علاقوں میں شکار کی کسی بھی قسم کی سرگرمی قانوناً جرم تصور ہوگی ۔
حکومتی اپیل اور ماحولیاتی تناظر
ڈپٹی کمشنر باجوڑ اور محکمہ وائلڈ لائف خیبر پختونخوا نے تمام شکاری خواتین و حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی احکامات اور قوانین کی مکمل پابندی کریں ۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق، منظم شکارسیزن جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے میں اہم کردارادا کرتا ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی شکار نہ صرف پرندوں کی آبادی کو متاثر کرتا ہے بلکہ قدرتی توازن کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں
بھارتی پینگولین شہری علاقوں میں کیوں گھوم رہا ہے؟
سرخ ٹانگوں والا ٹکور: زمین پر رہنے والا شاہی پرندہ
نیپاہ وائرس: کیا پاکستان خطرے میں ہے؟ اے کے یو ایچ ماہرین کی وضاحت
پائیدار شکار کیوں ضروری ہے؟
ماہرین کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی، رہائش گاہوں کی کمی اورغیر قانونی شکار پہلے ہی جنگلی حیات کے لیے خطرہ بن چکے ہیں ۔ ایسے میں خیبر پختونخوا شکار سیزن 2025-26 کے تحت سخت قوانین پائیدار شکار کے فروغ کی طرف اہم قدم ہے ۔
یاد کرھیں ذمہ دارانہ رویہ اپنانے سے نہ صرف قدرتی وسائل محفوظ رہتے ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی جنگلی حیات کا تحفظ ممکن بنتا ہے ۔


