کراچی اور سندھ میں ٹی بی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ علامات، وجوہات، علاج اور بچاؤ جانیں، بروقت آگاہی زندگی بچا سکتی ہے۔

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
سندھ سب سے زیادہ متاثر کیوں؟
کراچی : ہرسال عالمی یوم ٹی بی (24 مارچ) کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے ۔ یہ دن صرف ایک بیماری کی یاد دہانی نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج کی نشاندہی ہے ۔
یہ دن ایک ایسے مرض کے بارے میں آگاہی دینے کے لیے مختص ہے جو صدیوں سے انسانیت کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے، اور آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا ۔ ٹی بی ایک ایسا مرض جو خاموشی سے پھیلتا ہے اور لاکھوں زندگیاں نگل جاتا ہے ۔
پاکستان کے شب سے بڑے شہرکراچی میں، جہاں لاکھوں لوگ محدود جگہوں میں رہتے ہیں، ایک عام سی کھانسی بھی ایک بڑے خطرے کی علامت ہو سکتی ہے ۔
بدقسمتی سے، زیادہ تر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں — اور یہی لاپرواہی ٹی بی کو پھیلنے دیتی ہے ۔
ٹی بی کیا ہے؟ (سائنس کیا کہتی ہے؟)
ٹیوبرکلوسس ایک بیکٹیریا (مائکرو بیکٹیریم ٹیوبرکلوسس) سے ہونے والی بیماری ہے جو ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے ۔ یہ بیماری کھانسی، چھینک یا بات کرنے سے فضا میں موجود جراثیم کے ذریعے دوسرے افراد تک منتقل ہو سکتی ہے ۔
ایک اہم حقیقت
ایک فعال ٹی بی مریض سال بھر میں 10 سے 15 افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔
ٹی بی صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں بلکہ دماغ (ٹی بی مینینجائٹس)، ہڈیاں حتی کہ گردے بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں ۔
نئی اور اہم علامات (جو اکثر لوگ نہیں جانتے)
ٹی بی کی عام علامات میں شامل ہیں مسلسل کھانسی (دو ہفتوں سے زائد) ہوتی ہے، بخار اور رات کو پسینہ آنا، وزن میں تیزی سے کم ہونا، سینے میں درد اورکھانسی کے ساتھ خون آنا ۔ اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے ۔
عام علامات کے علاوہ یہ نشانیاں بھی خطرناک ہو سکتی ہیں مثلاََ
بھوک ختم ہونا
مسلسل تھکن
گردن یا بغل میں گلٹیاں
بچوں میں نشوونما رک جانا
اگر کھانسی 2 ہفتے سے زیادہ رہے تو یہ ’’ ریڈ الرٹ ‘‘ ہے
ٹی بی کیوں اب بھی خطرناک ہے؟
دنیا میں ہرسال ایک1 کروڑ سے زائد کیسز سامنے آتے ہیں ۔
پندرہ 15 لاکھ اموات ہوتی ہیں
سب سے خطرناک قسم ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی ہے ۔
یہ وہ قسم ہے جس پر عام دوائیں اثر نہیں کرتیں — اور پاکستان اس کے ہاٹ اسپاٹس میں شامل ہے ۔
علاج — مگر ایک بڑی غلطی
ٹی بی کا علاج ممکن ہے مگر مسئلہ یہاں ہوتا ہے
لوگ دوا درمیان میں چھوڑ دیتے ہیں ۔ نتیجہ، بیماری مزید خطرناک ہو جاتی ہے ۔ اس لیے مکمل کورس کرنا بے حد ضروری ہے ۔
اہم احتیاطی تدابیر یہ ہیں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوا کا مکمل استعمال کرنا۔کھانسی کے دوران منہ کو ڈھانپنا گھر اور ماحول کو ہوادار رکھنا مریض کے برتن، تولیہ وغیرہ الگ رکھنا اورمتوازن غذا اور مناسب آرام کرنا ۔
مکمل علاج
چھ 6 سے نو 9 ماہ کا مکمل علاج
بعض کیسز میں 2 سال تک
پاکستان میں مفت علاج دستیاب ہے ( یہ ایک مثبت پوائنٹ ہے جسے ہائی لائٹ کرنا ضروری ہے ) ۔
پاکستان میں چونکا دینے والے حقائق
کے مطابق World Health Organization
پاکستان دنیا میں 5 ویں نمبر پر ہے
ہر سال تقریباً 6 لاکھ 80 ہزار افراد ٹی بی کا شکار ہوتے ہیں ۔
سالانہ تقریباً 47 ہزار اموات اس بیماری کے باعث ہوتی ہیں ۔
دنیا کے ایم ڈی آر-ٹی بی کیسز کا بڑا حصہ پاکستان میں ہے ۔
حیران کن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہر 4 میں سے 1 مریض تشخیص ہی نہیں ہو پاتا ۔
سندھ اور کراچی کیوں ہاٹ اسپاٹ ہیں؟
کراچی میں ٹی بی کے پھیلاؤ کی بڑی بنیادی وجوہات گنجان آبادیاں، کچی بستیاں ،آلودہ ہوا (ایئر پولوشن بھی خطرہ بڑھاتا ہے) ،غذائی قلت (میل نیوٹریشینز = کمزور ایمیونیٹی) ، مہنگا علاج یا رسائی کی کمی ہے ۔
کراچی کے کچھ علاقے جیسے کیماڑی اور بلدیہ ٹاؤن کو ٹی بی کے ہاٹ اسپاٹس قرار دیا گیا ہے ۔ البتہ بچوں اور خواتین میں کیسز کا بڑھنا بھی ایک تشویشناک رجحان ہے ۔
ایک نئی وجہ (اکثر نظر انداز ہوتی ہے)
(rural to urban migration) اندرونی نقل مکانی
مزدور طبقہ — زیادہ خطرے میں
ٹی بی اور دیگر بیماریاں — خطرناک تعلق
ٹی بی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اگر زیابیطیس ہو، ایچ آئی وہ ایڈز ہو ، سگریٹ نوشی یا آلودہ ماحول ہو ۔
تحقیق کے مطابق، ذیابیطس کے مریضوں میں ٹی بی کا خطرہ 3 گنا زیادہ ہوتا ہے ۔
ایک حقیقت — کراچی کے مزدور کی کہانی
کراچی کے ایک مزدور کا کہنا ہے (نام بتانے اورتصویرکھینچنےسے منع کیا ) “مجھے لگا عام کھانسی ہے، لیکن جب خون آنا شروع ہوا تو پتہ چلا کہ یہ ٹی بی ہے ۔ اگر پہلے علاج شروع کر لیتا تو شاید اتنی تکلیف نہ ہوتی ۔”
یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں — بلکہ ہزاروں مزدوروں کی ہے جو روزگار کے خوف سے علاج نہیں کرواتے ۔ علاوہ ازیں بیماری چھپاتے ہیں اور بعد ازاں یہی چیز بیماری کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ بنتی ہے ۔
عالمی پیش رفت — امید کی کرن
عالمی تناظر عالمی ادارۂ صحت کی علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی کے مطابق ہر 34 سیکنڈ میں ایک شخص ٹی بی کا شکار ہوتا ہے۔ ہر 6 منٹ میں ایک شخص اس بیماری سے جان کی بازی ہار جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے مریضوں کی تشخیص دیر سے ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہوتی ۔ علاج میں رکاوٹیں بیماری کے پھیلاؤ اور ادویات کے خلاف مزاحمت کو بڑھاتی ہیں ۔ علاج کے اخراجات خاندانوں کو معاشی مشکلات میں دھکیل دیتے ہیں ۔ تاہم مثبت پیش رفت بھی ہوئی ہے ۔
سن 2020 سے 2024 کے درمیان 28 لاکھ سے زائد افراد کی تشخیص اورعلاج کیا گیا ۔ ان میں سے 90 فیصد سے زائد مریض صحت یاب ہوئے مگر یہ کامیابیاں مستقل کوشش اور سرمایہ کاری کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتیں ۔
تاہم نئی ویکسینز اور ٹیسٹنگ ٹیکنالوجی پربھی کام جاری ہے ۔
بچاؤ — صرف علاج نہیں، روک تھام بھی ضروری
بی سی جی ویکسین (بچوں کے لیے)
کھانسی کے دوران ماسک استعمال
کمرے ہوادار رکھنا
متوازن غذا (خاص طور پر پروٹین)
نئی تحقیق
وٹامن ڈی کی کمی بھی ٹی بی کے خطرے کو بڑھاتی ہے ۔
کیا ٹی بی ختم ہو سکتی ہے؟
جی ہاں بالکل ختم ہو سکتی ہے — مگر صرف اس صورت میں جب جلد تشخیص ہو، مکمل علاج کیا جائے اور سماجی رویے تبدیل ہوں ۔
عالمی ہدف: 2030 تک ٹی بی کا خاتمہ
یہ بھی پڑھیں
روڈ رنرصحرائی پرندہ جو 32 کلومیٹر فی گھنٹہ دوڑتا ہے
امریکی بمباری: 30 ممالک، ایک سوال کیا دنیا واقعی انصاف پسند ہے؟
عالمی دن کا مقصد awr ہماری ذمہ داری
ٹی بی کے عالمی دن کا مقصد عوام میں بیماری سے متعلق آگاہی پیدا کرنا۔بروقت تشخیص اورعلاج کی اہمیت اجاگر کرنا۔عالمی سطح پر اس کے خاتمے کے اقدامات کو فروغ دینا ۔
تاہم ٹی بی کے خاتمے کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ ہم سب کو کردار ادا کرنا ہوگا ۔
علامات کو سنجیدگی سے لیں
مریض کو تنہا نہ چھوڑیں
آگاہی پھیلائیں
یاد رکھیں ٹی بی شرمندگی نہیں — بیماری ہے ۔
ٹی بی ایک خاموش قاتل ہے — مگر ناقابلِ شکست نہیں ۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات کیے تو ہم ہزاروں زندگیاں بچا سکتے ہیں ۔
آج ایک قدم اٹھائیں — کسی کو آگاہ کریں۔


