ازدواجی جائیداد میں بیوی کے حق کی توثیق، جسٹس محسن اختر کیانی کے فیصلے کو خواتین کے مالی حقوق کے لیے سنگِ میل قرار

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسماعیل
کراچی : عورت فاؤنڈیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کے حالیہ فیصلے پر گہرے اطمینان اور مسرت کا اظہار کیا ہے۔ فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ شادی کے بعد شوہر کی جانب سے حاصل کی جانے والی ازدواجی جائیداد، بشمول گھریلو اشیاء، میں شادی کے خاتمے کی صورت میں بیوی کو حصہ لینے کا حق حاصل ہوگا۔
عدالتی فیصلہ سنگِ میل قرار
عورت فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو کونسل نے اس فیصلے کو پاکستان میں عائلی قوانین سے متعلق عدالتی رہنمائی کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق عائلی قوانین کے کئی پہلو ماضی میں بڑی حد تک نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ شادی کے دوران خواتین کے مالی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس اقدام سے خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ ملے گا اور ازدواجی تعلقات میں پیدا ہونے والے تنازعات کے حل میں بھی معاونت ملے گی۔
مقدمے کا پس منظر
عورت فاؤنڈیشن کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے مقدمہ “عماره وقاص بنام محمد وقاص راشد و دیگر (رِٹ پٹیشن نمبر 365 آف 2023)” میں ازدواجی جائیداد کی تقسیم اور طلاق کے بعد نان و نفقہ سے متعلق تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا۔

عدالت نے فیصلے میں خواتین کے بعد از طلاق نان و نفقہ اور ازدواجی جائیداد میں ان کے حقوق کو تسلیم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
آئی ایم ایف معاہدہ پاکستان کی معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیشرفت قرار
نکاح نامہ میں نئی تجویز
عورت فاؤنڈیشن نے بتایا کہ فیصلے کے پیراگراف 34 میں تجویز دی گئی ہے کہ نکاح نامہ میں ایک علیحدہ کالم شامل کیا جائے۔ اس کالم میں واضح کیا جائے کہ شادی کے دوران شوہر کی ملکیت یا خریدی گئی جائیداد کو مساوی طور پر تقسیم کیا جائے گا۔

ازدواجی حقوق سے آگاہی کی ضرورت
عدالتی فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ہر بچی کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اس کے ازدواجی حقوق کے بارے میں آگاہی دی جائے۔
فیصلے کے مطابق خواتین نکاح نامہ کے موجودہ فارم کے کالم نمبر 18 میں مقدمہ رِٹ پٹیشن نمبر 365 آف 2023 کی طرز پر اپنے حقوق کا حوالہ دے سکتی ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس نوعیت کی شرائط آئینی تقاضوں اور سیڈا (کنونشن آن دی ایلیمینیشن آف آل فارمز آف ڈسکریمینیشن اگینسٹ ویمن) کے تحت فراہم کردہ تحفظات کے مطابق ہر لحاظ سے قانونی طور پر قابلِ نفاذ ہوں گی، جس کی پاکستان توثیق کر چکا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے اہم پیش رفت
جسٹس محسن اختر کیانی کا یہ فیصلہ ہمہ جہت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پاکستان میں خواتین کی معاشی خودمختاری اور صنفی مساوات کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔


