ڈیزل اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے ساحلی معیشت کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیا، کشتیوں کے انجن بند، سندھ کی ماہی گیر کمیونٹی شدید متاثر۔
ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسماعیل
کراچی : سندھ میں ڈیزل اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ماہی گیروں کے روزگار کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے ۔ سمندر میں شکار کے لیے جانے والی کشتیوں کا زیادہ تر انحصار ڈیزل پر ہوتا ہے، اور قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اخراجات میں کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔
ماہی گیروں کے مطابق، وہ پہلے ہی مہنگائی، سمندری آلودگی اور کم ہوتی مچھلی کی پیداوار جیسے مسائل کا سامنا کر رہے تھے، لیکن اب ایندھن مہنگا ہونے سے سمندر میں جانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔
چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے کئی ماہی گیر اپنی کشتیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس کے باعث ان کے گھریلو اخراجات اور آمدن کا نظام شدید متاثر ہو رہا ہے ۔
سندھ کی ساحلی پٹی کے مختلف علاقوں میں اس صورتحال نے نہ صرف ماہی گیروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے کا خدشہ بڑھا دیا ہے بلکہ مقامی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے ۔
یہ بھی بڑھیں
مٹیاری واقعہ: بچوں پر کتے چھوڑنے کا الزام، معصوم بچی شدید زخمی
لاک ڈاؤن نوٹیفکیشن جعلی قرار، سوشل میڈیا پر وائرل خبر کی حکومت نے تردید کر دی
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ساحلی علاقوں میں غربت اور بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے سماجی اثرات بھی سامنے آئیں گے ۔
ماہی گیروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیزل پر سبسڈی فراہم کی جائے یا انہیں خصوصی ریلیف دیا جائے تاکہ وہ اپنا روزگار جاری رکھ سکیں اور ساحلی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے ۔


