ایم پاکس کیس کراچی میں سامنے آنے پر محکمہ صحت متحرک، مریض آئسولیشن میں منتقل، قریبی افراد کی نگرانی، شہر بھر میں الرٹ اور احتیاطی اقدامات سخت
ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
محکمہ صحت حکومتِ سندھ کے مطابق، کراچی کے ایک 20 سالہ نوجوان میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ۔ چنانچہ متاثرہ شخص کو فوری طور پر سندھ انسٹی ٹیوٹ آف انفیکشس ڈیزیز کراچی کے آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے ۔

مریض کی علامات اور ٹیسٹ کی تفصیل
متاثرہ مریض کا تعلق کراچی سینٹرل کے علاقے بفر زون سے ہے ۔ ابتدائی طور پر مریض میں 2 اپریل کو تیز بخار، سر درد اور جسم پر دانوں کی علامات ظاہر ہوئیں ۔ بعد ازاں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی لیبارٹری سے کرائے گئے پی سی آر (پی سی آر) ٹیسٹ میں 8 اپریل 2026 کو ایم پاکس کی تصدیق ہوئی ۔
تحقیقاتی ٹیم اور نگرانی
پروونشل ڈائریکٹر ڈاکٹر آصف سید کی ہدایت پر ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے ۔ اسی طرح اس ٹیم کی سربراہی فوکل پرسن ڈاکٹر شنکر کر رہے ہیں ۔
مریض کے قریبی اہل خانہ، جن میں والد، والدہ اور کزن شامل ہیں، کی شناخت کر لی گئی ہے۔ جبکہ ان کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور فی الحال ان میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں ۔

علاج اور احتیاطی اقدامات
محکمہ صحت حکومتِ سندھ کے مطابق، وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مریض کو آئسولیشن اور علاج کے ذریعے مکمل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے ۔البتہ طبی عملے کو انفیکشن کنٹرول (آئی پی سی) کے عالمی معیار کے طریقہ کار (ایس او پیز) پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے ۔
عوام کیلئے ہدایات
محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرانے کے بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔ اگر کسی شخص میں تیز بخار، جسمانی تھکاوٹ یا جلد پر غیر معمولی دانے یا چھالے ظاہر ہوں تو وہ فوری طور پر قریبی سرکاری اسپتال سے رجوع کرے ۔
یہ بھی پڑھیں
ایم پاکس کا خدشہ، کراچی کیسز اور خیرپور وباء نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
سندھ میں لوک ڈاؤن لگ کیا : نوٹیفکیشن جاری کردیا
حکومتی نگرانی
پاکستان کی صوبائی حکومتِ سندھ نے صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں ۔
بیس 20 سالہ نوجوان میں وائرس کی تصدیق شدہ کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے نگرانی اور احتیاطی اقدامات مزید سخت کر دیئے ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ پھیلاؤ کو بروقت روکا جا سکے ۔


