موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں بڑھتا خطرہ، متاثرہ آبادی کے ڈیٹا کی کمی پر تشویش
اہم اسٹوریز اہم خبریں کراچی جانِ من

موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں بڑھتا خطرہ، متاثرہ آبادی کے ڈیٹا کی کمی پر تشویش

موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں اثرات تیز، دریائی کٹاؤ اور خشک سالی میں اضافہ، نقل مکانی کے خدشات بڑھ گئے، ماہرین کا سائنس کے مؤثر کردار پر زور

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل

کراچی : چیئر برائے انٹرنیشنل پولیٹیکل اکانومی اینڈ انوائرنمنٹل پولیٹکس، ڈیپارٹمنٹ آف ہیومینیٹیز، سوشل اینڈ پولیٹیکل سائنسز (ڈی جی ای ایس ایس)، ای ٹی ایچ زیورخ کے پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچر جرمن ماہر ڈاکٹر جان فریہارٹ نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ آبادی کے ڈیٹا کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ۔

انہوں نے کہا کہ دریائی کناروں کا کٹاؤ ماحولیاتی تبدیلی کا اہم نتیجہ ہے۔ مزید برآں انہوں نے خبردار کیا کہ بلوچستان، ساحلی سندھ اور گلگت بلتستان کے علاقے تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں ۔

سائنسی تحقیق کی اہمیت

ڈاکٹر جان فریہارٹ نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں سائنس اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی اور حیاتیاتی علوم، جامعہ کراچی میں لیکچر دیا ۔

لیکچر کا موضوع ماحولیاتی تبدیلی اور نقل مکانی تھا۔ جس میں طلبہ اور محققین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

ڈاکٹر جان فریہارٹ نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں سائنس اہم کردار ادا کرتی ہے

تحقیق کے اہم نکات

جرمن ماہر نے ماحولیاتی تبدیلی کے انسانی نقل و حرکت پر اثرات بیان کیے۔ خاص طور پر انہوں نے خطرے سے دوچار آبادیوں پر توجہ دی ۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ہجرت اور موافقت دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ اسی طرح ان کی تحقیق میں کٹاؤ، سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل شامل ہیں ۔

پاکستان میں بڑھتے خطرات

ڈاکٹر جان فریہارٹ نے کہا کہ پاکستان میں خشک سالی اور زمین کا کٹاؤ بڑھ رہا ہے۔ نتیجتاً بلوچستان، ساحلی سندھ اور گلگت بلتستان زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور ہجرت میں گہرا تعلق ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے جامع ڈیٹا ضروری ہے ۔

بنگلہ دیش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ملک موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہے

تحقیق کے طریقہ کار

انہوں نے بتایا کہ تحقیق میں سروے، ریموٹ سینسنگ اور فیلڈ ورک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ آفات سے متعلق ابلاغ اور عوامی ردعمل کا بھی جائزہ لیتے ہیں ۔

بنگلہ دیش کی مثال

بنگلہ دیش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ملک موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہے۔ جہاں سیلاب، طوفان اور خشک سالی جیسے مسائل عام ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

شہید بینظیرآباد آگاہی مہم میں بڑے انکشافات

امریکی بمباری: 30 ممالک، ایک سوال کیا دنیا واقعی انصاف پسند ہے؟

افتتاحی کلمات

اس موقع پر بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی اور حیاتیاتی علوم کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ نے مہمان کا خیرمقدم کیا ۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا عالمی مسئلہ ہے۔ کیونکہ یہ ماحولیاتی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ ماحول کے تحفظ کی ذمہ داری انسانوں پر ہے ۔

نتیجہ کیا نکلا؟

آخرکار یہ لیکچر ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات کو واضح کرتا تو ہے تاہم پاکستان میں ڈیٹا کی کمی ایک اہم چیلنج ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×