نگرانی کے فقدان سے پہاڑ کا بڑا حصہ کاٹ دیا گیا، ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں، قبضے کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

خصو صی ویب نیوز رپورٹ : محمد نعمان
کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کی قیمتی اراضی ہل پارک پر مبینہ قبضے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مگر متعلقہ ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔
رپورٹر ذرائع کے مطابق کے ایم سی کا لینڈ ڈیپارٹمنٹ اس معاملے میں سروے یا کارروائی کے بجائے ذمہ داری سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور اینٹی انکروچمنٹ اسٹیبلشمنٹ پر ڈال رہا ہے۔

ہل پارک میں غیر قانونی سرگرمیاں
رپورٹر ذرائع کے مطابق ہل پارک کا ایک بڑا حصہ، جو برسوں سے پہاڑی شکل میں موجود تھا، اب ہیوی مشینری سے کاٹا جا رہا ہے۔ یہاں مبینہ طور پر تعمیرات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
نگرانی نہ ہونے کے باعث پہاڑ کا ایک بڑا حصہ کئی گز تک متاثر ہو چکا ہے۔
اداروں کا مؤقف
ذرائع کے مطابق کے ایم سی کے شعبہ پارکس کے ایک اہلکار نے صورتحال سے ڈی جی پارکس کو آگاہ کیا۔ بعد ازاں معاملہ لینڈ ڈیپارٹمنٹ تک پہنچا۔
تاہم لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے معاملے کو اپنے دائرہ کار سے باہر قرار دیا۔
کے ایم سی لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے لیٹر نمبر 256 میں مؤقف اختیار کیا کہ غیر قانونی تعمیرات کو روکنا ایس بی سی اے کا کام ہے، جبکہ تجاوزات ہٹانا اینٹی انکروچمنٹ کی ذمہ داری ہے۔
مزید کہا گیا کہ اگر پارکس ڈیپارٹمنٹ کے پاس ملکیت سے متعلق کوئی دستاویزات موجود ہیں تو وہ فراہم کیے جائیں۔
اندرونی موقف
شعبہ پارکس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ معاملہ کئی بار لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے علم میں لایا گیا۔ مگر کوئی واضح کارروائی نہیں کی گئی۔
ان کے مطابق اداروں نے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر معاملہ مؤخر کر دیا ہے۔
ڈائریکٹر لینڈ کا مؤقف
ڈائریکٹر لینڈ عدنان زیدی نے کہا کہ اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ یہ زمین کے ایم سی کی ہے یا پی ای سی ایچ ایس کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر زمین پی ای سی ایچ ایس کی نکلی تو کے ایم سی کا تعلق نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق قبضہ کرنے والوں کے پاس اگر کے ایم سی کے دستاویزات ہیں تو ان کی بھی چھان بین کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہل پارک کا دورہ کریں گے اور مکمل صورتحال دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔
شعبہ باغات کا مؤقف
ڈی جی پارکس عارف نے کہا کہ زمین کی ملکیت کا تعین لینڈ ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ شعبہ باغات نے معاملہ متعلقہ محکمے کو بھجوا دیا ہے اور دوبارہ آگاہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں
ہل پارک اراضی: قبضہ مافیا سرگرم، پہاڑ کاٹ کر تعمیرات شروع
پِنکی کو کب تمغہ دیا جائے گا! اب تو وہ بھی تمغہ کی حق دار ہو گئی
صورتحال برقرار
ہل پارک میں جاری مبینہ قبضہ اور تعمیرات پر اداروں کے درمیان واضح رابطے اور عملی کارروائی نہ ہونے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔


