May 16, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
کراچی میں آتشزدگی کے 903 واقعات، فائر نظام پر سوالات
903 Fire Incidents in Karachi Raise Questions Over Fire Safety System

کراچی میں آتشزدگی کے 903 واقعات، فائر نظام پر سوالات

آتشزدگی: گل پلازہ سانحے کے باوجود 800 سے زائد واقعات، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے مؤثر کارروائی میں ناکام

خصو صی ویب نیوز رپورٹ : محمد نعمان

کراچی میں رواں سال اب تک آتشزدگی کے 903 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق شہر کے مختلف فائر اسٹیشنز پر آگ لگنے کے کیسز کی بڑی تعداد ریکارڈ کی گئی ہے، جو شہری حفاظتی نظام پر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

سینٹرل فائر اسٹیشن میں جنوری میں 30، فروری میں 15، مارچ میں 12 اور اپریل میں 16 واقعات رپورٹ ہوئے۔مجموعی طور پر صرف چھ ماہ کے دوران اس اسٹیشن پر 73 کیسز سامنے آئے۔

اسی طرح صدر فائر اسٹیشن میں بھی 77 آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جو شہری علاقوں میں بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس ہولناک حادثے میں 80 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے۔ متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ کئی افراد لاپتہ بھی رہے۔

گل پلازہ سانحہ

کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا اور افسوسناک واقعہ گل پلازہ میں پیش آیا۔17 جنوری 2026 کو لگنے والی آگ پر چار دن گزرنے کے باوجود مکمل قابو نہیں پایا جا سکا تھا۔

اس ہولناک حادثے میں 80 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے۔ متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ کئی افراد لاپتہ بھی رہے۔عمارت میں مجموعی طور پر 1200 دکانیں موجود تھیں، جو آگ کی شدت میں مکمل طور پر متاثر ہوئیں۔

ناظم آباد میں 79 کیسز، لیاری میں 37، سائٹ اور گلستان مصطفیٰ میں 47، کورنگی میں 48 اور لانڈھی میں 13 کیسز رپورٹ ہوئے۔

فائر اسٹیشنز کی تفصیلی رپورٹ

اعداد و شمار کے مطابق مختلف علاقوں کے فائر اسٹیشنز پر آتشزدگی کے کیسز کی صورتحال درج ذیل ہے:

ناظم آباد میں 79 کیسز، لیاری میں 37، سائٹ اور گلستان مصطفیٰ میں 47، کورنگی میں 48 اور لانڈھی میں 13 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح اورنگی ٹاؤن میں 33، شاہ فیصل میں 31، مظور کالونی اور نارتھ کراچی میں مجموعی طور پر 62 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

بلدیہ میں 2، بولٹن مارکیٹ میں 15، گلستان جوہر میں 44، سوک سینٹر میں 12، ملیر میں 40 اور گلشن اقبال میں 44 واقعات رپورٹ ہوئے۔
گلشن معمار میں 10، سائٹ سپر ہائی وے 2 میں 23، کے اے ٹی آئی میں 43، لانڈھی (لاٹھی) میں 20 اور ای پی زون میں 27 کیسز سامنے آئے۔

جبکہ این سی او ٹی آئی، سپر ہائی وے، کیٹل کالونی اور نیو ٹرک اڈا فائر اسٹیشن پر کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔

انتظامی اقدامات پر سوالات

رپورٹر ذرائع کے مطابق گل پلازہ سانحے کے بعد ہنگامی اجلاس طلب کیے گئے تھے۔ان اجلاسوں میں ڈپٹی کمشنرز کو واضح ہدایت دی گئی کہ شہر میں فائر فائٹنگ سسٹم فوری طور پر بحال کیا جائے۔

شاپنگ سینٹرز اور رہائشی عمارتوں میں فائر سسٹم کی عدم موجودگی پر کارروائی کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ تاہم عملی طور پر ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا، اور صورتحال جوں کی توں برقرار رہی۔

فیکٹریوں میں آتشزدگی کے واقعات

صنعتی علاقوں میں بھی فائر سیفٹی کی صورتحال تشویشناک رہی۔ فیکٹری مالکان کو فائر فائٹنگ سسٹم فعال کرنے کے نوٹسز جاری کیے گئے تھے، لیکن متعدد اداروں نے ان ہدایات کو نظر انداز کر دیا۔

نتیجتاً شہر کی مختلف فیکٹریوں میں درجنوں آتشزدگی کے واقعات پیش آئے، جن سے بھاری مالی نقصان ہوا۔

یہ بھی پڑھیں

راولپنڈی میں میٹرو بس سروس ناکام

ٹرمپ کا معاہدہ نہ ہونے پر ایران کو مکمل تباہ کرنے کا انتباہ

ماہر کی رائے

کے ایم سی فائر بریگیڈ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مکمل سروے کے بعد رپورٹ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور کمشنر کراچی کو ارسال کر دی گئی تھی۔

ان کے مطابق شہر میں فائر فائٹنگ سسٹم مجموعی طور پر کہیں بھی مؤثر طور پر فعال نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی وقت بڑا اور ناقابلِ تلافی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×