کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کا ایک اور واقعہ، حیدرآباد میں ہولناک انکشاف، مالک مکان اور اہلیہ گرفتار، بچی بازیاب
ویب نیوز رپورٹ:عاشق حسین
حیدرآباد کے علاقے ہٹری میں کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ مالک مکان اور اس کی اہلیہ پر بچی پر مبینہ تشدد کا الزام ہے۔ تاہم، بچی کے والدین کی شکایت پر پولیس نے فوری کارروائی کی۔ نتیجتاً، دونوں ملزمان کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کی فوری کارروائی اور نوٹس
ادھر، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس حیدرآباد شاہزیب چاچڑ نے واقعے کا فوری نوٹس لیا۔ انہوں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کینٹ پارس بکھرانی کو سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔ مزید برآں کیس کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کا حکم بھی دیا گیا۔

موقع پر کارروائی اور گرفتاری
تفصیلات کے مطابق، تھانہ ہٹڑی کی حدود علی آباد کالونی سے اطلاع موصول ہوئی۔ جس پر پولیس کی مختلف ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ سب ڈویژنل پولیس آفیسر کینٹ، ایس ڈی پی او چھلگری اور ایس ایچ او ہٹڑی نے مشترکہ کارروائی کی۔
نتیجتاً، گھر کے مالک صبغت اللہ شاہ اور اس کی اہلیہ زبیدہ کو گرفتار کر لیا گیا۔
متاثرہ بچی کی بازیابی
پولیس نے متاثرہ بچی سجنا کو بحفاظت بازیاب کرا لیا ہے۔ بچی کی عمر تقریباً 9 سے 10 سال بتائی گئی ہے۔ ابتدائی بیان کے مطابق، وہ گزشتہ دو سال سے اسی گھر میں ملازمت کر رہی تھی۔ تاہم، اسے معمولی باتوں پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور گھر میں محدود رکھا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں
لوڈشیڈنگ: پاکستان نئے توانائی بحران کی جانب گامزن؟
قانونی کارروائی
دوسری جانب، پولیس نے بچی کو اپنی تحویل میں لے کر طبی اور قانونی امداد فراہم کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ملزمان کے خلاف سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مزید تفتیش اور قانونی کارروائی جاری ہے۔