بھارتی پینگولین ایک نایاب اور شدید خطرات سے دوچارجنگلی جانور ہے تاہم شہری علاقوں میں بھارتی پینگولین کی بڑھتی موجودگی عوامی آگاہی کا نتیجہ ہے
ویب نیوز رپورٹ: روبینہ یاسمین
آزاد جموں و کشمیر: بھارتی پینگولین کے شہری علاقوں میں گھومنے پھرنے کی اطلاعات میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو درحقیقت مقامی آبادی میں بڑھتی ہوئی آگاہی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے شعور کا واضح مظہر ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام اب جنگلی جانوروں کو خطرہ سمجھنے کے بجائے قدرتی ماحول کا حصہ تسلیم کر رہے ہیں۔
جنگلی حیات کے رضاکاروں، خصوصاً فہد عبدالرحمن اور فاروق، کی مخلصانہ اورمسلسل کوششوں نے اس شعور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان رضاکاروں نے مقامی لوگوں کو جنگلی حیات کے تحفظ، متعلقہ قوانین، اور مقامی انواع کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنے کی اہمیت سے آگاہ کیا، جس کے مثبت نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں رضاکار فاروق نے ضلع بھمبر، آزاد جموں و کشمیر سے بھارتی پینگولین کی ایک ویڈیو تیار کی، جسے عوامی آگاہی کے مقصد کے تحت ڈاکٹر محمد الطاف (اسسٹنٹ پروفیسر، وائلڈ لائف اینڈ کنزرویشن بایولوجی) کے ساتھ شیئر کیا گیا۔

ویڈیو کا مقصد پینگولین کی اہمیت، اس کی قانونی حیثیت
اورتحفظ کی ضرورت کو وسیع پیمانے پراجاگرکرنا تھا، تا کہ
زیادہ سے زیادہ افراد تک درست معلومات پہنچ سکیں۔
ماہرین کے مطابق بھارتی پینگولین ایک نایاب اورشدید خطرات سے دوچارجنگلی جانور ہے، جسے غیر قانونی شکاراوراسمگلنگ کے باعث سنگین خطرات لاحق ہیں۔
تاہم حالیہ آگاہی مہمات کے نتیجے میں شہری اب جانور کو نقصان پہنچانے کے بجائے متعلقہ اداروں اور رضاکاروں کو اس کی موجودگی کی اطلاع دے رہے ہیں، جو ایک نہایت مثبت پیش رفت ہے۔
یہ بھی پڑھیں
سرخ ٹانگوں والا ٹکور: زمین پر رہنے والا شاہی پرندہ
دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس 2026
گدھے: مذہبی روایت سے موسمیاتی بقا تک
اس بڑھتی ہوئی عوامی ذمہ داری نے نہ صرف شہری ماحول میں بھارتی پینگولین کی بہتر نگرانی اور حفاظت کو ممکن بنایا ہے بلکہ انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان پرامن بقائے باہمی کو بھی فروغ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ آگاہی اسی طرح جاری رہی تو مستقبل میں نایاب جنگلی انواع کے تحفظ میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔


