شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج کی 31ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ، وزیراعلیٰ سندھ کا پیشہ ورانہ تربیت، اسٹریٹ کرائم کے خلاف کارروائی تیز کرنے اور فلاحی اقدامات کا اعادہ
ویب نیوز رپورٹ: روبینہ یاسمین
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج کی 31ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کیا۔ انہوں نے سندھ پولیس کو پیشہ ورانہ تربیت اور فلاحی اقدامات کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
تقریب سعیدآباد کراچی میں منعقد ہوئی۔ حیدرآباد رینج سے تعلق رکھنے والے 978 نئے بھرتی اہلکاروں کو باقاعدہ سندھ پولیس میں شامل کیا گیا۔
وزیراعلیٰ کی آمد پر ماؤنٹڈ پولیس کے دستے نے انہیں کالج تک پہنچایا۔
انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کراچی آزاد خان، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ٹریننگ اقبال ڈار، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ٹریننگ فیض اللہ کوریجو اور دیگر افسران نے استقبال کیا۔

حلف برداری اور خطاب
تقریب میں مارچ پاسٹ اور سلامی پیش کی گئی۔ نئے اہلکاروں سے حلف لیا گیا۔
پرنسپل پولیس ٹریننگ کالج ساجد امیر سدو زئی نے استقبالیہ خطاب کیا۔ انسپکٹر جنرل جاوید عالم اوڈھو نے فورس کے مشن، کردار اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔
وزیراعلیٰ نے 879 پاس آؤٹ اہلکاروں کو مبارکباد دی۔ انہیں قوم کا فخر اور شہریوں کے جان و مال کا محافظ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام، سول سوسائٹی اور حکومت کو سندھ پولیس سے بڑی توقعات ہیں۔
جرائم کی روک تھام اور قانون کی عملداری بنیادی ذمہ داری ہے۔ مؤثر پولیسنگ سے عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔

دہشت گردی اور جرائم کے خلاف اقدامات
مراد علی شاہ نے کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق تربیت ناگزیر ہے۔ سندھ پولیس نے دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں۔ امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب شہروں میں دھماکے معمول تھے۔ بدامنی عام تھی۔ سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں سے دہشت گردی کا بڑی حد تک خاتمہ ہوا۔ تاہم علاقائی خطرات کے باعث چوکنا رہنا ضروری ہے۔
گزشتہ تین ماہ میں ڈاکوؤں کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ انہوں نے شہری علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کے خلاف کارروائی مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔

فلاحی اقدام اور تربیتی سہولیات
وزیراعلیٰ نے پولیس اہلکاروں کا ماہانہ فوڈ الاؤنس بڑھا کر 10 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے اہلکار دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ خدمات انجام دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تربیت پولیسنگ کی بنیاد ہے۔ دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے تربیتی اداروں کو عالمی معیار کے مراکز بنایا جائے گا۔
انسپکٹر جنرل جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ طاقت کا حسن منصفانہ استعمال میں ہے۔ اہلکار عوامی خدمت اور غیر جانبداری کو ترجیح دیں۔

نئی سہولیات کا افتتاح
وزیراعلیٰ نے نو تعمیر شدہ “بھٹائی میس ہال” کا افتتاح کیا۔ اس میں 300 تربیت یافتہ اہلکاروں کی گنجائش ہے۔
خواتین اہلکاروں کے لیے 10 ایکڑ پر مشتمل نیا پی ٹی گراؤنڈ اور جوگنگ ٹریک بھی قائم کیا گیا ہے۔


ادارے کی کارکردگی
پرنسپل ساجد امیر سدو زئی نے بتایا کہ 1984 سے اب تک 94 ہزار سے زائد افسران کو تربیت دی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
سندھ کابینہ کا اجلاس، کراچی اور اوورسیز پاکستانیوں کےلیے بڑے فیصلے
خواتین صحافی مرد اکثریتی ماحول میں اپنا اثر و رسوخ کیسے قائم کرسکتی ہیں
نئے اہلکاروں کو جدید تفتیشی طریقوں، ٹیکنالوجی کے استعمال اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی سخت تربیت دی گئی۔ مقصد موجودہ سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ ہے۔
تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والوں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ جنرل سلامی پیش کی گئی اور روایتی مارچ پاسٹ کا مظاہرہ کیا گیا۔


