ڈیزل مہنگائی: قیمتوں میں اضافے سے ماہی گیری متاثر، کشتیوں کے اخراجات بڑھے، آمدنی کم، حکومت سے فوری سبسڈی اور ریلیف کا مطالبہ
ویب نیوز رپورٹ
حکومتِ پاکستان کی جانب سے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے معیشت کے ایک اہم مگر نظرانداز شعبے، ماہی گیری (فشریز)، کو شدید متاثر کیا ہے ۔
خصوصاً صوبہ سندھ میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہیں، جہاں اندازے کے مطابق چالیس لاکھ افراد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس شعبے سے وابستہ ہیں ۔
ماہی گیروں کا انحصار اور روزگار
ماہی گیر اپنی روزی روٹی کے لیے مکمل طور پر ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں۔ کشتیوں کو سمندر میں لے جانے کے لیے ایندھن ناگزیر ہے۔
سندھ کے ساحلی علاقوں میں تقریباً بیس ہزار چھوٹی بڑی کشتیاں ڈیزل سے چلتی ہیں۔ ہر کشتی اوسطاً چار سے پانچ افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔
ان کشتیوں کے ذریعے پکڑی جانے والی مچھلی لاکھوں خاندانوں کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہے۔

بڑھتی لاگت، کم ہوتی آمدنی
واضح رہے کہ ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی ماہی گیروں کے لیے بڑا مالی بوجھ بن جاتا ہے ۔ موجودہ حالات میں ایک کشتی کو سمندر میں لے جانے کے لیے کم از کم 30 سے 40 ہزار روپے کا ڈیزل درکار ہوتا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد یہ لاگت 50 ہزار روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔
دوسری جانب مچھلی کی قیمتوں میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا ۔ نتیجتاً ماہی گیروں کی آمدنی کم ہو گئی ہے ۔ حالیہ صورتحال یہ ہے کہ بہت سے ماہی گیر اب کشتیاں باندھنے پر مجبور ہیں کیونکہ ڈیزل خریدنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا ۔

ڈیزل مہنگائی اور ماہی گیروں کا مؤقف
ماہی گیر برادری نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے مسائل کو نظرانداز کر رہی ہے ۔
ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ وہ ماہانہ لاکھوں ڈالر کی برآمدات کے ذریعے ملک کے لیے زرمبادلہ کماتے ہیں، لیکن مشکلات کے وقت ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی ۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو ماہی گیر فاقہ کشی کا شکار ہو سکتے ہیں ۔
فشریز ڈیپارٹمنٹ اور سماجی تنظیموں کا کردار
اس صورتحال میں فشریز ڈیپارٹمنٹ سندھ اور سماجی تنظیموں پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماہی گیروں کی آواز بنیں ۔
اب تک ان اداروں کی کارکردگی مؤثر ثابت نہیں ہو سکی ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں
متاثرہ ماہی گیر خاندانوں کا جامع ڈیٹا بیس تیار کیا جائے
وفاقی حکومت سبسڈیڈ ڈیزل (ریشنڈ ڈیزل) کی فراہمی کا نظام متعارف کروائے
میڈیا اس مسئلے کو قومی سطح پر اجاگر کرے
یہ بھی پڑھیں
مہنگائی، پیٹرول قیمتوں میں اضافہ اور ایران کے خلاف جارحیت کے خلاف مظاہرہ
ڈیزل مہنگائی کا نتیجہ کیا نکلا؟
ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایک معاشی فیصلہ نہیں ۔ یہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں ماہی گیروں کی بقا کا سوال ہے ۔ اگر فوری طور پر ریلیف پیکج یا سبسڈی نہ دی گئی تو ماہی گیری کی صنعت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی ماہانہ لاکھوں ڈالر کے زرمبادلہ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اب وقت کم ہے۔ متعلقہ اداروں اورسماجی تنظیموں کو فوری طور پر مؤثر کردار ادا کرنا ہو گا ۔


