Site icon

مصر میں صدیوں پرانا شہر دریافت، بازنطینی دور کے آثار سامنے آگئے

Centuries-Old Byzantine City Discovered in Egypt

مصر میں صدیوں پرانا شہر صحرا کے نخلستان سے دریافت، گرجا گھر، سکے، واچ ٹاورز اور 18 تاریخی مقبرے بھی سامنے آئے

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

مصر میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے صحرا میں صدیوں پرانا ایک شہر دریافت کر لیا ہے۔

چوتھی صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والا یہ شہر بازنطینی عہد کا ہے۔ یہاں رہائشی اور مذہبی عمارتیں موجود تھیں، جن میں ایک گرجا گھر بھی شامل ہے۔

ماہرین نے کھدائی کے دوران سکے، مٹی کے برتن اور مختلف اوزار بھی دریافت کیے ہیں۔

مصری وزارتِ سیاحت کے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ قدیم شہر مصر کے مغربی صوبے نیو ویلی کے ایک صحرائی نخلستان میں دریافت کیا گیا۔

قدیم شہر کہاں دریافت ہوا؟

مصری وزارتِ سیاحت کے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ قدیم شہر مصر کے مغربی صوبے نیو ویلی کے ایک صحرائی نخلستان میں دریافت کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دریافت سے اس دور کی روزمرہ زندگی، شہری ترقی اور اقتصادی سرگرمیوں کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔

اس زمانے میں مصر، بازنطینی ریاست کے زیرِ انتظام تھا۔

ماہرین کے مطابق شہر میں شاہراہوں کے ذریعے مختلف علاقوں کو آپس میں ملایا گیا تھا۔ یہاں چوراہے اور عوامی مقامات بھی موجود تھے۔

شہر میں کیا کیا دریافت ہوا؟

ماہرین کے مطابق شہر میں شاہراہوں کے ذریعے مختلف علاقوں کو آپس میں ملایا گیا تھا۔ یہاں چوراہے اور عوامی مقامات بھی موجود تھے۔

گرجا گھر شہر کے مرکز میں واقع ہے، جبکہ دو واچ ٹاورز کے آثار بھی ملے ہیں، جنہیں غالباً شہر کے دفاع کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔

ماہرین نے موٹی حفاظتی دیواروں والے ایک بڑے ڈھانچے کے آثار بھی دریافت کیے ہیں۔ متعدد گھروں میں استقبالیہ ہال اور محرابی چھتیں موجود تھیں۔

اس کے علاوہ چولہے، کچن، کانسی کے سکے اور پیسنے کے اوزار بھی دریافت ہوئے ہیں۔

Centuries-Old Byzantine City Discovered in Egypt
مصر میں صدیوں پرانا شہر دریافت، بازنطینی دور کے آثار سامنے آگئے

سکوں اور مقبروں کی دریافت

دریافت ہونے والے سکوں پر بازنطینی شہنشاہوں کی تصاویر، لاطینی زبان کے الفاظ اور مسیحی علامات نقش ہیں۔

سونے کے سکوں پر رومی شہنشاہ قسطنطینوس دوم کے عہد کا ذکر ملتا ہے، جو 337 سے 361 عیسوی تک رہا۔

ان میں 11 مقبرے چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے، جبکہ 7 مقبرے چونے کے پتھر سے تعمیر کیے گئے تھے۔

دوسری جانب ماہرین آثارِ قدیمہ نے اسکندریہ کے مغرب میں تقریباً 62 میل کے فاصلے پر 18 تاریخی مقبرے بھی دریافت کیے ہیں۔

ان میں 11 مقبرے چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے، جبکہ 7 مقبرے چونے کے پتھر سے تعمیر کیے گئے تھے۔ ان مقبروں سے مٹی کے گھڑے، لیمپ، پلیٹیں اور چونے کے پتھر سے بنے برتن بھی برآمد ہوئے ہیں

Exit mobile version