Site icon

تیرتا شہر جو پوری دنیا کا چکر لگائے گا

Floating City That Will Travel Around the World

تیرتا شہر 80 ہزار افراد کی رہائش کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، جہاں اسکول، باغات، اسپورٹس اسٹیڈیم اور جدید شہری سہولیات موجود ہوں گی۔

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

کیا آپ دنیا کے پہلے ’’ تیرتے شہر‘‘ میں رہنا پسند کریں گے؟ ایک ایسا بحری منصوبہ جس میں 80 ہزار افراد کی رہائش کا انتظام ہوگا اور جو اپنے حجم میں بڑے کروز جہازوں کو بھی چھوٹا دکھائے گا۔

اگر ایسا ہے تو ’’فریڈم کروز‘‘ نامی کمپنی اس تصور کو حقیقت کا روپ دینا چاہتی ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ شہر جوہری توانائی سے چلنے والے ایک دیوہیکل بحری جہاز پر مشتمل ہوگا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو روجر گوچ کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ یہ منصوبہ ایک دن ضرور مکمل ہوگا۔

رائل کیرئیبین میں ایک وقت میں 7 ہزار 600 مسافر اور 2 ہزار 350 عملے کے افراد سفر کر سکتے ہیں۔

دنیا کے بڑے کروز جہازوں سے بھی بڑا

یہ بنیادی طور پر ایک بہت بڑا بحری جہاز ہوگا جس میں 80 ہزار افراد قیام کر سکیں گے۔ اس کا حجم دنیا کے سب سے بڑے کروز جہاز ’’رائل کیرئیبین‘‘ سے بھی کہیں زیادہ ہوگا۔

رائل کیرئیبین میں ایک وقت میں 7 ہزار 600 مسافر اور 2 ہزار 350 عملے کے افراد سفر کر سکتے ہیں۔

فریڈم شپ کی تعمیر پر 16 ارب 16 کروڑ ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

فریڈم شپ میں کون رہ سکے گا؟

فریڈم شپ کی تعمیر پر 16 ارب 16 کروڑ ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس میں 50 ہزار افراد مستقل رہائش اختیار کر سکیں گے، جبکہ 10 ہزار سیاح اور ہزاروں عملے کے افراد بھی اس کا حصہ ہوں گے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ فریڈم شپ کو سمندر پر قائم ایک مستقل موبائل شہر قرار دیا جا سکتا ہے، جہاں لوگ طویل مدت تک قیام کر سکیں گے۔

اس کے علاوہ دو منزلہ فوڈ ہال بھی بنایا جائے گا جہاں مختلف اقسام کے پکوان دستیاب ہوں گے۔

شہر جیسی تمام سہولیات

کمپنی کے مطابق یہ روایتی بحری جہاز کی طرح ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کرنے کے لیے نہیں بنایا جائے گا بلکہ اسے مکمل شہری ماحول کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا جائے گا۔

اس میں اسکول، کالج، دکانیں، بینک اور نائٹ کلب موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ دو منزلہ فوڈ ہال بھی بنایا جائے گا جہاں مختلف اقسام کے پکوان دستیاب ہوں گے۔

روجَر گوچ کے مطابق منصوبے میں پیدل چلنے کے لیے مخصوص راستے اور سرسبز مقامات بھی شامل ہوں گے۔

اسپورٹس اسٹیڈیم، واٹر پارک اور میوزیم

اس مجوزہ بحری شہر کی لمبائی تقریباً ایک میل ہوگی۔ رہائشیوں کی سہولت کے لیے اندرونی ٹرام سروس بھی چلائی جائے گی جو جہاز کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑے گی۔

جہاز میں 15 ہزار نشستوں پر مشتمل اسپورٹس اسٹیڈیم، واٹر پارک، باغات، کنونشن سینٹر، میوزک ہال اور دو میوزیم بھی قائم کیے جائیں گے۔

روجَر گوچ کے مطابق منصوبے میں پیدل چلنے کے لیے مخصوص راستے اور سرسبز مقامات بھی شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ ایک بہت بڑا ایکوریم بھی تعمیر کیا جائے گا جہاں غوطہ خور ڈائیونگ کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

قرضہ بحران: ہر پاکستانی کتنے لاکھ روپے کا مقروض؟

چائے اور کافی: زیادہ فائدہ یا چھپا ہوا خطرہ؟

دنیا کا چکر لگانے والا شہر

یہ تیرتا ہوا شہر ہر دو سے تین برس میں پوری دنیا کا چکر مکمل کرے گا۔ روجَر گوچ کے مطابق جہاز کی تعمیر چار سال میں مکمل ہونے کی توقع ہے، تاہم ابتدائی رہائشی تعمیراتی مراحل کے دوران ہی اس میں منتقل ہو سکیں گے۔

فی الحال یہ منصوبہ ایک تصور کی شکل میں موجود ہے اور اس پر عملی کام کب شروع ہوگا، اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

Exit mobile version