موسمیاتی تبدیلی میں گدھوں کا کردار اب سائنسی حقیقت بن چکا ہے۔
یہ جانور انسانی بقا، ماحولیاتی توازن اور کم کاربن نقل و حمل کا خاموش سہارا ہیں۔
ویب نیوز رپورٹ: روبینہ یاسمین
گدھا صدیوں سے محض بوجھ اٹھانے والا جانور سمجھا جاتا رہا ہے تاہم یہ انسانی تاریخ کا حصہ بھی رہا ہے، مگرآج موسمیاتی تبدیلی کے دورمیں اس جانور کی اہمیت ایک نئے تناظرمیں سامنے آ رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی میں گدھوں کا کردار اب صرف روایت یا ثقافت تک محدود نہیں رہا۔
بائبل کی کہانیوں میں نقل و حمل کی علامت سے لے کر افریقہ کی خشک سالیوں میں انسانی بقا تک، موسمیاتی تبدیلی میں گدھوں کا کردار اب سائنسی تحقیق کا موضوع بن چکا ہے۔ یہ حقیققت تسکلیم کرنا مشکل ہے مگر گدھا آج بھی انسان کی بقا میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔
مذہبی روایت اور گدھوں کی علامتی حیثیت
کرسمس کی کہانی سے موسمیاتی محاذ تک: گدھوں کا نظر انداز شدہ کردار
عیسائی دنیا میں کرسمس کے موقع پر وسطی اور جنوبی امریکہ میں منائی جانے والی روایت لاس پوساڈاس میں مریم اور جوزف کے سفر کو دوبارہ پیش کیا جاتا ہے، جہاں گدھے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ بائبل میں نقل و حمل کے لیے گدھے کے استعمال نے اسے صبر، برداشت اورخدمت کی علامت بنا دیا۔
ماہرین کے مطابق، یہ روایت دراصل ماحول دوست نقل وحمل کے قدیم تصور کی عکاس ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو آج موسمیاتی بحران کے دور میں دوبارہ اہم ہو گیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور انسانی بقا میں گدھوں کا کردار
حالیہ تحقیق کے مطابق، شمالی کینیا اور جنوبی صومالیہ میں گدھے خشک سالی کے دوران پانی اور خوراک کو طویل فاصلے تک لے جانے کا سب سے قابلِ اعتماد ذریعہ ہیں۔
: یونیورسٹی کالج لندن (یوسی ایل) کے محققین کے مطابق
شمالی کینیا اور جنوبی صومالیہ میں گدھے خشک سالی کے دوران پانی اور خوراک کو طویل فاصلے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
‘‘گدھوں کا نظامِ انہضام قدرتی سیڈل بیگز کی طرح کام کرتا ہے، جو اضافی پانی جذب کر کے قلت کے وقت محفوظ رکھتا ہے۔’’
اسی وجہ سے گدھے شدید موسمی حالات میں بھی انسانوں کی مدد جاری رکھ سکتے ہیں، جہاں دیگر جانور ناکام ہو جاتے ہیں۔
: کے مطابق FAO
خشک علاقوں میں گدھے گھوڑوں کے مقابلے میں 30-40 فیصد کم پانی میں زندہ رہ سکتے ہیں
| انور | خشک سالی میں برداشت | بوجھ اٹھانے کی صلاحیت |
|---|
| گھوڑا | کم | زیادہ پانی درکار |
| اونٹ | زیادہ | مہنگا |
| گدھا | بہت زیادہ | کم خرچ، زیادہ فائدہ |
گدھے اور ماحولیاتی نظام کا تحفظ
ماہرین ماحولیات کے مطابق، دیگر چرنے والے جانور زمین کو تیزی سے بنجر بنا دیتے ہیں، مگر گدھے مختلف اقسام کے پودے کھاتے ہیں، جس سے مٹی کا کٹاؤ کم ہوتا ہے۔
تیونس میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بحیرہ روم کے خطے میں گدھے حملہ آور پودوں کو ترجیحی طور پر کھاتے ہیں، جس سے مقامی نباتات کو فروغ ملتا ہے۔
یہ خصوصیت گدھوں کو ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے والا جانور بناتی ہے۔
موسمیاتی بیماریوں کے خلاف ایک غیر متوقع دفاع
عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ٹِک اور ان سے پھیلنے والی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
یونیورسٹی آف میساچوسٹس ایمہرسٹ کی ایک تحقیق کے مطابق، گدھے کی جلد ایک ایسا کیمیکل خارج کرتی ہے جس سے ٹِک دور رہتے ہیں۔
جب اسی کیمیکل کو گھوڑوں پراستعمال کیا گیا تو ان پر بھی ٹِک نے حملہ کرنا چھوڑ دیا۔
یہ دریافت مستقبل میں قدرتی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے گدھوں سے سیکھنے کا سبق
پاکستان کے خشک اور نیم خشک علاقوں جیسے تھر، چولستان اور بلوچستان میں موسمیاتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ان علاقوں میں پانی اور خوراک کی قلت روزمرہ حقیقت بن چکی ہے۔ ایسے میں موسمیاتی تبدیلی میں گدھوں کا کردار پاکستان کے لیے ایک عملی حل کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، کم لاگت اور زیادہ برداشت رکھنے والے گدھے دیہی معیشت اور موسمیاتی موافقت (کلائمٹ ایڈاپٹیشن) میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ۔
پاکستان میں گدھے، موسمیاتی بحران اور دیہی بقا
: کے مطابق FAO Pakistan
گدھے کو پاکستان میں لاکھوں خاندان گدھوں کو آمدن، صاف ٹرانسپورٹ اور کم کاربن نقل و حمل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
:تھرپارکر کے ایک مقامی باشندے کے مطابق
جب کنویں خشک ہو جاتے ہیں تو ہمارے لیے گدھا ہی واحد ذریعہ ہوتا ہے جو کئی کلومیٹر دور سے پانی لا سکتا ہے۔
پاکستان میں لاکھوں دیہی خاندان گدھوں کو روزگار، پانی کی ترسیل اور نقل و حمل کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو انہیں کلائمٹ رزیلینس اینیمل بناتا ہے۔
گدھے موسمیاتی بحران میں کیوں مؤثر ہیں؟
جب موسم دشمن بن جائے: گدھا انسان کا غیر اعلانیہ محافظ
کم پانی میں بقا میں زندہ رہنے کی صلاحیت
طویل فاصلے بوجھ کے ساتھ طے کرنے کی طاقت
کم لاگت اور کم کاربن اثرات
دیہی معیشت کے لیے موزوں
یہ بھی پڑھیں
ایمیزون کی جھیلیں105 ڈگری تک گرم،سیکڑوں ڈولفنز ہلاک
شِکرا : پاکستان کا بہادر شکاری
سانپ اور انسان کی فطرت کا حیران کن موازنہ: کیا انسان سانپ سے زیادہ چالاک ہے؟
پاکستان کے لیے ایک نظرانداز حل
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ صرف جدید ٹیکنالوجی سے نہیں جیتی جا سکتی۔ بعض اوقات صدیوں سے موجود، مگر نظر انداز شدہ وسائل، جیسے گدھا انسانیت کے لیے سب سے مضبوط دفاع ثابت ہوتے ہیں۔
صدیوں سے موجود مگر نظرانداز شدہ وسائل کامنبہ گدھا پاکستان جیسے ممالک کے لیے انسانی بقا، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی موافقت کا مضبوط ذریعہ بن سکتے ہیں۔


