April 5, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
گھریلو تشدد ایکٹ 2013: نفاذ کو مؤثر بنانے کے لیے پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد
Domestic Violence Act 2013: Policy Dialogue Held to Strengthen Implementation

گھریلو تشدد ایکٹ 2013: نفاذ کو مؤثر بنانے کے لیے پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد

Domestic Violence Act 2013: Policy Dialogue Held to Strengthen Implementation

گھریلو تشدد ایکٹ 2013 کے مؤثر نفاذ، قانونی اصلاحات اور خواتین کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی تعاون پر زور

A sick person coughing in a crowded area of Karachi representing tuberculosis spread, highlighting TB symptoms and public health risks in Sindh Pakistan

گھریلو تشدد کے خلاف قوانین کے مؤثر نفاذ اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم صوبائی پالیسی ڈائیلاگ منعقد کیا گیا۔ اس مکالمے کا اہتمام سندھ کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن (ایس سی ایس ڈبلیو) نے لیگل ایڈ سوسائٹی (ایل اے ایس) کے تعاون سے آواز ٹو پروگرام کے تحت کیا۔

یہ پروگرام کیئر انٹرنیشنل نے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (اف سی ڈی او) کے تعاون سے کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کیا۔

اس پالیسی مکالمے میں کلیدی پالیسی سازوں، ارکانِ پارلیمنٹ، سرکاری حکام، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور پسماندہ کمیونٹیز کے افراد نے شرکت کی۔

پالیسی پیپر میں اصلاحات کی تجاویز

تقریب کے دوران سندھ گھریلو تشدد (روک تھام اور تحفظ) ایکٹ 2013 کا نفاذ: قانون سے تحفظ تک کے عنوان سے ایک پالیسی پیپر پیش کیا گیا۔

اس پالیسی دستاویز میں فوری اصلاحات کا خاکہ پیش کیا گیا۔ ان اصلاحات میں قانون سازی میں ترامیم، مضبوط ادارہ جاتی ہم آہنگی، بہتر فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کا طریقہ کار، مؤثر حوالہ جاتی نظام اور انصاف و تحفظ کی خدمات میں سرمایہ کاری بڑھانے کی تجاویز شامل تھیں۔

لیگل ایڈ سوسائٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ ملیحہ ضیا نے گھریلو تشدد سے تحفظ کے لیے ایک جامع بلیو پرنٹ پیش کیا۔

انہوں نے مضبوط ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹرز (او ایس پی سیز)، بہتر پولیسنگ سسٹم، فعال ڈسٹرکٹ پروٹیکشن میکانزم اور مربوط خدمات کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔

پالیسی پیپر میں اصلاحات کی تجاویز

خواتین کے حقوق کے لیے اجتماعی اقدامات ضروری

سندھ کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن ایڈووکیٹ روبینہ امان بروہی نے شرکاء کی قیمتی آراء پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو تشدد کے مسئلے سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کمیشن کی جاری آگاہی مہم اپنے قوانین کو جانیں، اپنے حقوق کو جانیں کا بھی ذکر کیا۔ یہ مہم تھرپارکر سے لے کر شہید بینظیر آباد تک نچلی سطح پر جاری ہے تاکہ خواتین کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ کیا جا سکے۔

روبینہ امان بروہی نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی اور بامعنی اثرات کے لیے الگ تھلگ اقدامات کے بجائے مربوط اور اجتماعی حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے اجتماعی اقدامات ضروری

قانون پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت

چیئرپرسن سندھ کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن نے گھریلو تشدد ایکٹ 2013 کی منظوری پر سندھ حکومت کی کوششوں کو سراہا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ گزشتہ تیرہ برسوں میں اس قانون پر اس کی حقیقی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

انہوں نے ایکٹ میں ترامیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کمیشن، وومن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (ڈبلیو ڈی ڈی) اور دیگر سول سوسائٹی آرگنائزیشنز (سی ایس اوز) کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے تمام اضلاع میں ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹرز (او ایس پی سیز) قائم کرنے، خواتین پولیس اسٹیشنوں کو مضبوط بنانے، آگاہی کے لیے بجٹ میں اضافہ کرنے اور دیہی خواتین کو بااختیار بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

شاہینہ شیر علی نے کہا کہ قانونی آگاہی اب بھی دیہی اور پسماندہ طبقات تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ رہی

یہ بھی پڑھیں

مرتضیٰ وہاب: کراچی کے موجودہ میئر، کارکردگی، ترقیاتی منصوبے اور تنقید

دیہی علاقوں میں قانونی آگاہی کا فقدان

اپنے اختتامی کلمات میں صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی نے کہا کہ قانونی آگاہی اب بھی دیہی اور پسماندہ طبقات تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ رہی۔

انہوں نے کہا کہ اردو اور سندھی زبان میں قوانین کی محدود دستیابی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے گھر گھر آگاہی مہم کے لیے لیڈی ہیلتھ وزٹرز کے استعمال کی تجویز پیش کی اور اس بات پر زور دیا کہ گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے لڑکیوں کو بااختیار بنانا انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن اور وومن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سندھ (ڈبلیو ڈی ڈی) خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں گے۔

مشترکہ عزم کے ساتھ اختتام

پالیسی ڈائیلاگ کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

اس کے ساتھ سندھ بھر میں خواتین کے تحفظ کے قوانین کی مؤثر نگرانی اور بہتر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×