Site icon

گوگل مچھر منصوبہ: آخر کیوں؟

Google Mosquito Project: Why?

گوگل مچھر منصوبہ: ڈینگی اور دیگر بیماریوں کی روک تھام کے لیے جراثیم سے پاک نر مچھروں کو چھوڑنے کا تجربہ

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

گوگل کو سرچ انجن، ای میل اور نقشہ جات سمیت متعدد انٹرنیٹ سروسز کے لیے جانا جاتا ہے، مگر اب یہ کمپنی ایک مختلف میدان میں قدم رکھ رہی ہے۔ کمپنی کا مقصد “برے کیڑوں کو اچھے کیڑوں سے روکنا” ہے اور یہاں بات پروگرامنگ کی نہیں بلکہ حقیقی مچھروں کی ہو رہی ہے۔

کمپنی کا مقصد “برے کیڑوں کو اچھے کیڑوں سے روکنا” ہے اور یہاں بات پروگرامنگ کی نہیں بلکہ حقیقی مچھروں کی ہو رہی ہے۔

کروڑوں مچھروں کو چھوڑنے کا منصوبہ

گوگل درحقیقت جراثیموں سے پاک کروڑوں نر مچھروں کو کھلی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے امریکی حکومت سے اجازت طلب کی گئی ہے۔

کمپنی چاہتی ہے کہ ریاست کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں، جبکہ اس درخواست پر امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) غور کر رہی ہے۔

مجوزہ دو سالہ پروگرام کے تحت ہر سال ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے اور اس کی حتمی منظوری ای پی اے کی جانب سے دی جائے گی۔

گوگل کے ڈی بگ پروگرام کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے نر مچھروں کی افزائش کی گئی ہے جو جراثیموں سے پاک ہوتے ہیں۔

نر مچھروں کا منفرد کردار

گوگل کے ڈی بگ پروگرام کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے نر مچھروں کی افزائش کی گئی ہے جو جراثیموں سے پاک ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ نر مچھر انسانوں کا خون نہیں چوستے اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں، اس لیے اس منصوبے کا مقصد مچھروں کی خطرناک اقسام کی افزائش کو کم کرنا ہے تاکہ ڈینگی، زیکا، ملیریا اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی لائی جا سکے۔

یہ منصوبہ بظاہر غیر معمولی لگتا ہے، مگر گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ طویل عرصے سے صحت کے شعبے میں کام کر رہی ہے۔

الفابیٹ اور ویرلی کا کردار

یہ منصوبہ بظاہر غیر معمولی لگتا ہے، مگر گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ طویل عرصے سے صحت کے شعبے میں کام کر رہی ہے۔ الفابیٹ کی ذیلی کمپنی ویرلی نے 2026 کے آغاز میں عالمی سطح پر بیماریوں کے خلاف اقدامات کے لیے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا تھا، جبکہ گوگل کا ڈی بگ پروگرام 2016 سے جاری ہے اور اس کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی کی گرمی اور لا نینا: بحرالکاہل کے اثرات کیسے پہنچتے ہیں؟

پاک بھارت جنگ روکنے کا کریڈٹ، مارکو روبیو بھی میدان میں آگئے

مچھر کنٹرول کا نیا طریقہ

کمپنی کے مطابق روایتی طریقے جیسے کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ اپنی افادیت کھو دیتے ہیں، اسی لیے نئے طریقوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس وقت خاص طور پر مچھر کی ایک قسم ایڈیز ایجپٹائی پر توجہ دی جا رہی ہے جو ڈینگی، زیکا، زرد بخار اور چکن گنیا جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سنگاپور کا کامیاب تجربہ اس سے قبل سنگاپور میں بھی اس طرز کا تجربہ کیا گیا تھا جہاں نر مچھروں کو چھوڑنے کے بعد ان کی آبادی میں 80 سے 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں دنیا بھر میں مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے ایک مؤثر اور محفوظ حل سامنے آ سکتا ہے۔

Exit mobile version