ہنٹا وائرس کا بڑھتا خطرہ: اوقیانوسی کروز شپ پر ہلاکتوں کے بعد وائرس کے پھیلاؤ، علامات، عالمی خدشات اور احتیاطی تدابیر پر اہم رپورٹ
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
بحرِ اوقیانوسِ اٹلانٹک میں سفر کرنے والے ایک کروز شپ پر ہنٹا وائرس کی مہلک وبا کے بعد عالمی سطح پر تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ تاہم عالمی ادارۂ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال نئی کووڈ وبا کا آغاز نہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وائرس سے عالمی صحتِ عامہ کو لاحق خطرہ فی الحال کم ہے۔ اس کے باوجود مختلف ممالک نے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

کروز شپ پر 3 افراد ہلاک
ڈچ پرچم بردار کروز شپ ’’ایم وی ہونڈیئس‘‘ پر اب تک 3 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد مسافر بیمار پڑ گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد یورپ، افریقا اور لاطینی امریکا کے کئی ممالک نے مشترکہ صحتِ عامہ ردعمل شروع کیا۔
یہ جہاز بحرِ اوقیانوس میں مختلف جزیروں کے قریب سفر کر رہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اس دوران کئی مسافروں میں شدید سانس کی بیماری کی علامات سامنے آئیں۔
برطانیہ نے پہلا الرٹ جاری کیا
وبا سے متعلق پہلا الرٹ برطانیہ نے جاری کیا۔ برطانیہ نے بین الاقوامی صحت ضوابط یعنی آئی ایچ آر کے تحت عالمی ادارۂ صحت کو صورتحال سے آگاہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق جہاز ارجنٹینا سے کیپ ورڈے جا رہا تھا جب مسافروں میں بیماری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔
ڈبلیو ایچ او نے کیا بتایا؟
جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے بتایا کہ اب تک 8 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ان میں 5 کیسز لیبارٹری سے تصدیق شدہ ہیں جبکہ 3 مشتبہ کیسز ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان کیسز کا تعلق ہنٹا وائرس کی نایاب “اینڈیز” قسم سے جوڑا جا رہا ہے۔
ہنٹا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس عام طور پر چوہوں یا چوہا نما جانوروں سے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس اس وقت انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے جب متاثرہ جانوروں کے پیشاب، فضلے یا تھوک کے ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوں۔
ایسی جگہوں کی صفائی بھی خطرناک ہو سکتی ہے جہاں چوہے موجود ہوں۔ کبھی کبھار متاثرہ چوہا نما جانور کے کاٹنے سے بھی وائرس منتقل ہو جاتا ہے۔ عام حالات میں یہ وائرس انسان سے انسان میں آسانی سے منتقل نہیں ہوتا۔ البتہ اینڈیز قسم میں محدود حد تک انسان سے انسان میں منتقلی کا خدشہ رہتا ہے۔
بیماری کی علامات
ماہرین کے مطابق بیماری کے آغاز میں بخار، شدید تھکن، پٹھوں میں درد، سر درد اور متلی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بعد میں مریض کو سانس لینے میں دشواری، سینے میں جکڑن اور پھیپھڑوں میں پانی بھرنے جیسی علامات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
شدید صورت میں یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
ہنٹا وائرس کی اہم اقسام
ہنٹا وائرس سے جڑی دو بڑی بیماریاں زیادہ مشہور ہیں۔ پہلی ’’ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم‘‘ ہے۔ یہ زیادہ تر امریکا میں رپورٹ ہوتی ہے اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے۔
دوسری ’’ہیموریجک بخار بمع گردوں کا سنڈروم‘‘ ہے۔ یہ ایشیا اور یورپ میں زیادہ دیکھا جاتا ہے اور گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
اے آئی کا استعمال آپ کو سست اور گونگا بنا سکتا ہے،تحقیق
پراجیکٹ فریڈم: سعودی فضائی حدود انکار، ٹرمپ آپریشن روکنے پر مجبور
بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ماہرین نے لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ گھروں اور گوداموں میں چوہوں کا خاتمہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ خوراک کو بند ڈبوں میں محفوظ رکھنا اور صفائی کا خاص خیال رکھنا