ہارپی ایگل خاموش مگر خطرناک شکاری ہے۔ ایمیزون کے جنگلات میں سلاٹ کا شکار کرتا ہے اور بندر کو درخت سے اٹھا لیتا ہے۔

ویب فیچر اسٹوری : عمر ہاشمی / روبینہ یاسمین
کراچی : کیا آپ جانتے ہیں دنیا میں ایک ایسا شکاری پرندہ ایسا بھی موجود ہے جو درختوں کی بلندی سے بندر کو اپنے پنجوں میں جکڑ کر فضا میں لے جا سکتا ہے؟
اسے ’’ ہارپی ایگل ‘‘ کہا جاتا ہے، اور یہ جنوبی امریکہ کے گھنے بارانی جنگلات کا خاموش مگر خطرناک شکاری ہے ۔


سائنسی نام اور تعارف
Harpia harpyja : سائنسی نام
Accipitridae : خاندان
شمار : دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور عقابوں میں
حیران کن طور پر ہارپی ایگل اپنی جسامت، طاقت اور خاموش شکار کی مہارت کی وجہ سے دنیا بھر کے ماہرینِ حیوانات کی توجہ کا مرکز ہے ۔

رہائش اور شکار
ہارپی ایگل ایمیزون کے گھنے جنگلات کا بادشاہ ہے ۔ یہ پرندہ زیادہ تربرازیل، پناما، کولمبیا اور پیرو میں پایا جاتا ہے ۔

ایمیزون رین فاریسٹ میں خاص طور پر یہ رہتا ہے، جہاں مستقل نمی، سال بھر گرم درجہ حرارت اور گھنے درخت اسے چھپ کر شکار کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔

ہارپی ایگل کی حیران کن جسمانی خصوصیات
اس کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً 6.5 سے 7 فٹ ہوتا ہے ۔ نر کا قد 30 سے 33 انچ جبکہ مادہ کا قد 35 سے 38 انچ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ تاہم ان کا وزن 6 سے 9 کلوگرام تک ہوتا ہے ۔ مادہ عموماً نر سے بڑی اور زیادہ طاقتور ہوتی ہے ۔
اس کے پنجے ریچھ کے پنجوں کے برابر مضبوط سمجھے جاتے ہیں، جو اسے درختوں پر رہنے والے جانوروں کو پکڑنے میں مدد دیتے ہیں ۔

شکار کی مہارت
شاخ سے لٹکنے والاسست بندر(سلاف) اور کلغی دار بندر(کیپوچن بندر) اس کے پسندیدہ شکار ہیں ۔
یہ عقابوں میں واحد پرندہ شمار ہوتا ہے جو بندر کو براہ راست درخت سے اُٹھا سکتا ہے ۔ اس کی نظر انتہائی تیز اور پرواز خاموش ہوتی ہے، جس سے شکار کو خطرے کا احساس تک نہیں ہوتا اور ہارپی ایگل اسے دَبوچ لیتا ہے ۔
ہارپی ایگل کی افزائش نسل سے متعلق حیران کن حقائق
ہارپی ایگل اپنا گھونسلا 100 سے 150 فٹ اونچے درختوں پر بناتے ہیں ۔ مادہ سال میں عموماً 1 سے 2 انڈے دیتی ہے ۔ پینتالیس سے پچپن دنوں میں بچہ نکلتا ہے ۔ ہارپی ایگل بطور والدین تقریباً ایک سال تک بچے کی تربیت کرتے ہیں ۔
واضح رہے کہ مادہ عموماً ہر 2 سے 3 سال بعد دوبارہ نئی نسل کی افزائش کرتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی آبادی تیزی سے نہیں بڑھ پاتی ۔

کیا یہ نایاب ہے؟
ہارپی ایگل کو عالمی سطح پر خطرات لاحق ہیں، مگر یہ مکمل طور پر معدوم نہیں ۔ تحفظِ قدرت کے ادارے آئی یو سی این اسے ’’ خطرے سے دوچار ‘‘ کے قریب تر قرار دیتے ہیں ۔
ہارپی ایگل کے لئے خطرات اور تحفظ
ایمیزون رین فاریسٹ میں ہر سال لاکھوں ایکڑ جنگلات ختم ہو رہے ہیں ۔ جنگلات کی کٹائی کی بڑی وجہ مویشی پالنا، لکڑی کی صنعت و بڑھتی ہوئی طلب، زرعی توسیع اور کیڑے مار ادویات کا استعمال ہے ۔
ان کے گھونسلوں پر سانپ اور دیگر شکاریوں کے حملے اور خاص طور پر ایمیزون رین فاریسٹ میں تیزی سے ہونے والی جنگلات کی تباہی اس کے مستقبل کے لیے بڑا خطرہ ہے ۔
یہ بھی پڑھیں
پیرا گرین فالکن: جس سے متاثر ہو کر بی 2 بمبار طیارہ بنایا گیا
ماحولیاتی اہمیت
ہارپی ایگل جنگلاتی ماحولیاتی نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ بندروں اور سلاٹ کی آبادی کو متوازن رکھ کر قدرتی توازن برقرار رکھتا ہے ۔ اگر یہ شکاری ختم ہو جائے تو پورا ایکو سسٹم متاثر ہو سکتا ہے ۔

کیا ہارپی ایگل پاکستان میں زندہ رہ سکتا ہے؟ ماہرین کیا کہتے ہیں
کیا دنیا کا سب سے طاقتور عقاب پاکستان کے جنگلات میں سروائیو کر سکتا ہے؟ یہ سوال اکثر وائلڈ لائف کے شوقین افراد کے ذہن میں آتا ہے۔ لیکن اس کا جواب اتنا سادہ نہیں جتنا لگتا ہے ۔
پاکستان کا ماحول کیوں مختلف ہے؟
پاکستان میں ایمیزون جیسے مسلسل اور گھنے بارانی جنگلات موجود نہیں ۔ لہذا پاکستان میں نمی کم ہونے کے ساتھ ساتھ درختوں کی اوسط بلندی کم ہے ۔ پھراس کا قدرتی شکار (سلاٹ، مخصوص بندر) یہاں نہیں پایا جاتا ۔ اسی لیے ماہرین کے مطابق ہارپی ایگل کا قدرتی طور پر پاکستان میں زندہ رہنا انتہائی مشکل ہے ۔
کیا پاکستان کے کسی علاقے میں جزوی طور پر ممکن ہے؟
نظریاتی طور پر درج ذیل علاقے نسبتاً بہتر ہو سکتے ہیں مثلاََ
پاکستان کے شمالی جنگلات
خیبر پختونخواہ اور آزاد کشمیر، یہاں درخت تو موجود ہیں، مگر موسم سرد ہے اور ماحولیاتی نظام ایمیزون سے مختلف ہے ۔
جنوبی ساحلی علاقے
کراچی کے قریب مینگرووز تو ہیں لیکن مینگرووز کا ایکو سسٹم مکمل طور پر مختلف ہے اور شکار کی اقسام بھی الگ ہیں ۔ تاہم وہاں اس کا قدرتی شکار موجود نہیں ۔
کیا ہارپی ایگل کو چڑیا گھر میں رکھا جا سکتا ہے؟
تکنیکی طور پر ہاں اسے چڑیا گھر میں رکھا جاسکتا ہے ، لیکن صرف اگر درجہ حرارت اور نمی کنٹرول ہو، خوراک مخصوص اور قدرتی طرز کی ہو، بین الاقوامی قوانین (سائٹس) کی اجازت ہو ۔ بصورتِ دیگر اس کی افزائش نسل اور لمبی مدت تک بقا مشکل ہوگی ۔


ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ہے اسے وہی ماحول درکار ہے جو ایمیزون کے بارانی جنگلات فراہم کرتے ہیں۔ Tropical Rainforest Specialist وائلڈ لائف ماہرین کے مطابق، ہارپی ایگل ایک
پاکستان کا ماحولیاتی نظام، شکار کی دستیابی اور موسم، اس کے قدرتی تقاضوں سے مختلف ہے، اس لیے یہاں اس کی کامیاب بقا کے امکانات بہت ہی کم ہیں ۔
نتیجہ
ہارپی ایگل کو پاکستان لانا ایک غیر فطری تجربہ ہوگا ۔ کیونکہ یہ پرندہ قدرتی طور پراپنے اصل مسکن — یعنی ایمیزون کے بارانی جنگلات — میں ہی بہتر انداز میں زندہ رہ سکتا ہے ۔
پاکستان کا موسم، جنگلاتی ساخت اور خوراکا نظام اس کے لیے موزوں نہیں ۔ اگر اسے پاکستان لایا جائے تو سروائیوال ریٹ کم ہوگا اورافزائش نسل تقریباً ناممکن ہوگی ۔
لہذا یہ نتیجہ تمام تر سائنسی شواہد، ڈیٹا اور تحقیق کی روشنی میں طے کیا گیا ہے کہ قدرتی انواع کو ان کے ماحول میں محفوظ رکھنا ہی بہترین حکمتِ عملی ہے ۔

اختتامیہ
ماہرین کا ہنا ہے کہ اگر ایمیزون کے جنگلات اسی رفتار سے ختم ہوتے رہے تو ہارپی ایگل آنے والی نسلوں کے لیے صرف تصاویر اور دستاویزی فلموں تک محدود ہو سکتا ہے ۔ قدرت کے اس شاہکار کو بچانے کے لیے جنگلات کا تحفظ ناگزیر ہے ۔


