ایچ آئی وی، قومی ٹاسک فورس کی بیماری کو قابلِ اطلاع قرار دینے، ریئل ٹائم ڈیش بورڈ بنانے اور ڈیٹا شیئرنگ بہتر کرنے کی سفارش
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
اسلام آباد: پاکستان میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے صرف 25 فیصد افراد اپنی بیماری سے آگاہ ہیں۔ 16 فیصد مریض علاج حاصل کر رہے ہیں۔ صرف 6 فیصد میں وائرس پر مؤثر قابو پایا گیا ہے۔ یہ انکشاف جمعہ کو قومی ٹاسک فورس کے اجلاس میں کیا گیا۔
ٹاسک فورس کے دوسرے اجلاس میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے شکایت کی کہ مختلف علاقوں سے ایچ آئی وی ڈیٹا موصول نہیں ہو رہا۔ متعلقہ مینجمنٹ یونٹس بھی ڈیٹا فراہم نہیں کر رہے۔
ٹاسک فورس نے ایچ آئی وی کو ملک بھر میں قابلِ اطلاع بیماری قرار دینے کی سفارش کی۔ حکام کے مطابق اس سے نگرانی اور رپورٹنگ کا نظام بہتر ہوگا۔

اجلاس میں اہم شخصیات کی شرکت
اجلاس کی صدارت وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کی۔ سابق معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا بھی شریک ہوئے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر عبد الولی خان بھی موجود تھے۔
وزارتِ صحت، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد، یو این ایڈز اور ڈریپ کے حکام نے شرکت کی۔ صوبائی محکمہ صحت کے نمائندے بھی اجلاس میں شامل تھے۔
ریٹائرڈ میجر جنرل اظہر محمود کیانی ٹاسک فورس کے شریک چیئرمین ہیں۔ دیگر ارکان میں ڈاکٹر سائرہ افضل اور ڈاکٹر صبیہ قاضی بھی شامل ہیں۔
سرویلنس سروے پر اعتراض
ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے سروے کے نتائج اجلاس میں پیش کیے۔ یہ سروے ایچ آئی وی سے متاثر حساس طبقات پر کیا گیا تھا۔
ایک غیر سرکاری تنظیم نے کچھ نتائج پر اعتراض کیا۔ یہ تنظیم انجیکشن منشیات استعمال کرنے والوں کے ساتھ کام کرتی ہے۔ ٹاسک فورس نے نتائج کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت دی۔
ایچ آئی وی کی صورتحال
اجلاس کو بتایا گیا کہ صرف ایک چوتھائی افراد اپنی بیماری سے آگاہ ہیں۔ علاج کی شرح بھی کم ہے۔ وائرل سپریشن بھی انتہائی محدود ہے۔
بڑی رکاوٹیں
اجلاس میں بتایا گیا کہ بدنامی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ امتیازی سلوک کا خوف بھی مسئلہ ہے۔ کلینکس تک محدود رسائی صورتحال کو مزید مشکل بناتی ہے۔
نوجوانوں میں آگاہی کی کمی بھی اہم مسئلہ ہے۔ حساس طبقات میں معلومات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ صرف کلینک پر مبنی ٹیسٹنگ بھی مؤثر نہیں۔
پالیسی تجاویز
ڈاکٹر ظفر مرزا نے قومی پبلک ہیلتھ قانون کی تجویز دی۔ اس سے ڈیٹا شیئرنگ لازمی ہو سکے گی۔ وفاق اور صوبوں میں رابطہ بہتر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کمزور رابطہ کاری بڑا مسئلہ ہے۔ بروقت معلومات کی کمی بھی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔
ریئل ٹائم ڈیش بورڈ
ٹاسک فورس نے ریئل ٹائم ایچ آئی وی ڈیش بورڈ بنانے پر اتفاق کیا۔ یہ منصوبہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ساتھ مل کر بنایا جائے گا۔
اس ڈیش بورڈ سے کیسز کی نگرانی بہتر ہوگی۔ رجحانات کا تجزیہ بھی ممکن ہوگا۔ وفاق اور صوبوں میں رابطہ مضبوط ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستانی محقق کا صحت کے شعبے میں انقلابی استعمال کا خواب
تربوز کھانے سے اموات کی بڑی وجہ سامنے آگئی
احتیاطی اقدامات
اجلاس میں سرنجوں کے دوبارہ استعمال پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ جعلی اور غلط لیبل والی سرنجوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
مالی امداد
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 20 سال میں 192.5 ملین ڈالر ملے۔ یہ امداد گلوبل فنڈ نے فراہم کی۔ تقریباً 75 فیصد رقم اقوامِ متحدہ کے اداروں اور این جی اوز کو ملی۔ حکومت کو 45.93 ملین ڈالر 2004 سے 2026 تک موصول ہوئے۔