RY MEDIA TALKS

ہمپ بیک وہیل کی واپسی نے سمندری دنیا کا راز کھول دیا

ہمپ بیک وہیل کی واپسی، نئی تحقیق میں انکشاف کہ یہ دیوہیکل مخلوق سمندری ماحول اور آکسیجن کے توازن میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے

ویب نیوز رپورٹ

آپ جہاں اس وقت موجود ہیں، وہاں سے تقریباً 15 ارب میل دور خلا میں دو 12 انچ کے سنہری ریکارڈ گردش کر رہے ہیں۔ ان ریکارڈز میں 55 انسانوں اور ایک ہمپ بیک وہیل کی جانب سے مختلف زبانوں میں پیغامات شامل ہیں۔

یہ پیغامات ماہر فلکیات کارل سیگن کی ترتیب دی گئی پلے لسٹ کا حصہ تھے۔ انہیں اس انداز میں تیار کیا گیا جیسے ہمپ بیک وہیل کم فریکوئنسی آوازوں کے ذریعے پورے سمندر میں پیغام پہنچاتی ہے۔

یہ ریکارڈ سن 1977 میں امریکی خلائی ادارے ناسا کے ووئیجر مشنز کے ساتھ خلا میں بھیجے گئے تھے۔

کارل سیگن نے ان سنہری ریکارڈز کے بارے میں لکھا کہ ’’یہ دراصل گہرے سمندر کی وسعتوں میں بھیجا گیا محبت بھرا پیغام ہے‘‘۔

اس وقت دنیا کی تقریباً 95 فیصد بڑی وہیلز کا شکار کیا جا چکا تھا۔ اسی لیے یہ پیغام ایک اداس محبت کے گیت جیسا محسوس ہوتا تھا۔

تقریباً پچاس سال بعد ہمپ بیک وہیل کی واپسی کو ماحولیات کے تحفظ کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے

وہیل کی واپسی اور ماحولیاتی اہمیت

تقریباً پچاس سال بعد ہمپ بیک وہیل کی واپسی کو ماحولیات کے تحفظ کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، مستقبل میں مصنوعی ذہانت ان خلائی پیغامات کے ’’الفاظ‘‘ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

سمندری ماحولیات کے ماہر ایری فریڈلینڈر کے مطابق، وہیل سمندر کی سطح پر غذائی اجزا لاتی ہیں۔ اس سے پودوں کی نشوونما ہوتی ہے۔ یہی پودے سمندری حیات کے لیے خوراک بنتے ہیں۔ اس طرح وہیل سمندر کو زرخیز بناتی ہیں اور قدرتی نظام کو متوازن رکھتی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2023 میں ماہرین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے مختلف مقامات پر تحقیق کی

عالمی تحقیق اور معاشی قدر

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2023 میں ماہرین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے مختلف مقامات پر تحقیق کی۔ ان میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانتا کروز کی لیبارٹری، کولمبیا کے ساحلی علاقے اور انٹارکٹکا شامل تھے۔ ایری فریڈلینڈر گزشتہ 25 برس سے وہیل پر تحقیق کر رہے ہیں۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ماہرین کے مطابق، ایک بیلین وہیل اپنی زندگی میں تقریباً 20 لاکھ ڈالر کی ماحولیاتی خدمات فراہم کرتی ہے۔ جب وہیل گہرائی سے آئرن اور نائٹروجن سطح پر لاتی ہیں تو یہ قدرتی کھاد کا کام کرتی ہیں۔

اس سے فائٹوپلانکٹن بڑھتے ہیں۔ یہ ننھے پودے دنیا کی تقریباً آدھی آکسیجن پیدا کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے ماہر کرس جانسن کے مطابق، ’’یہی اصل خزانہ ہے‘‘۔

تحقیقی ٹیم نے انٹارکٹکا میں چار دن کے دوران درجنوں وہیلز کا مشاہدہ کیا

تحقیق کے جدید طریقے

تحقیقی ٹیم نے انٹارکٹکا میں چار دن کے دوران درجنوں وہیلز کا مشاہدہ کیا۔

ڈرون کیمروں سے ان کی جسامت ناپی گئی۔ خصوصی سینسرز کے ذریعے حرکت اور رویے کا ڈیٹا جمع کیا گیا۔

ماہرین نے کراس بو کے ذریعے چھوٹے بایوپسی نمونے بھی حاصل کیے۔

یہ عمل وہیل کے لیے تقریباً مچھر کے کاٹنے جیسا ہوتا ہے، مگر اس سے ہارمونز، آلودگی اور حمل کی شرح کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

فریڈلینڈر کے پاس 2500 سے زیادہ نمونے موجود ہیں، جن سے ماحولیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق سمندری برف پگھلنے سے کرِل کی تعداد کم ہو رہی ہے

سمندری برف اور خوراک کا بحران

تحقیق کے مطابق سمندری برف پگھلنے سے کرِل کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

کرِل وہیل کی بنیادی خوراک ہیں۔ ان کی کمی سے ہمپ بیک وہیل کی افزائش متاثر ہو رہی ہے۔

ہجرت کے دوران انہیں کارگو جہازوں، ماہی گیری کے جال اور پلاسٹک آلودگی کا سامنا ہوتا ہے

اکیسویں صدی کے خطرات

ہمپ بیک وہیل کی بحالی کے باوجود خطرات ختم نہیں ہوئے۔ ہجرت کے دوران انہیں کارگو جہازوں، ماہی گیری کے جال اور پلاسٹک آلودگی کا سامنا ہوتا ہے۔

کرِل آئل سپلیمنٹس اور فش فارمنگ کے لیے خوراک کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ اس کے باعث انسان اور وہیل کے درمیان خوراک کا مقابلہ بڑھ رہا ہے۔

جنوبی سمندر میں صنعتی کرِل ماہی گیری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ماحولیاتی تنظیم سی شیفرڈ نے اس کی نگرانی کا اعلان کیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی مدد سے سائنس دان وہیل کی آوازوں میں نئے پیٹرنز تلاش کر رہے ہیں

وہیل کے گیت اور مصنوعی ذہانت

مصنوعی ذہانت کی مدد سے سائنس دان وہیل کی آوازوں میں نئے پیٹرنز تلاش کر رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کو امید ہے کہ ایک دن ہمپ بیک وہیل کے گیتوں کے معنی بھی سمجھ لیے جائیں گے۔

دسمبر میں الاسکا میں ایک تجربے کے دوران محققین نے ایک وہیل سے تقریباً 20 منٹ تک رابطہ کیا۔ ریکارڈ شدہ آواز پر مادہ وہیل نے 36 بار جواب دیا اور وقفے بھی برقرار رکھے۔

ماہرین کے مطابق، یہ مکمل زبان نہیں، مگر زبان جیسی خصوصیات ضرور رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

لوڈشیڈنگ: پاکستان نئے توانائی بحران کی جانب گامزن؟

قبرستان سے بچوں سمیت 56 لاشیں برآمد، آخر کیا ہوا؟

عالمی معاہدہ اور مستقبل

تحقیق کے دوران یہ خبر بھی سامنے آئی کہ اقوام متحدہ میں عالمی سمندری معاہدہ منظور ہو گیا ہے۔ اس کا مقصد 2030 تک سمندروں کے 30 فیصد حصے کو محفوظ بنانا ہے۔ تاہم اس کے نفاذ کے لیے کم از کم 60 ممالک کی توثیق ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ماضی کی طرح اقدامات کیے گئے تو فائدہ صرف وہیل نہیں بلکہ پوری انسانیت کو ہوگا۔

کارل سیگن نے لکھا تھا ’’ممکن ہے ہماری آوازیں سمجھ نہ آئیں، مگر کوشش ضروری ہے‘‘۔

Exit mobile version