RY MEDIA TALKS

ابراہیم حیدری میں پانی کی شدید قلت پر احتجاج، شہریوں نے سڑکیں بلاک کردیں

ابراہیم حیدری میں مظاہرین کا تنویر چودری پر فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام، سندھ حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

ساحلی علاقے ابراہیم حیدری میں پانی کی شدید قلت پر شہری سراپا احتجاج بن گئے۔ مشتعل مظاہرین گھروں سے باہر نکل آئے۔ انہوں نے پانی کی عدم فراہمی کے خلاف مختلف شاہراہوں پر دھرنا دیا اور سڑکیں بند کر دیں۔

مظاہرین نے تنویر چودری کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ ابراہیم حیدری کا پانی بند کرانے میں اس کا اہم کردار ہے۔

شہریوں کے مطابق گزشتہ 15 برس میں کبھی ایسی سنگین صورتحال نہیں دیکھی گئی۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں علاقے میں پانی کی صورتحال بہتر تھی۔ عوام کو مناسب مقدار میں پانی فراہم کیا جاتا تھا۔ تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود پانی کی فراہمی معطل ہے۔

شہریوں کے مطابق گزشتہ 15 برس میں کبھی ایسی سنگین صورتحال نہیں دیکھی گئی۔ پانی کے بحران نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔

مظاہرین نے کہا کہ جان عالم جاموٹ کے دور میں علاقے کو بہتر انداز میں پانی فراہم کیا جا رہا تھا۔ تاہم کورنگی ڈھائی نمبر، فشرمین چورنگی اور چکرا گوٹھ کے وال پر بعض عناصر نے قبضہ جما رکھا ہے۔

عوام نے الزام لگایا کہ جب ابراہیم حیدری کے وال مین پانی کھولنے جاتے ہیں تو تنویر چودری اور اس کے ساتھی وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث وال مینوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً پورے علاقے میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کر جاتا ہے۔

اہلیانِ ابراہیم حیدری نے سندھ حکومت اور واٹر بورڈ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پانی کی فراہمی بحال کی جائے۔ مزید برآں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مدرز ڈے کی تاریخ اور ماؤں کو خراجِ تحسین

مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر پانی کا مسئلہ فوری حل نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ دوسری جانب انہوں نے کورنگی کراسنگ سمیت دیگر اہم شاہراہیں بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

Exit mobile version