انڈس ڈولفن کی نقل و حرکت اس وقت سے محدود ہوتی چلی گئی جب دریا پر مسلسل بیراجز و ڈیمز بننے کے بعد دریا سکڑتا چلا گیا

ویب نیوز رپورٹ : جاوید احمد مہر
کراچی : جاوید احمد مہر، سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے چیف کنزرویٹر ہیں ۔ ڈپارٹمنٹ میں ان پوسٹنگ بعد سے ان کی ذاتی دلچسپی اور کاوشوں کی بدولت سندھ کی جنگلی حیات کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے عملی اقدامت میں تیزی دیکھی گئی ہے ۔ انہوں نے دریائے سندھ کی نایاب رانی انڈس ڈولفن کے بارے میں اہم معلومات سے آگاہ کرتے ہوئے بتا یا ہے کہ حکومت سندھ نے 2022 میں ’’انڈس ڈولفن‘‘ کو قوانين ’’تحفظ جنگلی حیات صوبہ سندھ‘‘ کے تحت ’’دریائے سندھ کی رانی‘‘ قراردیا ۔
دریائے سندھ ، سکھر کے مقام پر ریکارڈ شدہ اس ویڈیو میں سانس لینے کے لیے سطحِ آب پر چند سیکنڈ کے لیے نمودار ہوتی انڈس ڈولفن کو دیکھا جاسکتا ہے ۔

سائنسی و تاریخی حوالوں سے ثابت ہے کہ سکھر بیراج کی تعمیر سے پہلے
انکا مسکن دریائے سندھ اٹک کے مقام سے انڈس ڈیلٹا تک پھیلا ہوا تھا جو کہ
دریا پر مسلسل بیراجز و ڈیمز بننے کے بعد سکڑتا چلا گیا اور اس کی نقل و
حرکت محدود سے محدود تر ہوتی چلی گئی ۔
سن1970 کی دہائی میں شہید ذوالفقارعلی بھٹو کی ذاتی دلچسپی پر اُس وقت کی سندھ حکومت اور وولکارٹ فاؤنڈ یشن (جن کا آفس اس وقت کراچی میں بھی واقع تھا) نیورو ایناٹومی کے ایک جرمن ماہر ’’پروفیسر جارجیو پلری‘‘ جو کہ سوئس انسٹیٹیوٹ آف نیورو ایناٹومی سے تعلق رکھتے تھے، کو انڈس ڈولفن کے حوالے سے تحقیقات اور تجاویز مرتب کرنے کی غرض سندھ آنے کی دعوت دی ۔
پروفیسر پلری نے انڈس ڈیلٹا سے گڈو تک متعدد سروے کیے جو کہ تاریخی حوالہ جات کے مطابق 40 سے زیادہ مقامات پر کیے گئے تھے۔ دریائے سندھ کی ان مہمات کو پروفیسر جارجیو پلری نے اپنی یاداشت ’’دی سیکریٹس آف بلائینڈ ڈولفنز‘‘ نامی کتاب میں لکھی ہیں ۔
واضح رہے کہ یہ کتاب آج بھی سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمینٹ سے مقررہ نرخ پر خریدی جاسکتی ہے۔ اس کتاب میں پروفیسر پلری نے دریائے سندھ ، سکھر کے کرم الاہی میربحر سے اپنی دوستی کا ذکر کیا ہے ۔
یاد رہے کہ کرم الاہی میربحر کی بڑی کارگو کشتی میں پروفیسر پلری نے دریائے سندھ کا متعدد بار سفر کیا تھا ۔ حکومت سندھ نے پروفیسر پلری کی شفارش پر دریائے سندھ کے گڈو بیراج اور سکھر بیراج کا درمیانی حصہ ’’انڈس ڈولفن کے تحفظ کا علاقہ‘‘ قرار دیا ۔
انڈس ڈولفنز کی خصوصیات کی بنا پران کو دنیا بھر کی ڈولفنز برادری میں خاص مقام حاصل ہے، جیسا کہ
دنیا بھر میں حقیقی دریائی ڈولفنز میں چائنا کی یانگ زی ندی کی ڈولفن جس کو وہاں کے مقامی ’’بیجی‘‘ کہتے اوراس کی نسل ماضی قریب میں معدوم ہوچکی ۔
ایمازون ندی کی ڈولفن جس کو وہاں کے مقامی’’بوٹو‘‘ کہتے ہیں ۔ گنگا ندی کی ڈولفن جسکو وہاں کے مقامی’’سوسو‘‘ کہتے ہیں اور دریائے سندھ کی انڈس ڈولفن جس کو مقامی ’’ٻلھڻ‘‘ کہتے ہیں، شامل ہیں ۔

سمندری ڈولفنز کی آنکھیں ہوتی ہیں جبکہ انڈس ڈولفنز دیکھ نہیں سکتیں جس کی وجہ دریا کا پانی جو سمندر کے پانی کی طرح شفاف نہیں بلکہ اس میں مٹی کے باریک ذرات ملے ہوتے ہیں، جو دریا کے بہاؤ کی وجہ سے سطح زمیں پر ساکت نہیں ہوتے بلکہ مسلسل حرکت میں ہوتے ہیں ۔ ان حالات کی وجہ سے دریا کے پانی کے اندر چند انچ دور بھی نہیں دیکھا جاسکتا ۔
اس صورتحال میں ’’سونار سسٹم‘‘ جو کہ قدرت سے عطا شدہ راڈر ٹیکنالوجی ہے ، انکی نقل و حرکت اور حصول خوراک کا ذریعہ ہوتی ہے ۔ ڈولفنز کی خوراک چھوٹے دریائی حشرات اور چھوٹی سائز کی مچھلی ہوتی ہے ۔
انڈس ڈولفنز چونکہ مچھلی نہیں ہیں اس لیے سانس لینے کی غرض سے سطح آب پر ہر 80 سے 120 سیکنڈس کے بعد آنا لازم ہے، اگر کہیں جال وغیرہ میں پھنس گئیں تو 140 سیکنڈس کے بعد بچنا محال ہوتا ہے ۔
انکو کھانا قانوناً اور شرعاً منع ہے اس لیے لوگ ان کا گوشت کا نہیں کھاتے ۔ دنیا میں صرف پاکستان میں پائی جاتی ہے اور اس وقت انکی کی سب سے بڑی پاپولیشن دریائے سندھ گڈو اور سکھر بیراج ہے درمیان ہے جوکہ 2020 کے سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمینٹ کے سروے کے مطابق 1419 کے لگ بھگ ہے ۔
جبکہ 1980 کے سروے کے مطابق 346، 1982 کے سروے کے مطابق 360 ، 1989 کے سروے کے مطابق 368 ، 1990 کے سروے کے مطابق 387 ، 1991 کے سروے کے مطاق 398 ، 1992 کے سروے کے مطابق 410 ، 1993 کے سروے کے مطابق 426 ، 1995 کے سروے کے مطابق 447 ، 1996 کے سروے کے مطابق 458 ڈولفنز موجود تھیں ۔
انڈس ڈولفنز کو لاحق خطرات میں ڈیمز کی تعمیر کی وجہ سے دریا میں پانی کے بہاؤ میں کمی، آلودگی، دریا میں مچھلی کا غیرقانونی شکار اورڈولفنز کا دریا سے نکلنے والی نہروں میں چلے جانا شامل ہیں ۔
ان ڈولفنز کو سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے’’انڈس ڈولفن کنزرویشن سینٹر‘‘ کے اہلکار ریسکیو کرتے ہیں اور واپس دریائے سندھ میں رلیز کرتے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں
ایک سو پچاس سالہ برگد کے درخت کی بحالی مکمل
فشریز ڈپارٹمنٹ سندھ کے 1990 کی دہائی کے ڈیٹا کے مطابق، اس وقت بھی دریائے سندھ سکھر میں ہزاروں کے قریب کشتیاں موجود ہوتی تھیں ۔ ان کشتیوں میں میربحر، ملاح، مہانے یا میرانی برادری کے گھر ہوتے تھے جو سیلاب کے موسم میں دریائے سندھ کے اطراف میں رہنے والے دیہاتوں کو رور ٹرانسپورٹ مہیا کرتے تھے اور بدلے میں گندم کے موسم میں اناج لیتے تھے ۔
جبکہ نان فلڈ سیزن میں دریائے سندھ کے کناروں پر یا جزیروں پر سبزیاں اُگاتے تھے جن کو’’ٹاپو کلٹیوشن‘‘ کہا جاتا تھا ۔ دریا کے بہاؤ میں مسلسل کمی اور ڈاکو راج سے دریائے سندھ کی ثقافت کے امین ایک ایک کرتے دریائے سندھ سکھر سے ہجرت کرکے کچھ تونسہ تو کچھ دریا خان، ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقوں میں آباد ہوگئے ۔ جبکہ بہت سارے صوبے کے شہری علاقوں میں غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔
دریائے سندھ، انڈس ڈولفن اور ملاحوں کی زندگی پر فرانس کے فلم میکر کی 1980 کی دہائی میں بنائی گئی ڈاکیومنٹری ایک اہم ریفرنس بھی فراہم کرتی ہے ۔


