ایران کے دارالحکومت تہران میں کارروائی، کئی اعلیٰ فوجی اور سیکیورٹی عہدیدار بھی شہید، جوابی کارروائی سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آگیا
تل ابیب، واشنگٹن اور تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف غیر معمولی فوجی کارروائی کی۔
یہ گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی مشترکہ مہم قرار دی جا رہی ہے ۔
اس آپریشن میں ایران کی اعلیٰ قیادت، فوجی تنصیبات اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ مقصد تہران کی اسٹریٹجک صلاحیت کو کمزور کرنا اور کمانڈ ڈھانچے کو مفلوج کرنا بتایا گیا ۔
اسرائیلی حکام کے مطابق کارروائی کو ’’ آپریشن لائنز رور‘‘ کا نام دیا گیا ۔
حملوں میں اسرائیلی دفاعی افواج اور امریکی فوجی اثاثے شامل تھے۔ کروز میزائل، لڑاکا طیارے اور ڈرون سسٹمز استعمال کیے گئے ۔
سپریم لیڈر اور اعلیٰ کمانڈر ہلاک
ایرانی سرکاری میڈیا اور مغربی ذرائع کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تہران کے قریب ایک مربوط حملے میں شہید ہو گئے ۔
حملے میں کئی اعلیٰ فوجی اور سیکیورٹی عہدیدار بھی شہید ہوگئے ۔
رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں ۔
• علی شمخانی، مشیر برائے سلامتی امور اور سیکریٹری قومی سلامتی کونسل
• محمد پاکپور، کمانڈر اسلامی انقلابی گارڈ کور گراؤنڈ فورسز
• عزیز نصیرزادہ، وزیر دفاع
• محمد شیرازی، سربراہ سپریم لیڈر ملٹری آفس
• صلاح اسدی، سربراہ آئی آر جی سی ایمرجنسی کمانڈ انٹیلی جنس
• حسین جبل عاملیان، سربراہ ایس پی این ڈی ریسرچ آرگنائزیشن
• عبدالرحیم موسوی، چیف آف اسٹاف ایران مسلح افواج
• غلام رضا رضائیان، سربراہ آئی آر جی سی پولیس انٹیلی جنس
ابتدائی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے اہل خانہ کی شہادت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں ۔
ذرائع کے مطابق کارروائی طویل انٹیلی جنس نگرانی کے بعد ممکن ہوئی۔ موساد اور سی آئی اے نے جدید نگرانی نظام اور انسانی ذرائع استعمال کیے ۔
حملہ چند منٹوں میں مکمل ہوا، جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان گہری ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے ۔

جانی نقصان اور تباہی
مختلف ذرائع کے مطابق ایران میں پانچ سو پچاس 550 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ ان میں کم از کم ایک سو پچاس 150 شہری شامل ہیں ۔
سات سو سینتالیس747 سے زائد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔
میناب میں ایک گرلز ایلیمنٹری اسکول پر میزائل حملے میں تقریباً ایک سو اّسی 180 افراد کے شہید ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ بیشتر ہلاک ہونے والے طالبات بتائی جا رہی ہیں۔ آزاد ذرائع سے تصدیق جاری ہے ۔
اصفہان، شیراز، کرمانشاہ، مشہد اور رضوان شہر سمیت کئی شہروں میں حملے کیے گئے ۔
فضائی دفاعی نظام، میزائل تنصیبات اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا گیا ۔
ایران کے قومی نشریاتی ادارے کی عمارت کے کچھ حصوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ۔
امریکی حکام کے مطابق تین امریکی فوجی ہلاک اور کم از کم پانچ شدید زخمی ہوئے۔ ایک ایف 15 ای لڑاکا طیارہ اور ایک ایم کیو 9 ڈرون بھی تباہ ہوا ۔
اسرائیلی نقصانات کو ایرانی نقصانات کے مقابلے میں محدود قرار دیا گیا ۔
خطے پر اثرات
ایران نے جوابی کارروائی میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے ۔
خلیجی ممالک میں الرٹس جاری ہوئے۔ کئی میزائل فضا میں ہی تباہ کیے گئے ۔
بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، وہاں حملوں یا میزائل روکنے کی اطلاعات ملیں ۔
رہائشی عمارتوں اور اہم تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے شہری ہلاکتیں بھی ہوئیں ۔
دبئی اور ابوظہبی ایئرپورٹس پر ایرانی میزائل گرنے کی اطلاعات سامنے آئیں ۔


ایرانی ردعمل
اسلامی انقلابی گارڈ کور نے وسیع جوابی کارروائی کا اعلان کیا ۔
تہران نے اسرائیلی شہروں، فوجی تنصیبات اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا ۔
انہوں نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو جائز فوجی اہداف قرار دیا ۔
علاقائی سلامتی کی صورتحال
کشیدگی تیزی سے ایران اور اسرائیل سے آگے بڑھ گئی ۔
اسرائیل میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ریزرو فوجیوں کو طلب کر لیا گیا۔ اسکول اور کاروبار بند کر دیے گئے ۔
ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی افواج کے ساتھ میزائل تبادلہ شروع کیا ۔ لڑائی شمالی اسرائیل اور جنوبی لبنان تک پھیل گئی ۔
خلیجی ریاستوں نے فضائی حدود بند کر دیں۔ فضائی سفر شدید متاثر ہوا ۔
عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں میں بھی شدید ردعمل دیکھا گیا ۔
عالمی ردعمل
امریکی قیادت نے کارروائی کو ایران کے فوجی اور میزائل پروگرام کے خطرات ختم کرنے کے لیے ضروری قرار دیا ۔
اسرائیلی حکام نے اسے پیشگی دفاعی اقدام کہا۔ ایرانی عوام سے حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل بھی کی گئی ۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ یورپی یونین نے تحمل اور سفارتی مذاکرات کی اپیل کی ۔
خلیجی ممالک نے اپنے علاقوں پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ۔ سعودی عرب نے ایران کے اقدامات پر تنقید کی۔ ترکی نے تمام فریقین سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ روس نے امریکی پالیسی کو خطے کے عدم استحکام کا سبب قرار دیا ۔
یہ بھی پڑھیں
ہارپی ایگل: دنیا کا سب سے طاقتورعقاب جس کے پنجے ریچھ سے بھی زیادہ مضبوط ہیں
موجودہ صورتحال اور خدشات
صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔ مختلف محاذوں پر فضائی اور میزائل کارروائیاں جاری ہیں ۔
دونوں فریق مزید شدت کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں ۔
سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم مبصرین کے مطابق وسیع علاقائی تصادم کا خطرہ برقرار ہے ۔


