ونڈ کوریڈور سے بجلی پیدا کرنے والے علاقوں میں اندھیرا برقرار، متاثرہ دیہات کا مشترکہ الائنس بنانے اور قانونی کارروائی کا فیصلہ

ویب نیوز رپورٹ: ماریہ اسمعیل
کراچی کے قریب مکلی میں واقع نیشنل پریس کلب میں جھمپیر، جنگشاہی اور گرد و نواح کے متاثرہ دیہات کے نمائندوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا ۔
اس موقع پر کراچی سے آئے صحافیوں، سول سوسائٹی، وکلا اور طلبہ کے وفد نے بھی شرکت کی ۔
اجلاس کے دوران علاقائی سطح پر ایک مضبوط “مشترکہ الائنس” بنانے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ۔
اس اتحاد کا مقصد ونڈ کوریڈور میں کام کرنے والی انرجی کمپنیوں کے خلاف منظم آواز بلند کرنا ہے ۔
مقامی آبادی کے تحفظات
اجلاس میں شریک رہنماؤں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ
“ہمارا علاقہ پورے ملک کو بجلی فراہم کر رہا ہے، تاہم ہمارے اپنے گھروں میں آج بھی اندھیرا ہے ۔
مزید برآں، رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ کمپنیاں مقامی زمینوں سے اربوں روپے کما رہی ہیں، لیکن کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی (سی ایس آر) کے تحت مقامی افراد کو کوئی فائدہ نہیں دیا جا رہا ۔
اہم فیصلے اور قانونی حکمت عملی

اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے
خاص طور پر، یہ طے پایا کہ تمام متاثرہ دیہات مشترکہ قانونی کارروائی کریں گے ۔
اسی تناظر میں، (آرٹی آئی) کے ذریعے کمپنیوں سے بجلی کی فراہمی اور ترقیاتی فنڈز کی تفصیلات طلب کی جائیں گی ۔
خواتین کی شمولیت پر زور
اجلاس میں خواتین کے کردار کو بھی نمایاں اہمیت دی گئی ۔
ساتھ ہی، فیصلہ کیا گیا کہ تحریک میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا،
کیونکہ توانائی کی کمی کا سب سے زیادہ اثر خواتین پر پڑتا ہے ۔

عوامی تحریک کی تیاری
اجلاس کے اختتام پر ایک بڑی عوامی تحریک کی تیاری کا اعلان کیا گیا ۔
مزید یہ کہ، اس اتحاد کو اپریل کے آخر تک باقاعدہ نام اور منشور دیا جائے گا،
جبکہ جلد ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اس کا باضابطہ اعلان بھی متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں
روایتی چینی مرکز طب اسلام آباد میں صحت سہولیات اور پاک چین تعلقات کا فروغ
مقامی رہنماؤں کا دوٹوک مؤقف
شرکاء نے واضح کیا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کیلئے ہر سطح پر جدوجہد کریں گے۔ ایک مقامی رہنما نے کہا: “ہماری زمین کی ہوا ملک کو روشن کرتی ہے، لیکن ہمارے بچے اندھیرے میں پڑھتے ہیں۔ اب یہ ناانصافی مزید برداشت نہیں کی جائے گی ۔”
سیاسی و سماجی شرکت
اجلاس میں دیہاتی نمائندوں کے علاوہ ضلع ٹھٹہ کی مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی بھرپور شرکت کی، جس کے نتیجے میں اس تحریک کو مزید تقویت ملی ۔


