کراچی میں لوڈشیڈنگ، مہنگی بجلی اور بڑھتا ہوا توانائی بحران نے شہر کو سنگین معاشی و سماجی دباؤ میں دھکیل دیا۔

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
کراچی میں لوڈشیڈنگ، مہنگے بجلی کے بل اور توانائی کے بحران نے شہریوں، صنعتکاروں اور مزدور طبقے کی مشکلات میں خطرناک اضافہ کر دیا ہے۔ شدید گرمی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی نے گھریلو زندگی کے ساتھ صنعتی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
اسی صورتحال پر “ایران۔امریکہ جنگ کے بعد توانائی کا تحفظ” کے عنوان سے کراچی میں ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس میں سیاستدانوں، صنعتکاروں، توانائی ماہرین، میڈیا نمائندوں اور سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس دی نالج فورم (ٹی کے ایف) کے زیر اہتمام ایک مقامی ہوٹل میں ہوئی۔
لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی: عوامی مشکلات میں اضافہ
مقررین نے کہا کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، کیپسٹی پیمنٹس اور کمزور توانائی نظام نے عوام کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ شدید گرمی میں کئی علاقوں میں گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ شہریوں کے لیے ذہنی اور جسمانی اذیت بن چکی ہے۔
شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر توانائی بحران پر فوری قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات صنعت، روزگار اور معیشت پر مزید سنگین ہوں گے۔
سندھ اسمبلی میں مسئلہ اٹھانے کی یقین دہانی
کانفرنس میں سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے چیئرمین ریحان بندوق دہ، ایم پی اے فرح سہیل اور ڈاکٹر فوزیہ حمید نے شرکت کی۔
ریحان بندوق دہ نے کہا کہ کراچی میں بجلی کی پیداوار کے مقابلے میں استعمال کم ہونے کے باوجود عوام کو مہنگی بجلی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اضافی لوڈشیڈنگ روکنے کے قوانین موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کمزور ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام ادارے مل کر سستی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کریں۔
صنعتیں بحران کا شکار، سولر توانائی کی طرف تیزی سے رجحان
صنعتی نمائندوں نے کہا کہ بجلی کی بلند قیمتوں اور غیر یقینی فراہمی سے پیداواری لاگت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے نائب چیئرمین سید محمد طلحہ علی نے کہا کہ صنعتی فیصلوں میں اسٹیک ہولڈرز کو شامل نہیں کیا جاتا، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کر پا رہیں۔
ایس ایم ایز کے نمائندے سید اجلال حیدر نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر تیزی سے سولر توانائی کی طرف جا رہا ہے۔ انہوں نے کم لاگت متبادل توانائی اور بجلی کے شیئرنگ سسٹم کی ضرورت پر زور دیا۔
خواتین اور مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر
ایم پی اے فرح سہیل نے کہا کہ طویل لوڈشیڈنگ سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ گھریلو ذمہ داریاں انہی پر ہوتی ہیں۔ انہوں نے توانائی اداروں میں خواتین کی کم نمائندگی پر بھی تنقید کی۔
ناؤ کمیونٹیز کی سربراہ فرحت پروین نے کہا کہ مہنگے بجلی بلوں نے مزدور طبقے کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ کراچی کے 300 مزدور خاندانوں پر تحقیق کے مطابق کئی خاندان بچوں کی تعلیم جاری رکھنے سے بھی قاصر ہو گئے ہیں۔
پاکستان فشر فوک فورم کے جنرل سیکریٹری سعید بلوچ نے کہا کہ بعض مزدوروں کے بجلی بل ان کی ماہانہ آمدنی سے بھی زیادہ آتے ہیں، جس سے لوگ غیر قانونی کنڈا کنکشن لینے پر مجبور ہیں۔
لوڈشیڈنگ 16 گھنٹے، شہریوں میں شدید غصہ
اربن ریسورس سینٹر کے زاہد فاروق نے انکشاف کیا کہ کراچی کے کئی علاقوں میں باقاعدگی سے بل ادا کرنے کے باوجود 16 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غریب علاقوں میں لوگ مجبوری کے تحت کنڈا سسٹم استعمال کر رہے ہیں کیونکہ انہیں مسلسل بجلی تک رسائی نہیں۔
سندھ میں قابلِ تجدید توانائی منصوبے
سندھ انرجی ڈپارٹمنٹ کے حکام کے مطابق ٹھٹہ میں 1845 میگاواٹ کے ونڈ پاور پلانٹس پہلے ہی نصب ہو چکے ہیں۔ مختلف اضلاع میں سولر منصوبوں اور سولر پینلز کی تقسیم کے لیے سروے جاری ہے۔
سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (ایس ٹی ڈی سی) کے نمائندوں نے تسلیم کیا کہ ترسیلی نظام میں سنگین مسائل ہیں اور بڑی مقدار میں بجلی ضائع ہو جاتی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی اور توانائی کا مستقبل
ٹی کے ایف کی ڈائریکٹر زینیا شوکت نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی اب توانائی تحفظ کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر صاف اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف جانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد آئندہ بجٹ کے تناظر میں توانائی بحران کا جائزہ اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے تجاویز تیار کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں
ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کے فیصلے کی مکمل تفصیل
کراچی میں لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی اب صرف شہری مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک معاشی، صنعتی اور سماجی بحران بن چکا ہے۔ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو صنعت، روزگار اور عام شہریوں کی زندگی مزید متاثر ہوگی۔ ماہرین کے مطابق قابلِ تجدید توانائی، مؤثر پالیسی سازی اور شفاف نظام ہی اس بحران کا واحد حل ہے۔