کراچی میں ریپ کیسز میں اضافہ تشویشناک ہے، سندھ وومن لائرز الائنس کا اہم ڈائیلاگ، انصاف اور جوابدہی پر زور، فوری اقدامات کا مطالبہ کردیا۔

ویب نیوز رپورٹ: ماریہ اسمعیل
کراچی : سندھ وومن لائرز الائنس کی جانب سے ’’ریپ کیسز میں اضافہ: معاشرتی خاموشی، ادارہ جاتی اور عدالتی جوابدہی اور عزم کی کمی‘‘ کے موضوع پر ایک اہم ڈائیلاگ منعقد کیا گیا، جس میں صنفی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور نظامِ انصاف کی کارکردگی پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔
اس مکالمے میں وکلا، سول سوسائٹی کے نمائندگان، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی اور ریپ کیسز میں اضافے کو ایک سنگین سماجی مسئلہ قراردیا ۔
ڈائیلاگ میں چیئرپرسن ایڈووکیٹ شازیہ نظامانی، جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ روبینہ چانڈیو، ایڈووکیٹ ماروی کلہوڑو، ویف کراچی کی نمائندہ کوثرایس خان، سمی کمال، وکیل صفیہ لاکو، وکیل سپنا سیوانی، ایڈووکیٹ امر حسیب پنہور اور فیض صدیقی سمیت دیگر شرکاء نے شرکت کی ۔
مقررین نے معاشرتی خاموشی، ادارہ جاتی کمزوریوں اور عدالتی نظام میں موجود چیلنجز کو ریپ کیسز میں اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا۔
شرکاء نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایسے جرائم کے حوالے سے معاشرتی خاموشی اور بعض حلقوں میں سماجی قبولیت ایک خطرناک رجحان بنتی جا رہی ہے ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے ۔

ڈائیلاگ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ متاثرہ خواتین اور ان کے خاندانوں کی تصاویر یا شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا جائے اور وکٹم بلیمنگ جیسے رویوں کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔ مقررین نے کہا کہ میڈیا اور معاشرے کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ متاثرہ افراد کو مزید ذہنی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
شرکاء نے تعلیمی اداروں خصوصاً قانون کی تعلیم دینے والے اداروں کے نصاب میں خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق سے متعلق قوانین کو لازمی شامل کرنے کی سفارش کی ۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، ججز، وکلا اور خواتین سے متعلق قائم کمیشنز کو متعلقہ قوانین کے بارے میں مؤثر تربیت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔
مقررین نے اینٹی ریپ ایکٹ 2019 (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے متاثرین کو بروقت انصاف نہیں مل پاتا ۔
ڈائیلاگ میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ریپ کیسز کا جامع اور مستند سرکاری ڈیٹا مرتب کیا جائے تاکہ مسئلے کی حقیقی نوعیت کو سمجھتے ہوئے مؤثر پالیسی سازی ممکن ہو سکے ۔
آخر میں شرکاء نے جیکب آباد کی متاثرہ خواتین آسیہ کھوسو اور سارہ بلوچ سمیت جامشورو میں قتل ہونے والی صابرین پٹھان کے کیسز میں مکمل قانونی معاونت، شفاف تحقیقات اور بروقت انصاف کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے ۔


