خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کا عورت فاؤنڈیشن کی40ویں سالگرہ سے خطاب، مراد علی شاہ کا 5 کروڑ گرانٹ کا اعلان، متعدد شخصیات کو لیڈرشپ ایوارڈز

رپورٹ : ماریہ اسمٰعیل
کراچی : خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ خواتین کے بغیر نامکمل ہے۔
انہوں نے عورت فاؤنڈیشن کی40ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کے لیے چار دہائیوں پر مشتمل جدوجہد کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی ہر بحث انہیں اپنی والدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی یاد دلاتی ہے، جو خواتین کی علامتی نہیں بلکہ بامعنی شرکت پر یقین رکھتی تھیں۔

باوقار تقریب، اہم شخصیات کی شرکت
عورت فاؤنڈیشن نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے بینکوئٹ ہال میں40ویں سالگرہ منائی۔ تقریب میں جمہوریت، امن، سماجی انصاف اور برابری کے لیے خواتین کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
مہمانِ خصوصی خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری تھیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزراء، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، چیف سیکریٹری سندھ، سینئر افسران، سول سوسائٹی اور ملک بھر سے تنظیم کی قیادت شریک ہوئی۔
جدوجہد کی تاریخ
تقریب میں 1986 میں قیام کے بعد سے عورت فاؤنڈیشن کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔
صدر بورڈ آف گورنرز انیس ہارون نے کہا کہ 12 فروری 1986 سے پہلے عوامی زندگی میں خواتین کی شناخت محدود تھی۔ مساوات کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواستوں پر خواتین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ آواز بلند کرنے پر قید بھی کیا گیا، مگر وہ پیچھے نہیں ہٹیں۔

کتاب اور دستاویزی فلم کی رونمائی
خاتونِ اول نے تنظیم کی 400 صفحات پر مشتمل کتاب کی رونمائی کی۔ ایک دستاویزی فلم کا بھی افتتاح کیا گیا جس میں تنظیم کے سفر اور شہید بے نظیر بھٹو کے تاریخی کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
منیزہ خان نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ملکہ خان تقریب کی روحِ رواں رہیں۔ سید ذیشان شاہ اور ان کی ٹیم نے انتظامات سنبھالے۔
گلوبل پیس ایوارڈ اور 5 کروڑ گرانٹ
تقریب کے دوران آصفہ بھٹو زرداری کو گلوبل پیس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عورت فاؤنڈیشن کے لیے 5 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا۔
انہوں نے صنفی مساوات کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

لیڈرشپ اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز
متعدد شخصیات کو مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات پر ایوارڈز دیے گئے۔
امن و عالمی سلامتی ایوارڈ بعد از وفات شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو دیا گیا، جسے آصفہ بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ سے وصول کیا۔
لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ شہناز وزیر علی اور جسٹس (ر) ماجدہ رضوی کو دیا گیا۔
سیاسی قیادت ایوارڈ شازیہ مری اور رانا انصار کو دیا گیا۔
لاء انفورسمنٹ لیڈرشپ ایوارڈ ڈی آئی جی شیبا شاہ کو دیا گیا۔
اقلیتی حقوق ایوارڈ منگلا شرما کو دیا گیا۔
کمیونٹی سروس ایوارڈ مرزا اشتیاق بیگ اور نتالیہ رحیم کو دیا گیا۔
ایگری ٹیکنالوجی ایوارڈ بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر کی طالبات آنچل ککریجا، ایمن حفیظ، ایمن فاطمہ اور فاطمہ مریم کو دیا گیا۔
رضاکارانہ خدمات ایوارڈ عالیہ مرزا کو دیا گیا۔
پی ڈبلیو ڈیز لیڈرشپ ایوارڈ رابعہ ملک کو دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں
خواتین صحافی مرد .اکثریتی ماحول میں اپنا اثر و رسوخ کیسے قائم کرسکتی ہیں
سوشل میڈیا پر خواتین کے کردار پر کیچڑ اچھال کر اپنا قد بڑھانے کی کوشش
قانونی کمیونٹی سروس ایوارڈ آسیہ منیر کو دیا گیا۔
بلدیاتی قیادت ایوارڈ غزالہ کاشف کو دیا گیا۔
میڈیا لیڈرشپ ایوارڈ ماریہ اسماعیل کو دیا گیا۔
سسٹر کیتھرین گل کو کمیونٹی سروس ایوارڈ دیا گیا۔
ایوارڈز مصور عبدالجبار نے ڈیزائن کیے۔

خواتین کی تحریک کا تسلسل
ڈاکٹر معصومہ حسن نے اختتامی خطاب میں کہا کہ 40 سال کی جدوجہد کے بعد خواتین کو بااختیار بنانے کا خواب حقیقت بنتا نظر آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ نے خواتین کے لیے ترقی پسند قانون سازی میں قیادت کی، جس میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی شامل ہے۔
تقریب کا اختتام صنفی مساوات، انصاف اور وقار کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔


