February 13, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
خواتین صحافی مرد اکثریتی ماحول میں اپنا اثر و رسوخ کیسے قائم کرسکتی ہیں
How can women journalists establish their influence and presence in a male-dominated environment?

خواتین صحافی مرد اکثریتی ماحول میں اپنا اثر و رسوخ کیسے قائم کرسکتی ہیں

How can women journalists establish their influence and presence in a male-dominated environment?

خواتین صحافیوں کو قیادت، مذاکرات، تحفظ اور فیصلہ سازی کی عملی مہارتیں فراہم کرنے کے ساتھ صنفی رکاوٹوں پر مکالمہ

ویب نیوز رپورٹ: روبینہ یاسمین

ارادہ فاؤنڈیشن نے کینیڈین فنڈ فار لوکل انیشی ایٹوز کے تعاون سے خواتین صحافیوں کے لیے قیادت کا تربیتی پروگرام منعقد کیا۔ یہ دو روزہ تربیت انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے سٹی کیمپس میں قائم سینٹر فار ایکسیلنس اِن جرنلزم میں 11 اور 12 فروری کو منعقد ہوئی۔

اس پروگرام کا مقصد میڈیا سے وابستہ خواتین کو قیادت، مذاکرات، تحفظ اور فیصلہ سازی کی عملی مہارتیں فراہم کرنا تھا۔ ساتھ ہی نیوز رومز، پریس کلبز اور صحافتی یونینز میں موجود صنفی مسائل اور رکاوٹوں پر بھی توجہ دی گئی۔

دو روزہ تربیت میں کراچی کی نوجوان خواتین صحافیوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے قیادت کے مواقع، ادارہ جاتی رکاوٹوں اور میڈیا اداروں میں صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ حکمت عملیوں پر غور کیا۔

قیادت اور نیوز روم کے چیلنجز

تربیت کے دوران عملی مشقیں، گروہی مباحثے اور باہمی گفتگو کے سیشنز ہوئے۔ شرکاء نے جائزہ لیا کہ پاکستانی میڈیا میں قیادت کس طرح کام کرتی ہے اور خواتین مردوں کے غلبے والے ماحول میں اپنا اثر و رسوخ کیسے بڑھا سکتی ہیں۔

پہلے روز قیادت کی بنیادی صلاحیتوں اور نیوز روم کے طاقت کے ڈھانچے کو سمجھنے پر توجہ دی گئی۔ تنخواہوں میں صنفی فرق، ترقی میں رکاوٹیں، ذمہ داریوں اور عہدوں پر مذاکرات اور امتیازی رویوں کا مقابلہ کرنے جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔

کراچی: آئی بی اے میں معقدہ دو روزہ لیڈرشپ ورکشاہ کے شرکا

پریس کلبز اور یونینز میں کردار

دوسرے روز توجہ نیوز روم سے باہر قیادت پر مرکوز رہی۔ شرکاء نے پریس کلبز، یونینز اور صحافتی تنظیموں کی سیاست، داخلی رکاوٹوں اور خواتین کی کم نمائندگی کی وجوہات کا جائزہ لیا۔

انتخابات میں حصہ لینے، اتحاد بنانے، پالیسی پر اثر انداز ہونے اور ادارتی و انتظامی فیصلوں میں کردار ادا کرنے کی عملی حکمت عملیاں بھی سکھائی گئیں۔ نیٹ ورکنگ، رہنمائی اور اجتماعی طاقت کو طویل مدتی پیشہ ورانہ ترقی کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔

اسی نوعیت کی تربیت اس سے قبل اسلام آباد اور لاہور میں بھی منعقد کی جا چکی ہے۔

منتظمین اور شرکاء کی آراء

ارادہ کی پروگرام مینیجر سلویٰ رانا نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد صرف مہارتیں فراہم کرنا نہیں بلکہ خواتین کو طاقت کے ڈھانچے کو سمجھنے اور امتیاز کو چیلنج کرنے کا اعتماد دینا ہے۔ ان کے مطابق خواتین کی قیادت اور تحفظ میں سرمایہ کاری سے میڈیا زیادہ شفاف اور جامع بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستانی طلبہ چین کے دیہی اسکولوں میں انگریزی تعلیم کو فروغ کیوں دے رہے ہیں؟

پاکستان میں ٹونی ایگل: ایکو سسٹم بچانے والے عقاب کی بریڈنگ اور بقا کو خطرات

صحافی جیوتی شری مہیشوری نے کہا کہ دو روزہ تربیت ایک مفید اور سیکھنے سے بھرپور تجربہ رہی۔ گروہی سرگرمیوں اور کھلے مباحثوں سے قیادت، نیوز روم کے مسائل اور نیٹ ورکنگ کے بارے میں بہتر سمجھ پیدا ہوئی۔

میڈیا ٹرینر اور صحافی لبنیٰ جرار نقوی، جو انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس میں پاکستان کی جینڈر کوآرڈینیٹر اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کی جنرل سیکرٹری بھی ہیں، نے کہا کہ ایسے تربیتی سیشنز خواتین کو بااختیار بناتے ہیں اور انہیں پیشہ ورانہ استحصال سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے لیبر حقوق، یونینز اور پریس کلبز سے متعلق مزید تربیت کی ضرورت پر زور دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×