RY MEDIA TALKS

ایم پاکس کیسز نے سندھ میں تشویش بڑھا دی

ایم پاکس کیسز: محکمہ صحت سندھ کے کنٹرول اقدامات تیز، تربیت، نگرانی اور آئی پی سی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

کراچی: سندھ بھر میں اب تک ایم پاکس کے 33 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ تاہم، ان میں سے 22 کیسز ضلع خیرپور سے سامنے آئے ہیں۔

مزید برآں، حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ دنوں میں خیرپور سے کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ اس کے نتیجے میں صورتحال بہتر دکھائی دے رہی ہے۔ کنٹرول کے اقدامات بھی مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب، گزشتہ 24 گھنٹوں میں کراچی سے ایک نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ لہٰذا مسلسل احتیاط اور نگرانی ضروری قرار دی جا رہی ہے۔

سندھ بھر میں اب تک ایم پاکس کے 33 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں

طبی عملے کی تربیت اور استعداد کار میں اضافہ

وبا کے تدارک کے لیے محکمہ صحت سندھ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ طبی عملے کی استعداد کار بڑھائی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں سکھر میں ایک جامع تربیتی ورکشاپ منعقد ہو رہی ہے۔

اس میں نگرانی (سرویلنس) پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انفیکشن سے بچاؤ اور کنٹرول (آئی پی سی) بھی شامل ہے۔ کلینیکل کیس مینجمنٹ پر بھی بات ہو رہی ہے۔ مزید برآں لیبارٹری نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

البتہ اس تربیتی سیشنز میں مختلف اداروں کے ماہرین تربیت دے رہے ہیں۔ ان میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن شامل ہے۔ آغا خان یونیورسٹی بھی شریک ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ بھی حصہ لے رہا ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (اوجھا کیمپس) کی لیبارٹری بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز سندھ کا یونٹ بھی موجود ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، اس اقدام کی معاونت یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کر رہے ہیں۔ اب تک 50 سے زائد ہیلتھ کیئر ورکرز کو تربیت دی جا چکی ہے۔

وبا کے تدارک کے لیے محکمہ صحت سندھ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے

آئی پی سی آڈٹس اور طبی اداروں کی نگرانی

انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ اسی لیے اہم طبی اداروں میں آئی پی سی آڈٹس کیے گئے ہیں۔

مثال کے طور پر، چائلڈ لائف فاؤنڈیشن سکھر شامل ہے۔ غلام محمد مہر میڈیکل کالج سکھر بھی شامل ہے۔ گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا بھی آڈٹ ہوا۔ خیرپور میڈیکل کالج بھی اس فہرست میں شامل ہے۔

آڈٹس ماہرین کی ٹیموں نے کیے۔ ان کا مقصد خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ خاص طور پر نوزائیدہ بچوں کے شعبوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انتہائی نگہداشت کے یونٹس بھی زیر نگرانی ہیں۔ آئی پی سی اصولوں پر سختی سے عمل یقینی بنایا جا رہا ہے۔

صوبائی سطح پر ہدایات اور اقدامات

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے شہید بینظیر آباد میں اجلاس کی صدارت کی۔ یہ ایک ڈویژنل سطح کا اجلاس تھا۔

اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایات دی گئیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کو بھی ہدایات جاری کی گئیں۔ انہیں آئی پی سی اقدامات مزید مضبوط بنانے کا کہا گیا۔ ساتھ ہی تعمیل سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی ہدایت دی گئی۔

ان ہدایات کے تحت مزید آڈٹس ہوں گے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز سندھ کی ٹیم یہ عمل کرے گی۔ مقصد معیار اور عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان کی پہلی بلٹ ٹرین کا آغاز پنجاب سے ہوگا

پاکستان میں خطرناک موسمی انتباہ: کیا بڑی تباہی قریب ہے؟

حکومتی عزم

آخر میں، محکمہ صحت سندھ ایم پاکس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔ چنانچہ، مربوط حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

نگرانی کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات سخت کیے جا رہے ہیں۔

اس طرح مریضوں، طبی عملے اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔

Exit mobile version