March 11, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
نشیمن سینما: کراچی کی فلمی تاریخ کی خاموش یادگار
Nasheman Cinema: Karachi’s Historic Film Landmark Fades into Silence

نشیمن سینما: کراچی کی فلمی تاریخ کی خاموش یادگار

Nasheman Cinema: Karachi’s Historic Film Landmark Fades into Silence

نشیمن سینما کی عمارت ویران، اگر ثقافتی ورثہ قرار دے کر بحال کیا جاتا تو یہ فلمی تاریخ کا ایک زندہ میوزیم بن سکتا تھا۔ ماہرین

Participants attend a dialogue on rising rape cases organized by Sindh Women Lawyers Alliance in Karachi.

کراچی کی تیز رفتار زندگی، روشن سڑکیں اور سمندر کی نمی اپنے اندر کئی داستانیں سمیٹے ہوئے ہیں۔ انہی داستانوں میں ایک نام نشیمن سینما کا بھی ہے۔ یہ وہ تاریخی عمارت ہے جو کبھی روشنیوں، تالیوں اور سیٹیوں سے گونجتی تھی، مگر آج خاموش کھڑی ماضی کی گواہی دے رہی ہے۔

یہ صرف ایک سینما نہیں تھا بلکہ پاکستان کی فلمی صنعت کے سنہرے دور کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

قیام اور ابتدائی تاریخ

نشیمن سینما کی تعمیر 1960ء کی دہائی میں اس وقت کی گئی جب کراچی میں سینما کلچر اپنے عروج پر تھا۔ یہ شہر کے نمایاں سینما گھروں میں شمار ہوتا تھا جہاں جدید پروجیکشن سسٹم، کشادہ ہال اور معیاری نشستوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔

ابتدا میں یہ ایک نجی کاروباری خاندان کی ملکیت تھا جو فلمی صنعت سے وابستہ افراد کے ساتھ قریبی تعلق رکھتا تھا۔ مقصد صرف کاروبار نہیں بلکہ فلمی ثقافت کو فروغ دینا بھی تھا۔

اسی دور میں پاکستان کی فلم انڈسٹری، جسے عام طور پر لالی ووڈ کہا جاتا ہے، اپنے عروج پر تھی اور کراچی اس صنعت کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا۔

سنہرا دور: جب “ہاؤس فل” روزمرہ کا منظر تھا

سن 1960 سے سن 1980 تک نشیمن سینما میں بے شمار سپر ہٹ فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔ اردو اور پنجابی فلموں کے علاوہ بعض اوقات غیر ملکی فلمیں بھی یہاں دکھائی جاتی تھیں۔

اسی دور میں وحید مراد، محمد علی، زیبا اور سلطان راہی جیسے نامور اداکاروں کی فلموں پر عوام کا جمِ غفیر امڈ آتا تھا۔ جمعہ کی شام ٹکٹ کھڑکی کے باہر لمبی قطاریں لگتیں۔ بلیک میں ٹکٹ فروخت ہونا عام بات تھی اور “ہاؤس فل” کا بورڈ اکثر دروازے پر آویزاں رہتا تھا۔

انٹرول کے دوران کولڈ ڈرنک اور سموسے اس تجربے کا لازمی حصہ ہوتے تھے۔

The construction of Nasheman Cinema was carried out in the 1960s, at a time when the cinema culture in Karachi was at its peak.
نشیمن سینما کی تعمیر 1960ء کی دہائی میں اس وقت کی گئی جب کراچی میں سینما کلچر اپنے عروج پر تھا۔ تصویر بشکریہ سلطان چاکی سومرو

زوال کی ابتدا — کیوں ٹوٹا جادو؟

سن 1990 کی دہائی میں پاکستان کی فلمی صنعت بحران کا شکار ہونے لگی۔ اس کی چند بڑی وجوہات یہ رہیں:

وی سی آر اور کیبل ٹی وی کا تیزی سے پھیلاؤ

بھارتی فلموں کی غیر قانونی نمائش

سیکیورٹی خدشات اور شہر میں بدامنی

معیاری فلم سازی میں کمی

سینما مالکان کی مالی مشکلات

ان عوامل نے نشیمن سینما سمیت کراچی کے کئی تاریخی سینما گھروں کو متاثر کیا۔

خستہ حالی اور بندش

سن 2000 کے بعد نشیمن سینما کی حالت تیزی سے خراب ہونے لگی۔ تزئین و آرائش نہ ہونے کے باعث عمارت کمزور پڑ گئی۔ نشستیں ٹوٹنے لگیں اور جدید سینما ٹیکنالوجی سے مقابلہ ممکن نہ رہا۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستانی اداکار کی چینی جنگی تاریخ پر مبنی فلم میں شاندار اداکاری

جب شہر میں ملٹی پلیکس سینما کلچر متعارف ہوا تو پرانے سنگل اسکرین سینما گھر پیچھے رہ گئے۔ آخرکار نشیمن سینما نے خاموشی سے اپنے دروازے بند کر دیے۔

آج یہ عمارت گرد آلود دیواروں، ٹوٹے بورڈ، بند ٹکٹ کھڑکیوں اور سنسان داخلی دروازوں کے ساتھ ماضی کی یادگار بنی کھڑی ہے۔ جہاں کبھی قہقہوں کی گونج تھی، وہاں اب سناٹا ہے۔

ثقافتی ورثہ یا تجارتی زمین؟

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کراچی کے بیشتر پرانے سینما گھروں کی عمارتیں یا تو شاپنگ پلازوں میں تبدیل ہو گئیں یا مکمل طور پر مسمار کر دی گئیں۔ نشیمن سینما بھی اسی خطرے سے دوچار رہا۔

ماہرین کے مطابق اگر اسے ثقافتی ورثہ قرار دے کر بحال کیا جاتا تو یہ فلمی تاریخ کا ایک زندہ میوزیم بن سکتا تھا۔

The desolation of Nasheman Cinema actually reflects the decline of Pakistan’s film history.
نشیمن سینما کی ویرانی دراصل پاکستان کی فلمی تاریخ کے زوال کی عکاس ہے۔ تصویر بشکریہ سلطان چاکی سومرو

یادوں کی گونج

65 سالہ عبدالخالق (اصلی نام ظاہر کرنے اور تصویر لینے سے منع کیا) بتاتے ہیں:

“میں نے اپنی منگیتر کے ساتھ پہلی فلم نشیمن میں دیکھی تھی۔ اُس دن ہاؤس فل تھا۔ ہم نے بلیک میں ٹکٹ لی۔ آج وہاں سے گزرتا ہوں تو دل بھر آتا ہے۔”

ایک بزرگ خاتون کہتی ہیں کہ

“ہم بہن بھائی عید کے دن فلم دیکھنے آتے تھے۔ نشیمن جانا ایک خوشی ہوا کرتی تھی، ایک خاص موقع ہوتا تھا۔”

کراچی کے بزرگ شہری آج بھی یاد کرتے ہیں:

پہلی فلم کہاں دیکھی

پہلی بار دوستوں کے ساتھ کون سی نشست پر بیٹھے

انٹرول میں کون سا مشروب خریدا

یہ یادیں ثابت کرتی ہیں کہ نشیمن سینما صرف اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک جذباتی ورثہ تھا۔

ثقافتی ماہرین کے مطابق اگر نشیمن سینما کو محفوظ کر کے فلم میوزیم یا آرٹس سینٹر میں تبدیل کیا جائے تو نوجوان نسل کو ماضی سے جوڑا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تاریخی عمارتوں کے تحفظ کا مؤثر نظام اب بھی کمزور ہے۔

اختتامیہ

نشیمن سینما کی ویرانی دراصل پاکستان کی فلمی تاریخ کے زوال کی عکاس ہے۔

یہ سوال اہم ہے کہ کیا ہم اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں سنجیدہ ہیں؟ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی کے سینما کلچر کی باقی ماندہ نشانیاں بھی صرف تصویروں اور یادوں تک محدود ہو جائیں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×