اے کے یو ایچ ماہرین کے مطابق نیپاہ وائرس کا پاکستان میں خطرہ فوری نہیں، مگر وبائی سے محفوط رہنے کے لیے تیاری ضروری ہے۔
ویب نیوز رپورٹ: ماریہ اسمعیل

کیا نیپاہ وائرس پاکستان کے لیے فوری خطرہ ہے؟
کراچی : آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے متعدی امراض کے ماہرین نے کہا ہے کہ مشرقی بھارت اور بنگلہ دیش میں سامنے آنے والی نیپاہ وائرس کی حالیہ پیش رفت اس وقت پاکستان کے لیے فوری خطرہ نہیں، تاہم یہ صورتحال قومی سطح پر صحتی تیاری کا جائزہ لینے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔
اے کے یو ایچ ماہرین کے مطابق اس وقت نیپاہ وائرس پاکستان خطرہ فوری نہیں، تاہم طبی نگرانی اور وبائی تیاری ضروری ہے۔
نیپاہ وائرس کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟
ماہرین کے مطابق نیپاہ وائرس ایک زونوٹک بیماری ہے جو بنیادی طور پر جانوروں خصوصاً متاثرہ چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔
آلودہ پھل یا درختوں کا کچا رس اس وائرس کے پھیلاؤ کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ صرف چمگادڑوں کے قریب سے گزرنے اُڑنے سے وائرس منتقل نہیں ہوتا ۔
اے کے یو ایچ ماہرین کے مطابق نیپاہ وائرس کا پاکستان میں خطرہ کیوں کم ہے؟
میڈیا راؤنڈ ٹیبل کے دوران ڈاکٹر فیصل محمود نے بتایا کہ اگرچہ یہ وائرس ایک سنگین انفیکشن ہے، لیکن موجودہ عالمی صورتحال میں اس کے بین الاقوامی پھیلاؤ کا خطرہ کم سمجھا جاتا ہے۔


ان کے مطابق پاکستان میں اس وقت دیگر صحتی چیلنجز، خصوصاً خسرہ کے بڑھتے کیسز، زیادہ توجہ طلب ہیں ۔
حالیہ عالمی کیسز اور پاکستان کے لیے صورتحال
ماہرین نے بتایا کہ 2025 کے بعد دنیا بھر میں اس وائرس کے صرف 10 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے صرف دو انسان سے انسان میں منتقلی کے تھے ۔
جغرافیائی لحاظ سے حالیہ کیسز بھارت کی مخصوص ریاستوں اور بنگلہ دیش تک محدود رہے، جبکہ پاکستان سے متصل علاقوں میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
نیپاہ وائرس کی علامات اور طبی پیچیدگیاں
ابتدائی علامات میں بخار، سر درد اور کمزوری شامل ہو سکتی ہیں، جو بعد میں دماغی سوزش جیسی سنگین حالت میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص اور طبی نگرانی انتہائی ضروری ہے ۔
حکومتی اقدامات اور صحتی نظام کی تیاری
پینل نے بین الاقوامی داخلی مقامات پر مسافروں کی اسکریننگ کو مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ بروقت نگرانی اورعوامی آگاہی صحتی تحفظ کے لیے اہم ہیں ۔
COVID-19 کے بعد پاکستان کی وبائی تیاری کتنی بہتر ہوئی؟
ماہرین نے کہا کہ COVID-19 وبا کے تجربات نے ثابت کیا کہ مضبوط صحتی نظام صرف ہنگامی ردعمل سے نہیں بلکہ مستقل تیاری، بہتر رابطہ کاری اور مؤثر آگاہی سے بنتا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں
نیپاہ وائرس: بھارت میں پھیلاؤ کے بعد پاکستان میں ہائی الرٹ
کیا پاکستان کا ڈیلٹا بلیو کاربن کریڈٹ منصوبہ 12 بلین ڈالر کی ماحولیاتی تبدیلی لا پائے گا؟
عوام کے لیے احتیاطی تدابیر اور ماہرین کا مشورہ
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا کہ غیر محفوظ خوراک سے پرہیز کریں، علامات ظاہر ہونے پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں اور صحتی ہدایات پر عمل کریں۔ ان کے مطابق بروقت تیاری پاکستان کو مستقبل کے ممکنہ صحتی خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے ۔



