ٹونی ایگل پاکستان کے ایکو سسٹم کا اہم شکاری پرندہ ہے۔ اس کی بریڈنگ، مائیگریشن، ماحولیاتی کردار اور غیرقانونی تجارت سے بقا کو سنگین خطرات ہیں۔

ویب نیوز رپورٹ: ہارون یوسفزئی
کراچی : آج ہم بات کر رہے ہیں ٹونی ایگل ایک مائیگریٹری پرندہ جو کہ ہرسال پاکستان دوسرے پرندوں کی طرح شکاری پرندے اور دوسرے مسافر پرندوں کی طرح دوسرے ملکوں سے نقل مکانی کر کے آتے ہیں ۔ ان میں سے ایک ہے ٹونی ایگل ۔ یہ خوبصورت اور بڑا عقاب ہے ۔
اس کی عمرانسانوں جتنی ہی ہوتی ہے جتنے بھی ڈیزیزز ہوتی ہیں ان کو ختم کرتا ہے یعنی کہ جتنے بھی چھوٹے پرندے یا جانور جو کسی بیماری میں ہوں یا زخمی ہوں یا مرگئے ہوں، یاکمزوری کے باعثمرنے کے قریب ہوں ٹونی ایگل ان کا شکارکرتا ہے ۔

حتی کہ جو پرندے مر گئے ہوں ، اور مرنے کے بعد ان کے پیٹ پھٹنے کی وجہ سے جن گیسزکا اخراج ہوتا ہے ، ان سے جو بیماریاں پھیلتی ہیں یہ اس ڈیزیزز کو ختم کرنے لئے ان کے پیٹ میں گیسز پیدا ہونے سے پہلے ہی ان جانوروں کو ڈھونڈتا ہے اور کو کھالیتا ہے ۔
ٹونی ایگل ہمارے ایکو سسٹم کا ایک بہت اہم حصہ ہے جو ہماری ان ساری ڈزیزز جو بیمارجانوروں سے اور جانوروں کے مرنے کے بعد ان کے جسم سے نکلتی ہیں ان سے بچاتا ہے ۔
مسافر شکاری پرندہ ٹونی ایگل: پاکستان میں آمد، بریڈنگ اور بلیک مارکیٹ کا خطرناک کھیل
ٹونی ایگل کے بچے ہرسال پاکستان میں نقل مکانی کر کے آتے ہیں ۔ ہر سال یہ پاکستان میں موافق حالات کے پیش نظربریڈنگ کرتے ہیں ۔ کچھ جوڑے جو یہاں پر رہ جاتے ہیں وہ یہاں پر بریڈنگ کرتے اور انڈے بھی دیتے ہیں ۔
ٹونی ایگل پاکستان میں بریڈنگ کرنے کے لیے جن جگہوں کا انتخاب کرتا ہے وہ بلوچستان کا پہاڑی علاقہ، پنجاب سے پوٹھوہاراورکلر کہار اور چترال کے چنندہ علاقے شامل ہیں جہاں یہ اپنے بریڈنگ رینجز بناتے ہیں اور وہیں پر یہ اپنی بریڈنگ کرتے ہیں ۔
مارچ سے لے کے اپریل تک بریڈنگ کا سیزن شروع ہوجاتا ہے۔ مارچ تک یہ انڈے دے دیتے ہیں ۔ یہ ایک سیزن میں تین انڈے دیتے ہیں۔ ٹونی ایگل، شکاری پرندہ ہونے کی بنا پریہ ان کی خاصیت ہے کہ جوڑے کا بڑا بچہ ( جوانڈے سے پہلے نکل جاتا ہے) وہ اگر زیادہ صحت مند ہو جائے اور دوسرا بچہ اگر کمزور ہو تو، پہلا بڑا بچہ اپنے چھوٹے بھائی یا بہن کو بھوک کی وجہ سے مار بھی دیتا ہے ۔
چار مہینے تک بچہ اپنے گھونسلے کے اندر ہی رہتا ہے ۔ چار ماہ بعد بچہ اپنے گھونسلے سے اڑان بھرتا ہے اور دنیا کو دریافت کرنا شروع کرتا ہے ۔
ٹونی ایگل درخت کے اندر گھونسلے نہیں بناتے بلکہ پہاڑوں کی چٹانوں کی دراڑوں کے اندر گھونسلے بناتے ہیں ۔ اکثر بالکل اجڑے ہوئے درخت، جن کے اندر گرین جین نہیں ہوتی البتہ وہ اونچائی پر ہوتے ہیں عام طور پر یہ ایگلز بہت کم ان درختوں کے اوپر گھونسلا بناتے پائے گئے ہیں ۔
لیکن اصل ان کا مسکن پہاڑوں کی چٹانوں کے بیچ میں موجود دراڑوں میں اپنے گھونسلے بناتے ہیں تاکہ ان کو کوئی پرندہ یا کوئی اور جانوران کے گھونسلوں اور بچوں کو نقصان نہ پہنچاسکے ۔


ٹونی ایگل کے بچے خریدنا کیوں خطرناک ہے؟
ٹونی ایگل کے بچے مارکیٹوں میں بیچنے کے لئے لائے جاتے ہیں ۔ افسوس کہ ان بچوں کا مستقبل صرف اتنا ہے کہ ایک ہفتہ انہوں نے کسی کے بھی گھر پر یا کسی کے بھی ہاتھ میں رہنا ہے اور اس کے بعد ان کو جو سپلیمنٹس ان کی جو ڈائٹ ہوتی ہے، ( ٹونی ایگل جوڑا ) یعنی ماں باپ ان کو کھلاتے ہیں وہ انسان نہیں کھلاسکتے۔
لوکل مارکیٹ اورغیر قانونی مارکیٹ میں بچے 10 ہزار سے بیس ہزار تک فروخت ہوتے ہیں اور کبھی کبھار جو پنجاب سے یا کسی اور صوبے سے اگر کوئی ان پرندوں کے بارے میں انفارمیشن لیتا ہے یا ان سے خریدنے کی بات کرتا ہے تو ان پر ان بچوں کو 40 ہزار سے 50 ہزار روپے تک گولڈن ایگل کا بچہ بتا کر بھی بیچا جاتا ہے ۔
جبکہ جوان ایگلزجو فلائنگ کے قابل ہوتے ہیں ان کی مارکیٹ میں قیمت تقریباََ 7 ہزار سے لے کے 12 ہزار تک ہے ۔
وہ لوگ جو اپنی کم علمی کے باعث ان بچوں کو مارکیٹوں سے خرید لیتے ہیں وہ ان کو نہیں کھلا پاتے۔ زیادہ تر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ٹونی ایگل بچے کو صرف کلیجی یا دل کھلایا جاتا ہے جس کی وجہ سے پرندے کو ڈائٹری سپلیمنٹس نہیں مل رہا ہوتا ۔ چناچہ اس کی باڈی سروائیو نہیں کر پاتی ۔
یاد رکھیں صرف کلیجیاں کھلانے کی وجہ سے ان کے اندرونی جسم کو فائبر نہیں ملتا جس کی وجہ سے ان کی ہڈیاں مزید بڑھتی نہیں ہیں ۔ اسی وجہ سے جب ایک ہفتہ یا دس دن سے زیادہ کا بچہ ہو جاتا ہے تو اس کو ایک سرفس بھی سیدھا نہیں ملتا ۔
سلپری سرفس کی وجہ سے اس کی ٹانگیں چلتی ہیں ۔ ان ٹانگوں کے چیرجانے کی وجہ سے اس کے اندر کی ہڈی و جوڑ کھل جاتا ہے اوراس بنا پر اس کی ٹانگوں کے اوپر بلڈ سرکولیشن کم ہو جاتا ہے ۔
تین دن اور سرکولیشن (جو اندر کی ہڈی اورجوائنٹ ہوتا ہے وہ کھل جاتا ہے)، اس وجہ سے بعدزاں اس کی ٹانگوں کے اوپر بلڈ سرکولیشن وہ کم ہو جاتی ہے ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کی دونوں ٹانگیں قابل استعمال نہیں رہتیں ۔
پیرالائز ہونے کے بعد پرندہ کبھی بھی اپنے پاؤں کے اوپر کھڑا نہیں ہو پاتا ۔ البتہ اس کے پر درست حالت میں ہوتے ہیں ۔ شوقین سمجھتے ہیں کہ ٹونی ایگل کے بچہ بیمار ہو گیا ہے یا اس کی مرنے والی حالت ہے تو وہ اس کو یا تو کسی کو دے دیتے ہیں یا واپس اسی دکان پرجاتے ہیں جہاں سے انہوں نے اسے خریدا ہوتا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں
سرخ ٹانگوں والا ٹکور: زمین پر رہنے والا شاہی پرندہ
لیکن افسوس کہ جب وہ دکان پرجاتے ہیں تو نہ تووہ دکاندار وہاں پر ہوتا ہے نہ وہ کبھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ مجھ سے خریدا گیا تھا ۔
اب ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ ہم اس آگاہی کو اگے تک پھیلائیں اور اس غلط عمل کو جوایک مائنڈ سیٹ بن گیا ہے کہ اگر ہم چھوٹا گھونسلے کا بچہ اگر ہم لے کے پالیں گے تو وہ ہمارے پاس ہمیشہ رہے گا اور طوطے یا کبوتر کی طرح وہ کبھی بھی ہمارے پاس سے بھاگے گا نہیں ۔
ہم جہاں سے اس کو بلائیں گے وہ ہمارے پاس اُڑ کرآجائے گا تو یہ جان لیں کہ یہ سب خام خیالی ہیں۔ جب تک اپ کو پرندے کے بارے میں مکمل معلومات نہ ہوں، اس کی ویلفیئر، اس کی ہینڈلنگ نہیں پتہ تب تک آپ ان جنگلی پرندوں کو اپنے پاس سروائیو نہیں کروا سکتے ۔


