چین میں پاکستان زرعی تعاون کے تحت پاکستانی طالب علم ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی میں بہار کی کاشتکاری کے دوران آلو کی بیماریوں اور وائرسز پر عملی تحقیق کر رہے ہیں
چھونگ چھنگ (شِنہوا): چین کی جنوب مغربی بلدیہ چھونگ چھنگ میں بہار کی ایک خوشگوار دوپہر کے دوران جن یون پہاڑ کے دامن میں واقع تجرباتی کھیتوں میں ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی کے پروفیسرز اور طلبہ آلو کے کھیت سے نمونے جمع کرنے میں مصروف تھے۔
انہی طلبہ میں گندمی رنگت اور گھنی داڑھی والا ایک غیر ملکی نوجوان بھی شامل تھا۔ وہ چلتے ہوئے وقتاً فوقتاً جھک کر آلو کے پودوں کا معائنہ کرتا اور اپنے پروفیسرز کے ساتھ مل کر کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ کر رہا تھا۔
یہ نوجوان وجاہت حسین تھا، جو ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی کے کالج آف ایگرونومی اینڈ بائیو ٹیکنالوجی میں ماسٹرز کا طالب علم ہے۔
بہار کی کاشتکاری میں عملی تحقیق
چین میں بہار کی روایتی کاشتکاری کے سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی وجاہت حسین نے بھی اپنی گریجویٹ تعلیم کے حصے کے طور پر عملی مشق کے نئے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے ۔
وجاہت حسین نے کہا کہ بہار کے زرعی موسم میں کھیتوں میں کام کرنا بہت خوشگوار تجربہ ہے۔ موسم معتدل ہوتا ہے، نہ زیادہ گرم اور نہ زیادہ سرد، اور اردگرد ہر چیز تازگی سے بھرپور دکھائی دیتی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ لیبارٹری کے کام کے مقابلے میں کھیت میں عملی تجربہ انہیں یہ دیکھنے کا موقع دیتا ہے کہ موسم اور مٹی کی حالت فصلوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے ۔ اس سے بیماریوں کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور عملی زرعی مہارتیں بھی حاصل ہوتی ہیں ۔
آلو کی بیماریوں پر تحقیق
وجاہت حسین نے آلو کے پتے کے نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی پاکستانی ساتھی محقق قراۃ العین کے ساتھ لیبارٹری واپس جائیں گے۔
وہاں آلو کے مختلف وائرسز پر قابو پانے اور بہتر اقسام تیار کرنے کے لیے کھیت میں حاصل ہونے والے تجربات کو لیبارٹری تحقیق کے ساتھ جوڑا جائے گا۔

پاکستانی طلبہ کی تحقیقی صلاحیتیں
کالج کے پروفیسر ژو یونگ ہونگ نے کہا کہ وجاہت حسین جیسے کئی پاکستانی طلبہ ہیں جنہوں نے اپنی محنت اور تحقیقی صلاحیتوں میں مسلسل بہتری دکھائی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں وجاہت حسین اور ایک چینی تحقیقی ٹیم نے آلو کے وائرس کے انفیکشن سے بچاؤ اور افزائش کی بہتر تکنیکوں پر ایک تحقیقی مطالعہ مکمل کیا ہے، جس کے نتائج ایک معتبر علمی جریدے میں شائع ہوئے ہیں ۔
تعلیمی اور سائنسی تعاون میں اضافہ
ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی میں پاکستانی طلبہ میں ماسٹرز، ڈاکٹریٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ محققین شامل ہیں۔ اپنی تعلیم کے دوران یہ طلبہ یونیورسٹی کی سائنسی تحقیق میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔
چین کی ایک معروف زرعی یونیورسٹی کے طور پر ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی طویل عرصے سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت شامل ممالک، خصوصاً پاکستان، کے ساتھ تعلیمی اور سائنسی تعاون کو فروغ دے رہی ہے ۔
کالج آف ایگرونومی اینڈ بائیو ٹیکنالوجی کے ڈین لو دیان چھیو نے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے فریم ورک کے تحت حالیہ برسوں میں زرعی منصوبوں اور تعلیمی شعبوں میں پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط کیا گیا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط بھی کیے ہیں اور مزید اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔
زرعی گریجویٹس کے لیے تربیتی پروگرام
پاکستان اور چین کی قیادت کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کے بعد حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے زرعی تعاون کو مزید گہرا کیا ہے ۔
پاکستان نے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو جدید زرعی ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے چین بھیجا جا رہا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں
آرکٹک سمندری برف خطرناک حد تک کم : 2050 تک برف ختم ہونے کا خدشہ
چین کی پہاڑی کاشت کاری سے پاکستان میں زرعی ترقی کے نئے امکانات
سن 2025 کے اختتام تک اس پروگرام کے دوسرے مرحلے کے تحت 166 تربیت یافتہ ماہرین نے چین کے شمال مغربی صوبے شانشی کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے نگرانی، ڈیٹا تجزیہ اور اطلاق سمیت مکمل زرعی خدمات کے بارے میں سیکھا اور جدید زرعی عمل میں موسمیاتی سائنس کے کردار کو بھی سمجھا ۔
چین-پاکستان سیمپوزیم
سائنس، تعلیم اور صنعتی تعاون سے متعلق پہلا چین-پاکستان سیمپوزیم 20 جنوری 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔
اس سیمپوزیم میں دونوں ممالک کے تقریباً 50 ماہرین، کاروباری نمائندے اور میڈیا پروفیشنلز نے شرکت کی اور زرعی، تعلیمی، سائنسی اور صنعتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا ۔
گلوبل ساؤتھ میں تعاون
چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس (سی پی پی سی سی) کی چھونگ چھنگ میونسپل کمیٹی کے رکن ژو ینگ نے کہا کہ چین اور پاکستان سمیت گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان تعاون کی جڑیں مزید مضبوط ہو رہی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ خصوصاً زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں عملی اور باہمی مفید تعاون کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں ۔
پاکستانی طالب علم کا عزم
وجاہت حسین اور قراۃ العین کے لیے چین اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعاون نے تحقیق اور تعلیم کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا ہے ۔
وجاہت حسین نے کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ وہ چین-پاکستان تعلیمی تبادلے کا حصہ ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ وہ چین میں حاصل ہونے والا علم اور تجربہ مستقبل میں پاکستان واپس لے جا کر فصلوں کی بیماریوں پر قابو پانے اور ملک کی زرعی ترقی میں کردار ادا کریں گے ۔

