پاکستانی طالب علم کی مصنوعی ذہانت پر تحقیق اور چین پاکستان تعاون میں نمایاں پیش رفت، تعلیمی و سائنسی شراکت داری مزید مضبوط
شہنوا
چونگ چھنگ کی ایک جدید اور روشن لیبارٹری میں اس وقت نہایت مصروف تحقیقی ماحول ہے۔ کمپیوٹر اسکرینیں پیچیدہ کوڈ اور طبی امیجنگ ڈیٹا سے روشن ہیں۔ اسی دوران پاکستانی طالب علم محمد یونس خان مکمل توجہ کے ساتھ اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز بہتر بنا رہے ہیں۔ سی ٹی اسکینز خودکار الگورتھمز کے ذریعے تجزیہ اور درجہ بندی کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔
مزید برآں، یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی طبی شعبے میں انقلاب لا رہی ہے۔ یہ تحقیق کے نئے دروازے بھی کھول رہی ہے۔

پاکستان اور چین کے تعلیمی تعاون میں اضافہ
حالیہ برسوں میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت دونوں ممالک کے روابط مضبوط ہوئے ہیں۔ تعلیمی اور ثقافتی تعاون میں بھی واضح اضافہ ہوا ہے۔ اس سے طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
اسی طرح خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے یونس خان اس تعاون کو اپنی ترقی کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔ وہ اسے ایک مثبت رجحان قرار دیتے ہیں۔
مشین لرننگ اور طبی امیجنگ پر تحقیق
یونس خان کمپیوٹر سائنس میں مشین لرننگ پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کی توجہ طبی امیج تجزیے پر ہے۔ اس میں بیماری سے متاثرہ حصوں کی شناخت شامل ہے۔ اور ان کی درست درجہ بندی بھی شامل ہے۔
ان کا مقصد ایسے ماڈلز تیار کرنا ہے جو معمولی تبدیلی بھی پہچان سکیں۔ نتیجتاً یہ تحقیق طبی تشخیص کو زیادہ درست بنا رہی ہے۔ یہ انسانی تشخیص کی محدودیت بھی کم کرتی ہے۔
یونس خان کا وژن اور مقصد
یونس خان کے مطابق مصنوعی ذہانت طبی تشخیص کو تیز اور مؤثر بنا رہی ہے۔ یہ عمل میں یکسانیت بھی پیدا کر رہی ہے۔ وہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی تحقیق عالمی سطح پر فائدہ دے گی۔
وہ اسے طویل المدتی مشن سمجھتے ہیں۔ اس کا مقصد انسانی فلاح ہے۔
چین میں تعلیمی سفر اور تحقیق
یونس خان نے 2023 میں چونگ چھنگ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ وہ مصنوعی ذہانت اور صحت کے امتزاج میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ ان کے تحقیقی مقالے پہلے ہی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔
وہ ہر مرحلے کو اہم قدم سمجھتے ہیں۔ وہ مسلسل پیش رفت پر یقین رکھتے ہیں۔
خاندانی پس منظر اور ثقافتی تجربات
یونس خان کا چین میں تعلیم کا فیصلہ خاندانی اثرات سے بھی جڑا ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات نے بھی کردار ادا کیا۔ ان کے بھائی پہلے ہی چین سے پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔
چینی ماہرین کے ساتھ تجربات نے ان کی صلاحیتیں بہتر کیں۔ انہیں نیا علمی ماحول ملا۔ وہ مختلف ثقافتی سرگرمیوں کا حصہ بھی رہے۔ یہ تجربات دونوں ممالک کی دوستی مضبوط کرتے ہیں۔
ماہرین کی رائے اور وسیع رجحان
ماہرین کے مطابق یونس خان جیسے طلبہ ایک بڑے رجحان کی مثال ہیں۔ چین اور پاکستان کے درمیان تعاون زیادہ عملی ہو رہا ہے۔
ژو ینگ کے مطابق تعلیم ہنرمند افرادی قوت تیار کرتی ہے۔ یہ طویل المدتی تعاون کی بنیاد بھی ہے۔
تربیتی معاہدے اور عملی تعاون
سی پیک کے دوسرے مرحلے میں 11 تربیتی معاہدے ہوئے ہیں۔ ان میں ای کامرس، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی اور ڈرون شامل ہیں۔ اسمارٹ مینوفیکچرنگ اور صحت بھی شامل ہیں۔
ان پروگرامز کا مقصد ہزاروں نوجوانوں کو مہارت دینا ہے۔ یہ عملی تعاون کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔
تعلیمی اداروں کے درمیان نئے معاہدے
2025 میں بھی تعلیمی شعبے میں پیش رفت ہوئی۔ اندرونی منگولیا کالج اور یونیورسٹی آف پنجاب کے درمیان معاہدہ ہوا۔ کمپیوٹر سائنس میں مشترکہ پروگرام منظور ہوا۔
اسی طرح یونیورسٹی آف سرگودھا اور نانکائی یونیورسٹی کے درمیان بھی تعاون ہوا۔ یہ ڈیجیٹل تعلیم کے شعبے میں ہے۔
پاکستانی طلبہ کا بڑھتا ہوا کردار
چھن ینگ کے مطابق چھونگ چھنگ یونیورسٹی میں 118 پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ یہ زیادہ تر انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس اور بزنس میں ہیں۔
یہ طلبہ پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کریں گے۔ ان طلبہ کا کردار چین پاکستان دوستی کے سفیر کے طور پر نمایاں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں
ووہان میں انسان نما روبوٹس کی حیران کن پیش رفت سامنے آگئی
مزدوروں کا عالمی دن: تاریخ، جدوجہد اور آج کے تقاضے
مستقبل کے منصوبے اور پیشہ ورانہ سفر
یونس خان جولائی میں گریجویشن مکمل کریں گے۔ انہیں شین زین کی کمپنی میں ملازمت کی پیشکش ملی ہے۔ وہ تحقیق اور ترقی کے شعبے میں کام کریں گے۔
وہ اپنی مہارت مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو طبی تحقیق میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
پاکستانی طالب علم کے مطابق مصنوعی ذہانت طب کا مستقبل بدل رہی ہے۔ بین الاقوامی تعاون نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی تحقیق زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کام آئے۔