January 14, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
پاکستانی طلبہ چین کے دیہی اسکولوں میں انگریزی تعلیم کو فروغ کیوں دے رہے ہیں؟
Pakistani students teaching English to children in rural schools of China

پاکستانی طلبہ چین کے دیہی اسکولوں میں انگریزی تعلیم کو فروغ کیوں دے رہے ہیں؟

پاکستانی طلبہ چین کے دیہی اسکولوں میں انگریزی تعلیم اس لیے فروغ دے رہے ہیں

تاکہ طلبہ کا اعتماد بڑھے، عالمی نقطہ نظر ملے اور ثقافتی فاصلے کم ہوں۔

تیانجن (شِنہوا) چین کے شمالی ساحلی شہر تیانجن واپس آنے کے بعد بھی تیانجن یونیورسٹی کے 2 پاکستانی طلبہ شمال مغربی صوبہ گانسو کی دور افتادہ کاؤنٹی تان چھانگ کے نان یانگ مڈل سکول میں گزارے ہوئے اپنے ایک ہفتے طویل انگریزی تدریسی تجربے کو یاد کرتے ہیں۔ ان کا یہ مختصر قیام دیہی کمیونٹی کے لئے ایک پائیدار محبت چھوڑ گیا۔

یہ رضاکارانہ پروگرام تیانجن یونیورسٹی کے اس طویل المدتی منصوبے کا حصہ تھا جس کا مقصد دیہی تعلیم کی معاونت اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینا ہے تاکہ مقامی انگریزی تدریس کو بہتر بنایا جا سکے اور چینی وغیرملکی نوجوانوں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دیا جاسکے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے رضاکار عماد عالم اور ابراہیم نایاب دیہی اسکول کے لئے صرف لسانی مہارت ہی نہیں بلکہ تعلیم کے ذریعے ثقافتوں کو جوڑنے کا جذبہ بھی لے کرآئے۔

الیکٹریکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم عماد عالم نے کہا کہ بہت سے طلبہ انگریزی سمجھتے تھے لیکن بولنے میں جھجک محسوس کرتے تھے۔ ہم نے کھیلوں، مقابلوں اورباہمی سرگرمیوں کے ذریعے ان کا اعتماد بڑھانے پرتوجہ دی۔

ان رضاکاروں نے جماعت ہفتم سے نہم تک کے 200 سے زائد طلبہ کو پڑھایا اور کہانی سنانے، کردار ادا کرنے اور مائنڈ میپنگ جیسی طلبہ پر مرکوز تدریسی تیکنیکس استعمال کیں۔

عماد عالم نے طلبہ کی رہنمائی کے لئے ذہنی خاکوں کا استعمال کیا تاکہ وہ انگریزی میں اپنے علاقے کے کھانوں، مشہور مقامات اور رسم و رواج کا تعارف کروا سکیں۔

عالم نے بتایا کہ جب سبق ان کی اپنی زندگیوں سے جڑ گیا تو ان کی دلچسپی اور سیکھنے کے جذبے میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہیں انگریزی میں اپنے آبائی شہر کی تعریف کرنے پر فخر محسوس ہو رہا تھا۔

نان یانگ مڈل اسکول کی طالبہ یوآن شن نے بتایا کہ انہیں اس تجربے سے بہت فائدہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ان عالمی اساتذہ کے ساتھ اپنے رابطے کے نمبروں اور سوشل میڈیا آئی ڈیز کا تبادلہ کیا ہے۔ میں اپنی انگریزی بہتر بنانے کے لئے ان سے سیکھنے کا سلسلہ جاری رکھوں گی۔

پاکستان میں سیکینڈری اسکول کی سابقہ پرنسپل رہنے والی ابراہیم نایاب کے لئے یہ تجربہ چین میں دیہی تعلیم کے حوالے سے ایک نیا نقطہ نظر فراہم کرنے والا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے مشاہدہ کیا کہ یہاں کے طلبہ کس طرح انگریزی سیکھتے ہیں اورمقامی اساتذہ کس انداز میں پڑھاتے ہیں۔ دیہی تعلیم کے لئے چین کا عزم قابل ستائش ہے۔ نایاب اسکول کے منظم انتظام اور سہولیات سے خاص طور پر متاثر ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ جسمانی تعلیم کا نصاب متنوع ہے اور ہر چیز بہت منظم ہے۔ یہ سیکھنے کے قابل ہے۔

طلبہ کو بولنے کی ترغیب دینے کے لئے رضاکاروں نے ایک انگریزی تقریری مقابلہ بھی منعقد کیا جس میں ہرکلاس سے 2 نمائندے منتخب کئے گئے۔

عماد عالم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہمیں اتنی پرجوش شرکت کی توقع نہیں تھی۔ میں نے دیہی چینی بچوں میں اپنے اظہار اور دنیا سے بات کرنے کی شدید خواہش دیکھی۔ ایک کھلا دیہی معاشرہ عالمی سطح سے جڑنے کی لامحدود صلاحیت رکھتا ہے۔

نویں جماعت کے ایک طالب علم، جس کا خاندانی نام چھن ہے، نے مقابلے کے بعد زیادہ اعتماد محسوس کیا۔

چھن نے کہا کہ مجھے احساس ہوا کہ انگریزی بھی چینی کی طرح خوبصورت ہو سکتی ہے۔ زبان دنیا کو جوڑنے والا ایک پل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں چینی زبان میں مہارت حاصل کرنی چاہیے اورساتھ ہی انگریزی بھی اچھی طرح سیکھنی چاہیے۔

عماد عالم کو سب سے زیادہ بچوں کا تجسس اور سیکھنے کا جذبہ متاثر کر گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف علم کی منتقلی نہیں تھی بلکہ ذہنوں کو جگانے اور مستقبل تعمیر کرنے کی کوشش تھی۔

میں نے طلبہ سے کہا کہ ایک استاد اور دوست کے طور پر میں ہمیشہ ان کی مدد کے لئے کسی بھی وقت اور کہیں بھی موجود ہوں۔

یہ پروگرام تیانجن یونیورسٹی اور تان چھانگ کاؤنٹی کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کا حصہ ہے۔

سن2013 سے اب تک یونیورسٹی نے خوابوں کی کلاس رومز اور اے آئی تدریسی لیبز کی تعمیر جیسے منصوبوں کے ذریعے کاؤنٹی کی مدد کی ہے اور’’آن لائن ٹیوشن + آف لائن تدریس اور اساتذہ کی تربیت + نصاب کی شراکت‘‘ جیسے پائیدار ماڈلز کو فروغ دیا ہے تاکہ دیہی شباب نو کو تقویت ملے۔

تیانجن یونیورسٹی کے اسکول آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کے پارٹی سیکرٹری اور پروگرام کے منتظم جن شوآن نے کہا کہ سن2024 کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ ہم نے تان چھانگ کاؤنٹی میں دیہی تعلیم کی معاونت کے لئے بین الاقوامی طلبہ کو منظم کیا ہے۔

جن نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی طلبہ چین کو اس کی اصل اور متنوع شکل میں دیکھیں۔ اس سے دیہی تعلیم میں بین الاقوامی توانائی شامل ہوتی ہے اور عالمی نوجوانوں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

نان یانگ مڈل سکول کے پرنسپل وو شیان گان کا خیال ہے کہ اس سرگرمی نے طلبہ کے لئے دنیا کی ایک کھڑکی کھول دی، انگریزی میں ان کی دلچسپی بڑھائی اور اسکول میں قیمتی عالمی نقطہ نظر لایا۔

وہ اُمید کرتے ہیں کہ مزید بین الاقوامی نوجوان دیہی علاقوں میں آ کر تعلیم میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

یہ تدریسی پروگرام محض تعلیمی مدد تک محدود نہیں رہا بلکہ ثقافتوں کے درمیان باہم سیکھنے کی ایک جیتی جاگتی مثال بن گیا ہے۔

Pakistani students teaching English to children in rural schools of China
پاک چین تعلیمی تعاون کی عملی تصویر

نایاب نے کہا کہ میں سمجھتی تھی کہ میں طلبہ کے لئے ایک کھڑکی کھول رہی ہوں لیکن درحقیقت انہوں نے میرے لے بھی ایک کھڑکی کھول دی۔ میں نے چین کی دیہی مضبوطی، محنت اور ثقافتی دولت کو قریب سے دیکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کیا جوتے بھی ماحول دوست ہوتے ہیں؟

جاپانی نوجوان کہاں گئے

سرخ ٹانگوں والا ٹکور: زمین پر رہنے والا شاہی پرندہ

جیسے جیسے چین دیہی ترقی اور تعلیمی مساوات کو آگے بڑھا رہا ہے، بین الاقوامی تعاون کے مزید منصوبے دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لئے مواقع پیدا کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکیں اور دنیا سے جڑسکیں۔

بالکل اسی طرح جیسے 3 بین الاقوامی طلبہ نے بلیک بورڈ پر لکھا کہ دنیا بہت بڑی ہےاور تم اسے دیکھ سکتے ہو۔

نایاب نے جذباتی انداز میں کہا کہ یہ بچے مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر یا فنکار بن سکتے ہیں۔ ہمارا ساتھ مختصر تھا اور ہماری مدد محدود لیکن اگر ہم ان کے دلوں میں امید کا ایک بیج بو سکے ہیں تو پھر ہمارا یہ سفر واقعی کامیاب رہا۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×