چین میں پاکستانی طالب علم محمد عقیل نے ایچ ایس کے لیول 4 پاس کر لیا، زرعی ٹیکنالوجی میں مزید تعلیم کے لیے سکالرشپ کی تیاری
شِنہوا
لان ژو: چین میں زیر تعلیم 19 سالہ پاکستانی طالب علم محمد عقیل کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ آٹھ ماہ کی تعلیم کے بعد انہوں نے ہان یو شوئے پھنگ کاؤشی (ایچ ایس کے) لیول 4 کا امتحان کامیابی سے پاس کر لیا ہے۔ یوں وہ چینی جامعات میں سکالرشپ کے لیے درخواست دینے کے اہل ہو گئے ہیں۔
محمد عقیل کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی ان کی ذاتی خواہش کی تکمیل کی جانب اہم قدم ہے۔ درحقیقت وہ چینی زبان میں مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ جدید زرعی ٹیکنالوجی بھی سیکھنا چاہتے ہیں۔

زرعی پس منظر اور تعلیمی سفر
محمد عقیل کا تعلق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سات افراد پر مشتمل خاندان سے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے خاندان کے کئی افراد زراعت سے وابستہ ہیں۔
سن 2023 میں انہیں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں داخلہ ملا۔ بعد ازاں ستمبر 2025 میں وہ تعلیم کے سلسلے میں چین چلے گئے۔
وہاں جا کر انہوں نے چین کے شمال مغربی صوبے گانسو کے شہر ژانگ یے میں واقع بے لائی ووکیشنل کالج میں ایک سالہ تعلیمی پروگرام شروع کیا۔
شاہراہ ریشم سے جدید زرعی تعلیم تک
دو ہزار سال قبل ژانگ یے شہر تاریخی شاہراہ ریشم پر قافلوں کے لیے ایک اہم پڑاؤ تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اسی راستے کے ذریعے جدید زرعی ٹیکنالوجی اور فنی تعلیم پاکستانی نوجوانوں تک پہنچ رہی ہے۔
سن 1942 میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ریوی ایلی نے گانسو شان دان بے لائی سکول قائم کیا تھا۔ بعد میں یہی ادارہ بے لائی ووکیشنل کالج کی بنیاد بنا۔ یوں یہ ادارہ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے فنی تعلیم اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان اور چین کا مشترکہ تعلیمی پروگرام
کالج کے بین الاقوامی تبادلہ دفتر کے سربراہ چھن ہائی یو کے مطابق بے لائی ووکیشنل کالج اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے درمیان “2+1” تربیتی پروگرام جاری ہے۔
اس پروگرام کے تحت طلبہ دو سال پاکستان میں اور ایک سال چین میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ اعداد و شمار کے مطابق دونوں اداروں نے مشترکہ طور پر 120 سے زائد ایسے ماہرین تیار کیے ہیں جو چینی زبان اور زراعت دونوں میں مہارت رکھتے ہیں۔
طلبہ کے لیے سہولیات اور تعلیم
چین پہنچنے پر عقیل اور ان کے ساتھیوں کو مکمل سہولیات فراہم کی گئیں۔ مثال کے طور پر انہیں تین افراد پر مشتمل کمرے اور مشترکہ کچن فراہم کیے گئے۔
اس کے علاوہ ان کی ٹیوشن فیس معاف کر دی گئی اور ہر طالب علم کے لیے ماہانہ ایک ہزار یوآن یعنی تقریباً 140 امریکی ڈالر وظیفہ مقرر کیا گیا۔
عقیل کے مطابق روزمرہ زندگی میں انہیں کوئی بڑی مشکل پیش نہیں آئی۔ تاہم زبان سب سے بڑا چیلنج رہی۔ اگرچہ انہوں نے پاکستان میں دو سال چینی زبان سیکھی تھی، اس کے باوجود بعض لیکچرز سمجھنا مشکل ہوتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ اساتذہ نہایت صبر اور توجہ سے پڑھاتے ہیں۔ پہلے وہ چینی زبان میں تفصیل سے سمجھاتے ہیں اور پھر انگریزی میں وضاحت کرتے ہیں۔
جدید زرعی ٹیکنالوجی کی تربیت
عقیل کا روزمرہ شیڈول عملی اور نظریاتی تعلیم پر مشتمل ہے۔ جس میں بغیر مٹی کی کاشت، بیجوں کی تیاری، چینی ثقافت اور جسمانی تعلیم جیسے مضامین شامل ہیں۔
چھن ہائی یو کے مطابق کالج نے مقامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رکھی ہے۔ تاکہ طلبہ کو عملی تربیت کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر روایتی زراعت رائج ہے۔ جبکہ دوسری جانب گرین ہاؤس فارمنگ اور سمارٹ آبپاشی جیسے جدید طریقے محدود ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستانی طلبہ ان ٹیکنالوجیز میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔
اسی دوران تربیت کے دوران عقیل نے جدید زرعی ٹریکٹرز، ڈرونز اور خودکار موسمیاتی نظام کا عملی تجربہ بھی حاصل کیا۔
پاکستان میں زرعی ترقی کا خواب
محمد عقیل کا کہنا ہے کہ چین کی زرعی ٹیکنالوجی بہت جدید ہے۔ لہٰذا وہ یہاں تعلیم کے اس موقع کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
فارغ وقت میں وہ کھیلوں اور سیاحت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مثلاً ان کے موبائل میں بیجنگ، تیانجن اور لان ژو سمیت مختلف شہروں کے دوروں کی تصاویر محفوظ ہیں۔
دوسری جانب وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے تجربات پاکستان میں موجود دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اب زیادہ پاکستانی نوجوان چین میں تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
روزگار کے بہتر مواقع
گزشتہ سال بے لائی ووکیشنل کالج سے پاکستانی طلبہ کا پہلا بیچ فارغ التحصیل ہوا۔ بعد ازاں ان میں سے اکثر پاکستان واپس جا کر چینی یا پاک چین مشترکہ زرعی کمپنیوں میں مترجم اور تکنیکی مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
عقیل کے مطابق ان افراد کی تنخواہیں کافی زیادہ ہیں۔ کیونکہ اردو، چینی اور انگریزی زبانوں کے ساتھ زرعی مہارت رکھنے والے افراد کی مانگ بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
چینی ڈاکٹر کو ستارہ پاکستان سے نوازا گیا
سندھ میں عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات کا افتتاح
مزید تعلیم کا ارادہ
محمد عقیل تین ماہ میں اپنی موجودہ تعلیم مکمل کر لیں گے۔ تاہم وہ فوری طور پر پاکستان واپس جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
ان کا کہنا ہے کہ چین میں ایک سال کی تعلیم کافی نہیں۔ اسی لیے وہ مزید دو یا تین سال چین میں رہ کر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے وہ بیجنگ لینگویج اینڈ کلچر یونیورسٹی، تیانجن یونیورسٹی یا لان ژو یونیورسٹی میں سکالرشپ کے لیے درخواست دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
عقیل کا کہنا ہے کہ ان کے آبائی علاقے میں وسیع زرعی زمین موجود ہے مگر جدید ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔ چنانچہ وہ محنت کر کے چینی زبان سیکھیں گے اور چین کی جدید زرعی ٹیکنالوجی پاکستان لے جانا چاہتے ہیں۔