شہید بینظیرآباد ضلع کے 100 زائد گاؤں کی کچہری میں خواتین کا مطالبہ، پنک اسکوٹی اسکیم ان کے گاؤں تک نہیں پہنچی، تعلیم اور سہولیات کہاں ہیں؟
ویب نیوز رپورٹ: ماریہ اسمعیل
کراچی : ڈسٹرکٹ شہید بینظیر آباد کے گاؤں “حاجی اللہ داد، دیہہ 87 نصرت، شہید بینظیر آباد” اور قریبی تین چار گاؤں کی خواتین اور لڑکیوں نے سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن ایڈووکیٹ روبینہ امان بروہی کی جانب سے کچہری سیشن میں بڑی تعداد میں شرکت کی، جہاں خواتین کے قومی و عالمی دن کے سلسلے میں شروع کی گئی مہم ’’اپنے قوانین جانو، اپنے حقوق جانو” کے تحت آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا ۔
اس کچہری میں 100 سے زائد خواتین نے مختلف گاؤں سے شرکت کی اور اپنے مسائل پر کھل کر بات چیت کی ۔ خواتین نے بتایا کہ ان کے علاقوں میں نوجوان لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے، لیکن صرف ایک اسکول ہے جو پرائمری سطح تک محدود ہے ۔
انہوں نے سندھ حکومت کی فلاحی اسکیموں کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے گاؤں میں بھی ایسی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ لڑکیوں نے تجویز دی کہ گاؤں میں ووکیشنل سینٹرز قائم کیے جائیں تاکہ وہ تکنیکی مہارت حاصل کر سکیں ۔
خواتین نے مزید بتایا کہ حکومت کی جانب سے شروع کی گئی پنک اسکوٹی اسکیم ان کے گاؤں تک نہیں پہنچی، جبکہ بجلی سے چلنے والی جدید سرخ اور سفید بس سروس بھی محدود راستوں تک فراہم کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سرخ بس سروس صرف “تین واٹر” تک چلتی ہے، جسے بڑھا کر “جام صاحب” تک کیا جائے ۔
دیہاتی خواتین نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گاؤں کی خواتین کو وظیفہ تو ملتا ہے، لیکن کچھ بیوہ خواتین ایسی ہیں جنہیں ابھی تک یہ سہولت نہیں ملی ۔
مقامی افراد نے حکومت کی جانب سے گھر تعمیر کرانے کی اسکیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک شاندار قدم ہے جس کے باعث سیلاب کے بعد کئی گھروں کی تعمیر ممکن ہوئی، تاہم کچھ گھروں کی تعمیر ابھی باقی ہے، جس پر انہوں نے اپیل کی کہ انہیں بھی جلد مکمل کیا جائے۔
اس موقع پر چیئرپرسن روبینہ امان بروہی نے خواتین کو یقین دلایا کہ ان کے تمام مسائل متعلقہ حکام تک پہنچائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی نشستوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کے مسائل براہِ راست سنے جا سکیں اور انہیں حکومتی پالیسیوں اوراسکیموں میں شامل کیا جا سکے ۔


ایڈووکیٹ روبینہ بروہی نے کہا کہ سندھ حکومت مسلسل خواتین کے حقوق کے لیے کوشاں ہے اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں خواتین کی فلاح کے لیے زیادہ قانون سازی کی گئی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجلی سے چلنے والی بسیں اور لڑکیوں کے لیے پنک اسکوٹی جیسی اسکیمیں دنیا میں پہلی بار سندھ حکومت نے متعارف کرائی ہیں، جن سے خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد ملے گی اور پاکستان ترقی کرے گا ۔
یہ بھی پڑھیں
خواتین کے حقوق پرسندھ کمیشن کا عمرکوٹ میں آگاہی سیشن
ایڈووکیٹ روبینہ بروہی نے خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہ کرتے ہوئے خاص طور پر کم عمری کی شادی کی روک تھام سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں اور کہا کہ خواتین کے لیے اپنے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا بے حد ضروری ہے تاکہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر سکیں ۔



