وزیراعلیٰ سندھ نے آگاہی، ویکسین، علاج اور آوارہ کتوں کے کنٹرول کے ذریعے ریبیز سے اموات ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبہ بھر میں انسدادِ ریبیز مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ریبیز سے ہونے والی قابلِ تدارک اموات کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی اپنا رہی ہے۔
اس حکمت عملی میں آگاہی، بہتر علاج، ویکسین کی فراہمی اور آوارہ کتوں کی آبادی پر کنٹرول شامل ہے۔

ریبیز ایک قابلِ تدارک مگر خطرناک بیماری
وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ریبیز ایک سنگین مگر قابلِ تدارک عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ بروقت علاج اور مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
صوبے میں کیسز اور صورتحال
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سال 2025 میں سندھ میں کتے کے کاٹنے کے 2 لاکھ 85 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔
اسی عرصے میں بڑے اسپتالوں میں ریبیز سے 22 سے زائد اموات ریکارڈ کی گئیں۔
جنوری سے اپریل 2026 تک 85 ہزار 891 سگ گزیدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ویکسین اور علاج کی فراہمی
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تمام طبی مراکز میں اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبیولن کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی شہری کی جان بروقت علاج یا آگاہی کی کمی کے باعث نہیں جانی چاہیے۔
آوارہ کتوں کا کنٹرول اور جاری پروگرام
اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ ریبیز کنٹرول پروگرام کے تحت 20 اضلاع میں مہم جاری ہے۔
اب تک 25 ہزار 500 سے زائد کتوں کی نس بندی کی جا چکی ہے۔
جبکہ 36 ہزار 900 سے زائد کتوں کو ویکسین لگائی گئی ہے۔
مزید 11 مراکز جلد فعال کیے جائیں گے۔
طبی نظام اور سہولیات
سندھ بھر میں 278 انسدادِ ریبیز مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
112 ریفرل سینٹرز 24 گھنٹے فعال ہیں۔
63 ہزار سے زائد مریضوں کو اینٹی ریبیز ویکسین فراہم کی گئی ہے۔
جبکہ 8 ہزار 700 سے زائد مریضوں کا ای آر آئی جی سے علاج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
شہزادی ڈیانا: خواب جیسی زندگی کی تلخ حقیقت
امریکا ایران معاہدہ: جوہری مطالبات کے بدلے مالی ادائیگی مسترد
آگاہی مہم اور ڈیجیٹل نظام
سات روزہ صوبائی آگاہی مہم ٹی وی، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر جاری ہے۔
اسکولوں اور کمیونٹی پروگرامز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اے آر وی پیشنٹ ٹریکنگ سسٹم کو سراہا اور اسے جلد فعال کرنے کی ہدایت دی۔
انسانی اور سائنسی حکمت عملی
مراد علی شاہ نے کہا کہ آوارہ کتوں کے مسئلے کے حل کے لیے انسانی اور سائنسی بنیادوں پر پائیدار حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
انہوں نے محکمہ اطلاعات کو ہدایت دی کہ آگاہی مہم کو اردو، سندھی اور علاقائی زبانوں میں مزید مؤثر بنایا جائے۔