سندھڑی آم: ٹرانسپورٹ مسائل اور جلد تیاری کے باعث برآمدی تاریخ پر نظرثانی کا کسانوں اور ایکسپورٹرز کا حکومت سے فوری مطالبہ
ویب نیوز رپورٹ
حکومت کی جانب سے آم کی برآمدات (ایکسپورٹ) کے آغاز کے لیے یکم جون کی تاریخ مقرر کرنا مختلف حلقوں میں تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ ماہرین اور ایکسپورٹرز کے مطابق یہ فیصلہ زمینی حقائق اور موسمی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ایکسپورٹرز کو درپیش مشکلات
تاجر برادری کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں عید الاضحیٰ بھی آ رہی ہے۔ اس دوران لیبر کی کمی، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات، کنٹینرز کی محدود دستیابی اور بندرگاہوں پر رش بڑھ جاتا ہے۔
اس صورتحال میں بروقت شپمنٹ پہلے ہی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
ایکسپورٹرز کے مطابق نئی تاریخ سے برآمدی عمل مزید متاثر ہو سکتا ہے۔
سندھ کے زمینداروں کو بڑا نقصان
زمینداروں کے مطابق سب سے زیادہ نقصان صوبے کے کسانوں کو ہوگا۔
سندھ میں سندھڑی آم اس سال گزشتہ سال کے مقابلے میں پانچ سے دس دن پہلے تیار ہو رہا ہے۔
لوکل مارکیٹس میں آم کی آمد بھی شروع ہو چکی ہے۔
اگر برآمدات یکم جون سے شروع ہوئیں تو ابتدائی سیزن کا بہترین ریٹ کسانوں کو نہیں مل سکے گا۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب برآمدی منڈی میں منافع زیادہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
کراچی سرکلر ریلوے پھر بحال ہونے جارہا ہے؟
ہیٹ برسٹ وارننگ: کیا پاکستان میں راتیں بھی اب جان لیوا گرمی لے کر آ رہی ہیں؟
فوری نظرثانی کا مطالبہ
تاجروں اور کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ آم کوئی فائل نہیں کہ اس کی تاریخ آگے پیچھے کی جا سکے۔۔ یہ مکمل طور پر موسم، وقت اور معیار سے جڑا ہوا حساس پھل ہے۔
اگر بروقت پالیسی نہ بنائی گئی تو نقصان کسان، ایکسپورٹر اور ملکی برآمدات تینوں کو ہو سکتا ہے۔