اسٹیم سیل کانفرنس 2026 کراچی میں ماہرین نے ریجنریٹو میڈیسن، اسٹیم سیل ریسرچ اور جدید علاج پر اہم پیش رفت شیئر کی، پاکستان میں طبی تحقیق کے نئے امکانات۔

ویب نیوز رپورٹ: ماریہ اسمعیل
کراچی : پاکستان میں جدید طبی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے آغا خان یونیورسٹی نے اسٹیم سیل کانفرنس 2026 کراچی کی میزبانی کی، جسے قومی سطح پرایک اہم سائنسی اقدام قرار دیا جا رہا ہے ۔
اس کانفرنس میں سائنس دانوں، معالجین، پالیسی سازوں، ریگولیٹری اداروں اور صنعتی ماہرین نے شرکت کی اور ریجنریٹو میڈیسن، اسٹیم سیل ریسرچ اور ٹشو انجینئرنگ میں تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ۔
اسٹیم سیل کانفرنس 2026 کراچی کیوں اہم ہے؟
دنیا بھر میں ریجنریٹو میڈیسن بیماریوں کے علاج کے روایتی طریقوں کو تبدیل کر رہی ہے ۔ اسٹیم سیل کانفرنس 2026 کراچی نے خاص طور پرایسے ممالک کے لیے نئی امید پیدا کی جہاں صحت کے نظام کو غیر متعدی بیماریوں، محدود وسائل اور بڑھتے ہوئے مریضوں کے دباؤ کا سامنا ہے ۔
ماہرین نے اس بات پر زوردیا کہ جدید بایومیڈیکل تحقیق نہ صرف علاج کو بہتر بنائے گی بلکہ طویل مدتی نگہداشت کے نظام کو بھی مضبوط کرے گی ۔
ریجنریٹو میڈیسن: علاج سے آگے بحالی کی طرف سفر

کانفرنس کے چیئرمین اور آغا خان یونیورسٹی کے سینٹر فار
ریجنریٹو میڈیسن اینڈ اسٹیم سیل ریسرچ کے ڈائریکٹر سید اطہرانعام
کے مطابق، ریجنریٹو میڈیسن صرف بیماری کو کنٹرول کرنے تک
محدود نہیں بلکہ جسمانی افعال کی بحالی اور صحت کی مکمل
بحالی کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سائنسی مکالمے کا حصہ بنانا اور مقامی مسائل کے مطابق تحقیق کو فروغ دینا اس کانفرنس کا بنیادی مقصد تھا ۔
بین الشعبہ جاتی تعاون اور مضبوط نظام کی ضرورت
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ریجنریٹو میڈیسن میں پائیدار پروگرام بنانے کے لیے صرف انفرادی تحقیق کافی نہیں ۔
سائنسی اداروں کے درمیان تعاون
مؤثر ضابطہ کاری
طبی ضروریات اور تحقیق میں ہم آہنگی
یہ تمام عوامل جدید طبی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں ۔
صلاحیت سازی اور عملی تربیت پر خصوصی توجہ
اسٹیم سیل کانفرنس 2026 کراچی سے قبل عملی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا گیا ۔ ان ورکشاپس میں شرکاء کو اسٹیم سیل ریسرچ کے بنیادی اصولوں، لیبارٹری طریقہ کار اور جدید تحقیق کے عملی پہلوؤں سے روشناس کرایا گیا ۔
اس اقدام کا مقصد پاکستان میں مقامی مہارت کو مضبوط بنانا اور مستقبل کے لیے ہنر مند سائنسی افرادی قوت تیار کرنا تھا ۔

نوجوان محققین اور طلبہ کے لیے مواقع
کانفرنس کے دوران محققین اور طلبہ کو اپنے تحقیقی منصوبے پیش کرنے کا موقع دیا گیا ۔ اس سے نہ صرف نئی تحقیق کو فروغ ملا بلکہ بایومیڈیکل سائنس کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں رہنمائی اور تعاون کے مواقع بھی پیدا ہوئے ۔
یہ بھی پڑھیں
نیپاہ وائرس: کیا پاکستان خطرے میں ہے؟ اے کے یو ایچ ماہرین کی وضاحت
سانپ اور انسان کی فطرت کا حیران کن موازنہ: کیا انسان سانپ سے زیادہ چالاک ہے؟
پاکستان میں صحت کے مستقبل کے لیے نئی امید
ماہرین کے مطابق، اسٹیم سیل کانفرنس 2026 کراچی جیسے اقدامات پاکستان میں جدید طبی تحقیق، بیماریوں کے مؤثر علاج اور صحت کے نظام کی بہتری کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں ۔
یہ کانفرنس اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان عالمی سائنسی ترقی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے تیار ہے ۔



